امریکہ طالبان سمجھوتے پر عمل درآمد کی راہ میں مشکلات


امریکہ اور طالبان کے درمیان سمجھوتے پر دستخط ہوئے ابھی چند روز ہی گزرے ہیں کہ یہ خبر بھی آگئی کہ شمالی افغانستان میں طالبان کے ایک حملے میں تین لوگ ہلاک ہوگئے۔ دراصل طالبان اپنے پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی کو افغان حکومت سے مذاکرات کی پہلی شرط مانتا ہے۔طالبان اپنے پانچ ہزار قیدیوں کے بدلے ایک ہزار قیدیوں کو بھی اپنی حراست سے رہا کرنے کو تیار ہے۔ سمجھوتے کے سلسلے میں ایک لمبے عرصے تک امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہوئی اور بات چیت کے درمیان شدید بحران بھی پیدا ہوئے۔ ایک مرحلہ وہ بھی آیا جب لمبے عرصے تک چلنے والی بات چیت کو اچانک درمیان ہی میں صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے منسوخ بھی کردیا تھا جس کے بعد مایوسی اور ناامیدی کا ماحول پیدا ہوگیا تھا ۔ بہرحال گفتگو کا سلسلہ حال ہی میں ایک بار پھر شروع ہوا اور سنیچر یعنی 29فروری کو امریکہ کی طرف سے وہاں کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد اور طالبان کے سیاسی سربراہ ملا عبد الغنی برادر نے معاہدے پر دستخط کئے۔ یہ سمجھوتہ قطر کی راجدھانی دوحہ میں ہوا اور اس موقع پر امریکی وزیرخارجہ مائیک پامپیو بھی وہاں موجود تھے۔ اس سمجھوتے کے بعد افغانستان سے امریکی فوجوں کی مکمل واپسی کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ اگلے 14مہینوں کے درمیان غیر ملکی فوجوں کی واپسی کا کام مکمل ہوجائے گا۔ لیکن اس سمجھوتے کے حوالے سے ابھی بہت سارے ‘‘اگر’’ اور ‘‘مگر’’بھی جڑےہوئے ہیں۔ جیسا کہ خود امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا کہ یہ سمجھوتہ منزل کی جانب ایک اچھا قدم ہے لیکن یہ صرف شروعات ہے،راستہ بہت آسان بھی نہیں ہوگا۔ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لئے بڑے تحمل کی ضرورت پیش آئے گی اور کچھ فریقوں کو کہیں کہیں سمجھوتے بھی کرنے پڑیں گے۔ مسٹر مارک ایسپر نے یہ بات کابل میں کہی جہاں انہوں نے افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے ملاقات کی۔ وہاں دونوں لیڈروں نے بھی سمجھوتے کے سلسلے میں مشترکہ بیان جاری کیا۔ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا گیا کہ اس سمجھوتے کے تعلق سے ابھی بہت سارے اندیشے اور وسوسے بھی موجود ہیں لیکن کچھ امیدیں بھی وابستہ ہیں۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ کم وبیش دو تہائی پر محیط افغانستان میں لڑی جانے والی امریکہ کی یہ طویل ترین جنگ ختم ہوسکتی ہے اور پائیدار امن کی امید کی جاسکتی ہے۔ امریکہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس نے یہ عہد کیا ہے کہ وہ 135دن کے اندر اندر 13ہزار فوجیوں میں سے 8600کو واپس بلا لے گا۔ اس کے علاوہ وہ اپنے اتحادیوں سے بھی بات کر رہا ہے کہ وہ بھی کولیشن فورسز کی تعداد گھٹائیں ۔ مشترکہ بیان میں یہ بات بھی درج ہے کہ اگر طالبان بھی اپنے عہد پر قائم رہا اور سمجھوتے کا پاس کیا تو سمجھوتہ پر دستخط ہونے کے 14ماہ کے اندر اندر تمام غیر ملکی فوجیں افغانستان سے واپس چلی جائیں گی۔ ادھر سمجھوتہ ہونے سے چند گھنٹے قبل طالبان نے بھی اپنے جنگجوؤں کو ہدایت دی تھی کہ وہ کسی طرح کے حملے سے گریز کریں اور ایسا کچھ نہ کریں جس سے افغانستان کو نقصان پہنچے۔ افغانستان کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پورے وثوق کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سمجھوتہ کس حد تک کامیاب ہوگا۔ کیونکہ طالبان کے طریقۂ کار کے بارے میں بہت بڑے حلقے کو یہ شبہہ ہے کہ غیرملکی فوجیوں کی واپسی کے بعد اندرون افغانستان ان کا رویہ دوسرے حلقوں کے تئیں مساویانہ نہیں ہوگا اور وہ ہر حال میں اپنی برتری قائم کرنا چاہئیں گے۔ افغانستان میں تعینات خصوصی امریکی فورسز کے ایک سابق مشیر سیٹھ جونس نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ امریکی فوجیوں کی مکمل واپسی کے بعد امکان یہ بھی ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی ایک دوسری پناہ گاہ بن جائے کیونکہ ان کے مطابق طالبان کے اب بھی القاعدہ سے بڑے گہرے روابط ہیں۔ اس قسم کا اندیشہ خود امریکہ کے موجودہ وزیر دفاع مارک ایسپر نے بھی دبے لفظوں میں ظاہر کیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے سمجھوتہ کو ایک امید افزا واقعہ قرار دیا ہے اور کہا کہ امریکہ اپنی عہد بستگیوں پر پورے طور پر قائم رہے گا لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب طالبان بھی اپنے وعدے پوری طرح نبھائیں گے۔ اگر انہوں نے ذرا بھی وعدہ خلافی کی تو امریکہ کو اس سمجھوتے کو منسوخ کرنے میں قطعی پس وپیش نہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ افغانستان کی سیکورٹی فورسز کو ہر طرح کی حمایت فراہم کرے گا۔ 

غرضیکہ امریکہ۔طالبان سمجھوتے کے تعلق سے امیدیں بھی ہیں اور کچھ نامعلوم اندیشے بھی۔ ہندوستان، افغانستان کا ایک دوست اور بہی خواہ ملک ہے ۔ اس نے اس سمجھوتے کا استقبال کیا ہے لیکن اس سمجھوتے کے بعض فریقوں سے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ دہشت گردی کو بڑھاوا نہ ملے۔ عین اسی وقت جب دوحہ میں سمجھوتے سے متعلق تیاریاں ہو رہی تھیں، ہندوستان کے خارجہ سکریٹری ہرش شرنگلا نے افغان صدر اور بعض دوسرے لیڈروں سے کابل میں ملاقات کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان سیاسی ، اقتصادی اور ترقیاتی پروجیکٹوں میں بھرپور تعاون افغانستان کے ساتھ کرتا رہے گا۔ اس نے افغانستان کی تعمیر نو میں ہر قدم پر اس کا ساتھ دیا ہے اور مستقبل میں بھی اشتراک وتعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ ہندوستان ایک مستحکم اور خود مختار افغانستان کے کاز کی ہمیشہ حمایت کرتا رہا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ دہشت گردی کا سلسلہ ختم ہو اور وہاں قانون اور آئین کو بالادستی حاصل ہو۔ وہ چاہتا ہے کہ افغانستان کی قسمت کا جو بھی فیصلہ ہو ، اس فیصلے کا حق خود افغانستان کو حاصل ہو اور وہیں کے عوام اور ان کی سلامتی کے لئے ہو۔ امید یہی کی جانی چاہئے کہ کم وبیش 4دہائی سے افراتفری اور خون خرابے کا شکار افغانستان اب چین کی سانس لے گا اور حالات بہتر ہوں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ