پاکستان میں مذہبی سیاسی گروپ حکومت کے زیراثر
مملکت خداداد پاکستان، جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے یہ ملک مذہب کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا۔ جہاں اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر مساوات پر مبنی فلاحی اور منصفانہ نظام حکومت قائم ہوسکے۔ یہ خیال ہے کہ پاکستان کی تمام اسلام پسند یا اسلام کی نام لیوا مذہبی سیاسی پارٹیوں کا جب کہ قیام پاکستان کے بعد بانیٔ پاکستان محمد علی جناح نے قوم کے نام اپنے پہلے خطاب میں ایک ایسے پاکستانی سماج کا خاکہ پیش کیا تھا جس میں سماج کے تمام طبقات کے مابین بقائے باہم کا جذبہ پیداہو۔ سماج میں مذہب، ذات، برادری، لسانی اور علاقائی عصبیت کی کوئی گنجائش نہ رہے، لیکن سماج میں ایک طبقہ ایسا تھا جو کسی نہ کسی حالت میں حکومت پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ یہ طبقہ تھا پاکستان میں اسلام کا نام لینے والوں کا۔ ان کے علاوہ اعتدال پسند اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاستداں بھی تھے ۔ بائیں بازو یا ترقی پسندوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ملک میں ایک غیر جانبدار نظام حکومت قائم ہو لیکن اس طبقے کی کوششیں دوسرے ملکوں کی طرح کامیاب نہیں رہیں۔ انہیں کمیونسٹ یا لادین قرار دے کر خاموش کیاجاتا رہا۔
جنرل ضیاءالحق کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جہاں ملک کا اعتدال پسند طبقہ حاشیہ پر پہنچ گیا وہیں مذہبی گروپوں کی حکومت اور انتظامیہ پر گرفت مضبوط ہوتی گئی۔پڑوسی ملک افغانستان میں روسی فوجوں کی آمداور وہاں کی بادشاہت کے خاتمہ یعنی شاہ ظاہر شاہ کی جلاوطنی کے بعد ملک میں جس طرح کے حالات پیدا ہوئے اس نے نہ صرف مجاہدین پیدا کیے بلکہ سرحد پار سے دہشت گردی کا لامتناہی سلسلہ بھی شروع کردیا۔ نئی صورت حال میں پاکستان کے حکمرانوں نے دہشت گردی کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنالیا۔ ان کی یہ پالیسی افغانستان سے روسی فوج کے انخلاکے بعد بھی جاری رہی۔ اسی پالیسی کے نتیجے میں پاکستان میں نہ صرف دہشت گرد اور عسکری تنظیمیں وجود میں آئیں بلکہ ان کے تربیتی کیمپ اور ٹھکانے بھی قائم ہوگئے۔ ان میں صرف افغان مجاہدین ہی شامل نہیں ہوئےبلکہ پاکستان کے مذہبی گروپوں نے بھی اپنے اپنے علاحدہ عسکری گروپ قائم کرلیے۔ حزب المجاہدین، لشکر جھنگوی، لشکراسلامی، لشکرطیبہ، پاکستان تحریک طالبان، جماعت الاحرار اور جماعت الدعوہ جیسی دہشت گرد تنظیمیں وجود میں آئیں۔ مذہبی انتہاپسند گروپوں کی حکومت پر گرفت کی اس سے بہتر مثال کیا ہوگی کہ خود پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ان دہشت گردوں کو تربیت دیتی ہے اور انہیں فنڈ بھی مہیاکراتی ہے۔ حکومت پاکستان، خواہ وہ کسی بھی سیاسی پارتی سے تعلق رکھتی ہو، ان سرگرمیوں سے اپنی آنکھیں موندے رکھتی ہے۔
دہشت گردی، اس دو دھاری تلوار کی مانند ہوتی ہےجو اپنے اورپرائے میں کوئی فرق نہیں کرتی۔ پاکستان میں ایک دور وہ بھی تھا جب مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے آپس میں ہی دست وگریباں تھے۔ مسجدوں میں خودکش حملے عام تھے۔ خودکش حملہ آوروں کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ ان کی ہلاکت خود کشی نہیں بلکہ اسلام کی بالادستی قائم کرنے کی راہ میں قربانی ہوگی۔ وہ سیدھے جنت میں جائیں گے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں یہ کہیں نہیں بتایاگیا ہے کہ بے گناہوں کا خون بہانے سے جنت ملتی ہے، یہ صریحا ہلاکت ہے۔
غلط نظریات اورپالیسیوں کی وجہ سے آج پاکستان خود اپنے بنائے گئے دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ یہ دہشت گرد وقتا فوقتا بے گناہوں کا خون بہاتے رہتے ہیں۔ان کی یہ کارروائیاں نہ صرف عالمی برادری میں پاکستان کو الگ تھلگ کررہی ہیں بلکہ پاکستان کی معیشت بھی پوری طرح تباہ ہوچکی ہے۔ دوسری جانب دہشت گردی کی نگرانے کرنے والے بین الاقوامی ادارے نے پاکستان کو اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے اور دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے جون 2020 تک کی مہلت دی ہے۔ دوسری صورت میں وہ اسے اپنی بلیک لسٹ میں شامل کرلے گا۔ ایسی حالت میں کوئی بھی ملک اس کے ساتھ کوئی کاروبار کرے گا اور نہ ہی پاکستان میں کسی قسم کی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے کافی پریشان کن ہوگی۔ اس لیے اگر پاکستان یہ چاہتا ہے کہ اس کے خلاف کسی قسم کی پابندی عائد نہ ہوتو اسے اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا پورے طورپر صفایا کرنا ہوگا اور مذہبی انتہاپسندی پر روک لگانی ہوگی۔
Comments
Post a Comment