شامی پناہ گزینوں کا المیہ اور سیاست کے کھیل


ان دنوں جہاں ایک طرف شام کے صوبہ ادلب میں حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں وہیں ترکی اور یوروپی یونین کے مابین الزامات اور جوابی الزامات کا ایک تازہ دور شروع ہو چکا ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ سیاست کے کھیل پناہ گزینوں کی زندگیوں کی قیمت پر کھیلے جا رہے ہیں۔

ابھی حال میں جہاں شامی فوجوں نے صوبہ ادلب میں باغی جماعت کے ایک ٹھکانے پر حملہ کیااور یہ صوبہ ان باغیوں کی آخری پناہ گاہ کہا جا رہا ہے، وہیں ان باغیوں کی مدد اور پشت پناہی کرنے والے ملک ترکی کی فوج نے ایک شامی طیارہ کو مار گرایا جس کے بعد دونوںملکوں کے بیچ مزید کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

لیکن اس پورے عمل کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ کوئی دس لاکھ افراد اپنے گھربار سے الگ ہو کر پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں اور خون کو منجمد کرنے والے جاڑے میں ایک ایسے خطے میں بھٹک رہے ہیں جہاں ان کو پتہ بھی نہیں کہ ان کو کدھر جانا ہے۔ انسانی المیہ اور بحران کا ایک روح فرسا منظر سامنے ہے۔

اس دوران ترکی کے صدر جناب رجب طیب اردگان نے یہ کہہ کر حالات کو ایک سنگین موڑدے دیا ہے کہ وہ ان پناہ گزینوں کو آگے بڑھنے سے نہیں روکیں گے جو ترکی کے راستے یوروپ میں پہنچنے کے خواہشمند اور اس کے لئے کوشاں ہیں۔ دوسری طرف آسٹریا نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ ترکی اپنی سرحدوں کو یوروپ جانے کے خواہشمند پناہ گزینوں کے لئے کھول کر یوروپی یونین کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

لیکن اس سلسلے میں حالات پر نظر رکھنے والی بعض تنظیموں کی طرف سے یہ بات کہی گئی ہے کہ ترکی نے بسوں میں بھر بھر کر پناہ گزینوں کو یونان اور بلغاریہ کی سرحدوں تک پہنچایا ہے جہاں پڑوسی ملکوں کے فوجی ان کو اپنی سرحدوں میں نہ آنے دینے پر آمادہ ہیں جبکہ ترکی کے فوجی ان پناہ گزینوں کو سنگینوں کے بل پر پیچھے مڑنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ یہی ان پناہ گزینوں کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ ضمناً ان پناہ گزینوں میں کچھ افغان شہری بھی شامل ہیں، لیکن ان میں سب سے بڑی تعداد خانہ جنگی کے سبب بے گھر ہونے والے شامی شہریوں کی ہی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ یوروپ بہت سے پناہ گزینوں اور مہاجروں کے لئے کافی کشش کا مرکز رہا ہے کیونکہ وہاں اقتصادی ، سیاسی اور سماجی حالات کل ملا کر بہت سے ایشیائی اور افریقی ملکوں سے بہتر رہے ہیں۔ نیز ، یہی وجہ ہے کہ شام ، عراق یا افغانستان جیسے جنگ یا خانہ جنگی سے متاثرہ ملکوں کے بہت سے افراد آج بھی یوروپ پہنچنے کے متمنّی ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ بات بھی درست ہے کہ بہت سے یوروپی ملک آج بری حالت میں ہیں اور یونان تو ابھی بھی اقتصادی بحران کی زد سے پوری طر ح باہر نہیں نکلا ہے۔ یہی صورت بعض سابقہ سوشلسٹ ملکوں کی ہے۔ ترکی سے لگا ہوا بلغاریہ بھی اسی زمرہ میں آتا ہے۔ 

اس صورت میں ترکی کے پڑوسی ملکوں کی یہ سوچ بھی بے بنیاد نہیں ہے ان پناہ گزینوں کی آمد سے ان کی اپنی معیشتیں متاثر ہو سکتی ہیں ، خاص کر جبکہ وہ خود بھی یوروپی یونین یا دوسری تنظیموں سے امداد پا رہے یا پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن اس صورت کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ جہاں اقوام متحدہ کی وہ تنظیمیں، جن کا سروکار پناہ گزینوں کی مدد یا ان کے انسانی حقوق کے تحفظ سے ہے،ناکام ثابت ہو چکی ہیں۔ آج یہ عالمی تنظیم ان پناہ گزینوں تک ضروری رسد اور سازو سامان پہنچا سکنے سے بھی قاصر ہے، ان کے حقوق کے تحفظ کی بات تو دور رہی۔

مغربی ایشیا کے حالات اور بالخصوص شام کی خانہ جنگی کو لے کر مذاکرات کی خواہ جو بھی اچھی بری کوششیں اب تک ہوئی ہوں ، حقیقت یہی ہے کہ حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ نیز بعض مبصرین کی رائے یہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست کے تقاضوں کے مد نظر سیریا میں خانہ جنگی کو جاری رکھنا چند بڑی قوتوں کے حق میں ہے اور اس لئے اس سلسلے میں پر امن حل نکالنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں ہو رہی ہے یا نہیں ہونے دی جا رہی ہے۔ دوسری طرف بعض مبصرین کی رائے میں ترکی جو یوروپی یونین یا او ای سی ڈی کی رکنیت پانے میں ناکام رہا ہے، یوروپی یونین کے لئے سردرد پیدا کرنے کی برابر کوشش کر رہا ہے۔

اس پورے عمل کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ سیریا کی خانہ جنگی کا کوئی حل شاید بڑی قوتوں کی کاوشوں سے ہی نکل سکتا ہے ۔ لہذا اس ضمن میں ایک قابل غور مشورہ یہ ہو سکتا ہے کہ سیریا، ترکی اور آس پاس کے متاثرہ ملکوں کی ایک کانفرنس اقوام متحدہ کی نگرانی میں منعقد کی جائے ۔ اس عمل میں ان ملکوں کی بھی تخلیقی حصہ داری ہو سکتی ہے جو سکیورٹی کونسل کے ممبر بھلے نہ ہوں مگر جن کا دنیا کے مختلف حصوں میں حفظ ِامن کی سرگرمیوں میں ایک نمایاں رول رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ