پاکستان حکومت کے خلاف میڈیا اور سول سائٹی کی صف بندی
وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف پاکستانی میڈیا اور عوام کا غصہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ اس غصہ کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ایک بار پھر عوام کی سوچ اور اظہار رائے کی آزادی کو پوری طرح ختم کردینے کی کوشش کی گئی ہے۔ حکومت کے نشانہ پر اس بار ملک کا سوشل میڈیا ہے۔ اس نے اس کے لیے پاکستان الیکٹرانک کرائمس ایک، دوہزار سولہ میں ایک نئے ضابطے کو شامل کیا ہے۔ اس نئے ضابطہ کی رو سے فیس بک، انسٹا گرام سمیت متعدد دوسرے سوشل سائٹس پر اب کوئی بھی مواد حکومت کے متعلقہ محکمہ کی منظوری کے بغیر اپ لوڈ نہیں کیا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ تمام غیرملکی سروس پرووائیڈروں کو ایک سال کے اندر اپنا دفتر پاکستان میں کھولنا ہوگا تاکہ حکومت اور سروس پرووائیڈروں کے درمیان تال میل قائم ہوسکے۔
پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرنے کی یہ پہلی کوشش نہیں ہے بلکہ آزادی کے بعد سے اب تک جو بھی سیاسی گروہ یا طبقہ برسراقتدار رہا ہے اس نے کسی نہ کسی صورت میں حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہرآواز کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے سوشل میڈیا نہیں تھا۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اوراخبارات تھے، جنہیں آسانی سے دبایا جاسکتا تھا۔ لیکن سوشل میڈیا کی طاقت کا احساس وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف پارٹی سے بہتر کس کو ہوگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) جیسی پرانی سیاسی پارٹیوں کی موجودگی میں نوزائیدہ پاکستان تحریک انصاف پارٹی کا برسراقتدار آنا فوج اور سوشل میڈیا کی ہی کرامت ہے۔ تاہم سوشل میڈیا نے جب عمران خان کی حکومت کی خامیوں، ناکامیوں اور بدعنوانیوں کو عوام کے سامنے رکھنا شروع کیاتو یہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہوگیا۔
ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کے ذریعہ کیے گئے اقدامات کے خلاف پورے ملک میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حکومت کے ذریعہ بنائے گئے اس قانون کو سماج کے تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کالے قانون سے تعبیر کیا ہے۔ اس قانون کے خلاف پورا سماج اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ دنوں اسلام آباد میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ، اے پی این ایس، سی پی این ای، پی بی سی، کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان، پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، اسما جہانگیر لیگل ایڈسوسائٹی، آئی آر اے ڈی اے، ایس اے ایف ایم اے، پارلیمانی کمیشن برائے حقوق انسانی، میڈیا میٹر فار ڈیموکریسی اور متعدد دانشوروں نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا۔ کانفرنس میں صحافیوں، وکلاء، سیاست دانوں کے علاوہ دانشوروں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
کانفرنس کے تمام شرکاء نے نئے قانون پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف اپنی تحریک کو تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں انہوں نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے عوام تک صحیح خبروں کو پہنچنے سے روکا گیا ہے۔ ہرحکومت نے عوام کی آواز دبائی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے آئین میں دیے گئے حقوق کو پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ موجودہ قانون نہ صرف 1973 کے آئین کے آرٹیکل انیس میں شہریوں کو دی گئی ضمانت کی نفی کرتا ہے بلکہ پوری طرح غیر آئینی بھی ہے۔ پاکستان بار ایسوسی ایشن کے عابد تقی نے ملک کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی دخل اندازیوں کی وجہ سے پہلے سے ہی دو قانون رائج ہیں۔ ایک قانون تو وہ ہے جس کا اطلاق صرف دولتمند، بااثر افراد اور بڑی سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں پر ہوتا ہے جب کہ دوسرے قانون کا نفاذ عام شہریوں کے لیے ہوتا ہے۔ اس قانون کی وجہ سے اس پر عرصہ ٔحیات تنگ ہوجاتا ہے جب کہ ملک کے آئین میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ ایسی حالت میں نیاکالاقانون نہ صرف ملک کے عام شہریوں پر عرصہ ٔ حیات تنگ کردے گا بلکہ کوئی بھی حکومت اپنے مخالفین کے خلاف اس کا بے دریغ استعمال کرسکتی ہے۔
کانفرنس میں ایک رائے تو یہ بھی تھی کہ حکومت کو اختلاف رائے کو دبانے کی تگ ودو کرنے کی بجائے ملک میں پائیدار امن وقانون کی بحالی، ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور تباہ ہوچکی معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو اپنی مالی حالت کو سنبھالنے کی جولائی تک کی مہلت دی ہے۔ اس مدت میں اگر ملک کی معیشت نہیں سنبھلتی ہے تو وہ دن دور نہیں جب ملک ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں داخل ہوجائے گاجس سے نکلنے کی راہ کافی دشوار ہوگی۔ اس کا یہ قانون بھی اس کے کسی کام نہیں آئے گا اور وقت ہاتھ سی نکل چکا ہوگا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے قانون کو واپس لیا جائے بلکہ پاکستان الیکٹرانک کرائمس ایکٹ، دوہزار سولہ پر نظرثانی کرکے عوامی تشویش کو دور کیا جائے ورنہ احتجاج ومظاہروں کا سلسلہ دراز ہوتا جائے گا جس سے حکومت کی آئندہ کی راہ مزید دشوار گزار ہوجائے گی۔
پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرنے کی یہ پہلی کوشش نہیں ہے بلکہ آزادی کے بعد سے اب تک جو بھی سیاسی گروہ یا طبقہ برسراقتدار رہا ہے اس نے کسی نہ کسی صورت میں حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہرآواز کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے سوشل میڈیا نہیں تھا۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اوراخبارات تھے، جنہیں آسانی سے دبایا جاسکتا تھا۔ لیکن سوشل میڈیا کی طاقت کا احساس وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف پارٹی سے بہتر کس کو ہوگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) جیسی پرانی سیاسی پارٹیوں کی موجودگی میں نوزائیدہ پاکستان تحریک انصاف پارٹی کا برسراقتدار آنا فوج اور سوشل میڈیا کی ہی کرامت ہے۔ تاہم سوشل میڈیا نے جب عمران خان کی حکومت کی خامیوں، ناکامیوں اور بدعنوانیوں کو عوام کے سامنے رکھنا شروع کیاتو یہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہوگیا۔
ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کے ذریعہ کیے گئے اقدامات کے خلاف پورے ملک میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حکومت کے ذریعہ بنائے گئے اس قانون کو سماج کے تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کالے قانون سے تعبیر کیا ہے۔ اس قانون کے خلاف پورا سماج اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ دنوں اسلام آباد میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ، اے پی این ایس، سی پی این ای، پی بی سی، کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان، پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، اسما جہانگیر لیگل ایڈسوسائٹی، آئی آر اے ڈی اے، ایس اے ایف ایم اے، پارلیمانی کمیشن برائے حقوق انسانی، میڈیا میٹر فار ڈیموکریسی اور متعدد دانشوروں نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا۔ کانفرنس میں صحافیوں، وکلاء، سیاست دانوں کے علاوہ دانشوروں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
کانفرنس کے تمام شرکاء نے نئے قانون پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف اپنی تحریک کو تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں انہوں نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے عوام تک صحیح خبروں کو پہنچنے سے روکا گیا ہے۔ ہرحکومت نے عوام کی آواز دبائی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے آئین میں دیے گئے حقوق کو پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ موجودہ قانون نہ صرف 1973 کے آئین کے آرٹیکل انیس میں شہریوں کو دی گئی ضمانت کی نفی کرتا ہے بلکہ پوری طرح غیر آئینی بھی ہے۔ پاکستان بار ایسوسی ایشن کے عابد تقی نے ملک کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سیاسی دخل اندازیوں کی وجہ سے پہلے سے ہی دو قانون رائج ہیں۔ ایک قانون تو وہ ہے جس کا اطلاق صرف دولتمند، بااثر افراد اور بڑی سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں پر ہوتا ہے جب کہ دوسرے قانون کا نفاذ عام شہریوں کے لیے ہوتا ہے۔ اس قانون کی وجہ سے اس پر عرصہ ٔحیات تنگ ہوجاتا ہے جب کہ ملک کے آئین میں تمام شہریوں کو یکساں حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ ایسی حالت میں نیاکالاقانون نہ صرف ملک کے عام شہریوں پر عرصہ ٔ حیات تنگ کردے گا بلکہ کوئی بھی حکومت اپنے مخالفین کے خلاف اس کا بے دریغ استعمال کرسکتی ہے۔
کانفرنس میں ایک رائے تو یہ بھی تھی کہ حکومت کو اختلاف رائے کو دبانے کی تگ ودو کرنے کی بجائے ملک میں پائیدار امن وقانون کی بحالی، ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور تباہ ہوچکی معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو اپنی مالی حالت کو سنبھالنے کی جولائی تک کی مہلت دی ہے۔ اس مدت میں اگر ملک کی معیشت نہیں سنبھلتی ہے تو وہ دن دور نہیں جب ملک ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں داخل ہوجائے گاجس سے نکلنے کی راہ کافی دشوار ہوگی۔ اس کا یہ قانون بھی اس کے کسی کام نہیں آئے گا اور وقت ہاتھ سی نکل چکا ہوگا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے قانون کو واپس لیا جائے بلکہ پاکستان الیکٹرانک کرائمس ایکٹ، دوہزار سولہ پر نظرثانی کرکے عوامی تشویش کو دور کیا جائے ورنہ احتجاج ومظاہروں کا سلسلہ دراز ہوتا جائے گا جس سے حکومت کی آئندہ کی راہ مزید دشوار گزار ہوجائے گی۔
Comments
Post a Comment