پاکستان میں ذمہ داری کے احساس کا فقدان


اچھی باتیں کرنا جتنا آسان ہوتا ہے اچھا عمل کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ عمران خان عام انتخابات سے قبل بڑی بڑی باتیں کیا کرتے تھے، بدعنوانی ختم کرنے اور سیاسی نظام کو شفاف بنانے کی یقین دہانی کرایا کرتے تھے، پاکستان کو مستحکم بنانے کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ان کی باتوں پر لوگوں نے کسی حد تک یقین کیا، پاک فوج نے ہر طرح سے ان کا ساتھ دیا اور وہ پاکستان کے وزیراعظم بھی بن گئے۔ انہیں فتح یاب کرانے کے لیے فوج نے جس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے، اس سے پاکستان کے کئی لوگ خوش نہیں تھے مگر کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو عمران خان کو سیاست میں تازہ ہوا کا جھونکا مانتے تھے لیکن عمران کی یہ بڑی ناکامی ہے کہ 18 مہینے کی حکومت میں ان لوگوں کو بھی انہوں نے مایوس کر دیا۔ حکومت سے پاکستان کے اکثر لوگوں کی مایوسی کی وجہ یہ ہے کہ باتوں کی حد تک ہی پاکستانیوں کو اقتصادی طور پر خوشحال بنانے میں عمران کا جوش نظر آتا ہے، ورنہ انہوں نے اپنی توجہ سیاسی حصولیابیوں اور حریفوں کو زیر کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے۔ بدعنوانی کو وہ ایک آلے کے طور پر اپوزیشن لیڈروں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے لیڈر اور پاک وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بدعنوانی کے معاملے میں گرفتار کیا گیا۔ ان کے خلاف بڑے بڑے دعوے کیے گئے لیکن شاہد خاقان عباسی کی خاموش اور مثبت سیاست نے عمران حکومت اور نیب کو پریشان کر دیا۔ انہوں نے ضمانت کی عرضی داخل کرنے میں جلد بازی نہیں دکھائی، نیب کو پورا موقع دیا کہ وہ ان کے خلاف الزام کو ثابت کرے مگر 7 ماہ تک شاہد خاقان عباسی کے جیل میں رہنے کے باوجود ان کے خلاف خاطر خواہ ثبوت فراہم نہیں کیا جا سکا اور عدالت کو انہیں ضمانت پر رہا کرنا پڑا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے لیڈر احسن اقبال پر بھی بدعنوانی کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے بھی عمران حکومت کو الزام ثابت کرنے کا پورا موقع دیا۔ وہ پیشی پر عدالت میں حاضر ہوتے تو نیب کے افسران نروس اور کمزور نظر آتے تھے مگر احسن اقبال کے لبوں پر مسکراہٹ رہا کرتی تھی۔ یہ مسکراہٹ بہت کچھ کہہ دیتی تھی۔ انہیں بھی عدالت کو ضمانت پر رہا کرنا پڑا، کیونکہ ان کے خلاف بھی الزام ثابت کرنے کے لیے ثبوت نہیں تھے۔ ایک اور معاملہ میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کا ہے۔ مریم نے جون 2019 میں فیصل آباد اور پاک پٹن سمیت کئی شہروں میں عوامی اجلاسوں سے خطاب کیا۔ ان کے دوروں کی میڈیا کوریج نہیں ہوتی تھی، پاکستان مسلم لیگ نواز کو ان کے بینر لگانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے باوجود مریم نواز جہاں جاتی تھیں، ایسا لگتا تھا پورا شہر ان کے ساتھ ہو۔ اگست 2019 کوانہیں گنا ملوں کے معاملے میں گرفتار کر لیا گیا مگر 6 ماہ بعد بھی ان کے خلاف نہ کوئی کیس ہے، نہ کوئی ریفرنس ۔ ایسی صورت میں اس سوال کا اٹھنا فطری ہے کہ پھر انہیں گرفتار کیوں کیا گیا؟ ان کے بیرونی ممالک جانے پر پابندی عائد کیوں ہے؟ ان معاملوں سے عمران حکومت کی شبیہ تو مسخ ہو ہی رہی ہے، نیب کی امیج بھی خراب ہو رہی ہے، اس پر سے لوگوں کا اعتماد اٹھ رہا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے لیے سب سے بڑی پریشانی کی بات یہ ہے کہ گرفتاریوں سے اپوزیشن لیڈران گھبرا نہیں رہے۔ وہ بغیر کچھ کہے، ضمانت کی عرضی دینے میں جلد بازی نہ کرکے عوام کو یہ دکھا رہے ہیں کہ عمران حکومت کے لیے بدعنوانی ایک آلہ ہے اپوزیشن لیڈروں کو بدنام کرنے، ان کی شبیہ خراب کرنے کا۔ بدعنوانی کے الزامات میں اپوزیشن لیڈروں کی گرفتاریاں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے کی جا رہی ہیں۔ عمران خان بدعنوانی کو ختم کرنے کے تئیں اگر واقعی سنجیدہ ہوتے تو ان کی حکومت کارروائی کرتے وقت اپنے پرائے کی تفریق نہیں کرتی، بدعنوانی کے الزامات تحریک انصاف پارٹی کے جن لیڈروں پر عائد کیے گئے ہیں، ان کے خلاف بھی کارروائی کی جاتی، اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں پر بھی بدعنوانی کے معاملوں میں کارروائی ہوتی مگر ایسا نہیں ہے۔ عمران خان کو عوام کا دل جیتنے کے لیے مفاد عامہ کے کاموں پر توجہ دینی چاہیے لیکن انہوں نے پوری توجہ اپوزیشن لیڈروں کو بدنام کرنے پر موکوز کر رکھی ہے۔ ایسی صورت میں ان کی حکومت سے عوام کا مایوس اور ناراض ہونا فطری ہے۔ عوام حد سے زیادہ ناراض ہو گئے تو اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی بھی کی حکومت کو نہیں بچا پائے گی، یہ بات عمران جتنی جلد سمجھ لیں، ان کے لیے بھی اچھا ہوگا، پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کے لیے بھی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ