امریکہ افغانستان امن معاہدہ :توقعات اور اندیشے


افغانستان میں امن واستحکام کی بحالی کیلئے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے دو روز بعد طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان ڈیفنس سیکیوریٹی اینڈ ڈیفنس فورسز کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کررہے ہیں۔ 9 دور کے مذاکرات کے بعد طویل عرصے سے متوقع امن معاہدے پر امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اور طالبان کے نائب رہنما ملا عبدالغنی برادر نے دوحہ، قطر میں دستخط کیے۔ اس امن معاہدے کے چار اہم عناصر ہیں : جنگ بندی، غیرملکی افواج کی واپسی، بین افغان مذاکرات اور انسداد دہشت گردی کیلئے یقین دہانی۔ اس معاہدے میں امریکہ نے اتفاق کیا ہے کہ اس کی افواج کی واپسی دس دن کے اندر شروع ہوجائے گی اور 135 دن کے اندر واپسی کے بعد وہاں آٹھ ہزار 600 فوجی باقی رہ جائیں گے۔ معاہدے میں یہ بھی طے پایا کہ 14 ماہ کے اندر امریکی فوجوں کی افغانستان سے مکمل واپسی ہوجائے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ طالبان کو فوری اور نمایاں تقویت دینے کیلئے 20 مارچ تک 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کردیا جائے۔ مزید برآں واشنگٹن نے اگلے ماہ کے اندر بقیہ قیدیوں کی رہائی سے بھی اتفاق کیا۔ تاہم اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پراندیشے اور توقعات پیدا ہوئی ہیں ، اس خوف کا تعلق افغان عوام اور بیرونی دنیا کے تئیں طالبان کے سخت گیر نظریے اور بنیاد پرست گروپوں کے ساتھ ان کے روابط سے ہے۔ بہت سے لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کے بعد سلامتی کا ایک خلا پیدا ہوجائیگا جس کا نتیجہ پورے جنوب ایشیائی خطے میں عدم استحکام کی شکل میں ظاہر ہوگا۔ 

حالانکہ افغانستان کی واضح اکثریت نے اس امن عمل کی حمایت کی ہے لیکن بین افغان مذاکرات کے دوران کئی اُمور تصفیے کے طالب ہیں جن میں اقتدار کی تقسیم ، طالبان کو غیرمسلح کرنے اور طالبان جنگجوؤں کو افغان سول معاشرے سے جوڑنا شامل ہے۔ ملک کے جمہوری اداروں اور ا س کے آئین کے مستقبل کو طے کیا جانا بھی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اس کے علاوہ نسلی، طبقاتی اور قبائلی اختلافات سے متاثر افغانستان میں کمزور مرکزی حکومت سے اس عمل میں پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ گزِشتہ 18 برس کے دوران کسی مرحلے کے مقابلے میں اب طالبان کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دےرہے ہیں۔ ملک میں تخمیناً60 ہزار جنگجوؤں کی وجہ سے اس گروپ کا پورے ملک کے کئی اضلاع پر کنٹرول ہے اور وہ کابل اور افغان افواج کے اڈوں پر زبردست حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ 

تاہم طالبان کے مختلف دھڑوں اور دوسرے گروپوں نے امن مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے اور وہ امریکی افواج پر حملے جاری رکھ سکتے ہیں جس کی وجہ سے امن معاہدہ متاثر ہوسکتا ہے۔ طالبان اس وقت تک کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات مسترد کرچکے ہیں جب تک کہ ان کے 5ہزار قیدی رہا نہیں کردیے جاتے جبکہ صدر اشرف غنی کی حکومت ان قیدیوں کو رہا کرکے اپنے خطرناک دشمن کو طاقت نہیں پہنچانا چاہتی ہے۔ پورے ملک میں مسلسل حملوں ، طالبان کی جانب سے ایک ممکنہ نئی کمان اور طالبان قیدیوں کی رہائی پر عدم اتفاق سے امن عمل کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ 

پاکستان نے ان مذاکرات میں طالبان کی معاونت اور امریکہ کی مدد کی تھی، اس نے کھلے دل سے اس معاہدے کا خیرمقدم تو کیا ہے مگر وہ اس کو اس وقت تک کامیاب نہیں ہونے دے گا جب تک امریکہ، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں اس کی مدد نہیں کرے گا، حالانکہ جرمنی اور ناروے نے مستقبل کے مذاکرات کی میزبانی کی پیش کش کی ہے مگر ابھی تک ان کے لئے کسی مقام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ امن معاہدہ، ا ب بھی حتمی نہیں ہے۔ افغانستان کے ناقابل اعتبار سیاسی اور سلامتی منظرنامے کی وجہ سے میدان جنگ اور مذاکرات کی میز دونوں جگہ پر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ 

ہندوستان ، افغانستان کا ایک مضبوط حامی رہا ہے اور وہ اس ملک کے بنیادی ڈھانچے کے فروغ کے لئے تین بلین ڈالر دینے کے لئے عہدبستہ ہے۔2001 سے اس نے اس ملک کے ساتھ تجارت کو فروغ دیا ہے۔ جنگ سے متاثرہ ملک کے تعلیم اور صحت کے شعبے کی تشکیل نو کے لئے نئی دہلی نے اپنا تعاون دیا ہے۔ اس کا اہم مقصد، اس ملک پر پاکستان کے اثر ورسوخ کو کم کرتا اور اس کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے بچانا ہے۔ 

طالبان کے تعلق سے ہندوستان کا موقف واضح ہے۔ اس نے ایک سیاسی پارٹی کے بطور اس گروپ کو قابل جواز ٹھہرانے سے کبھی اتفاق نہیں کیا ہے۔ نئی دہلی حکومت افغانوں کے زیرقیادت اور افغانوں کے زیر ملکیت ایک ایسے امن ومصالحتی عمل کی حمایت کرتی ہے جس سے دیرپا امن بحال ہوسکے۔ ہندوستان افغانستان کو ایک متحد، خود مختار، جمہوری،شمولیت پر مبنی ،مستحکم اور خوشحال ملک دیکھنا چاہتا ہے۔ وہاں دیرپا امن اسی صورت میں بحال ہوسکتا ہے جب بین الاقوامی برادری، 2001 سے اب تک کی حصولیابیوں کے تحفظ کے لئے افغانستان کی مدد کرے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ