بلوچ عوام کے خواب
پاکستان پوری دنیا میں خود کو انسانیت اور حقوق انسانی کے علمبردار کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اسے اسلامی مملکت ہونے کا بھی زعم ہے، لیکن کیا اس کے یہ تمام عوے درست ہیں یا صرف خام خیالی ہے۔ جہاں تک اس کی انسانیت نوازی یا حقوق انسانی کی پاسداری کا تعلق ہے تو اس کے لئے اس نے اپنے تمام پڑوسی ملکوں کے لئے ایک اصول وضع کررکھا ہے۔ جن کے ذریعے وہ اور اس کی پروردہ تنظیمیں افغانستان، ہندوستان، روس ، وسط ایشیائی ممالک اور چین میں حقوق انسانی کے تعلق سے انگلیاں اٹھاتی رہی ہیں۔ صرف پاکستان کے پڑوسی ممالک ہی نہیں بلکہ دور دراز کے غیر مسلم اور سیکولر ممالک بھی پاکستانیوں کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہیں۔
پاکستان کےدعووں پر غور کرنے سے قبل خود پاکستان کے اندرونی حالت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کیا پاکستان کے اندرونی علاقے پوری طرح پرامن ہیں۔ کیا خود مملکت خداداد میں کسی بھی فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوتی؟ کیا پنجاب، سندھ، صوبہ سرحد، بلوچستان یا گلگت اور بلتستان کے علاقے کے عوام وجود پاکستان سے خوش ہیں یا آزادی کے ستر سال بعد بھی آزادی وطن کی خوشگوار ہوا انہیں چھوکر نہیں گزری ؟۔
ان گزشتہ ستربرسوں میں پاکستان میں کئی ایسے علاقے نظر آتے ہیں جہاں کے عوام آزادی کے لئے اب بھی ترس رہے ہیں۔ صوبہ سرحد میں معدنیات کی دولت سے اب بھی وہاں کے عوام محروم ہیں۔ بلوچستان کے عوام جن حالات سے آٹھ دہائی قبل دوچار تھے آج بھی انہیں انہی حالات کا سامنا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام خود کو پاکستان کے نوآبادی علاقے کا مکین ہی سمجھتے ہیں۔ اپنی حقیقی آزادی اور خودمختاری کے لئے ان علاقوں اور خطوں کے عوام آج بھی جدوجہد کررہے ہیں اور دوسری طرف پاکستان کی حکمراں ٹولی اور وہاں کی فوج بلوچستان اور صوبہ سرحد کے زرخیز علاقوں میں قانون اور نظم ونسق کی بحالی کے نام پر ظلم وزیادتی اور جبرواستبداد کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ بغاوت کے نام پر نہ صرف ان کے انسانی حقوق کو پامال کررہی ہے بلکہ ان کا خون ناحق بھی بہارہی ہے۔
جہاں تک بلوچستان کے عوام کے ایک صدی پرانے خواب کا تعلق ہے تو وہ ملک کی آزادی کے بعد گزری دہائیوں میں بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا ہے۔ ایک صدی قبل یعنی 1931 میں اس خطے کے عوام او رخصوصاً نوجوانوں نے ایک خواب دیکھا تھاجس میں ان کے یہاں سرداری نظام ختم ہوجائے گا۔ پختونوں کے چھوٹے چھوٹے علاقوں کو ملاکر بلوچستان بنے گا،جہاں جمہوری نظام حکومت قائم ہوگی اور آئین کی حکمرانی ہوگی۔ جس کے تحت کسی کا بھی استحصال نہیں ہوسکے۔ سیاہ کاری نام کی برائی سماج سے دور ہوگی۔ کسی بھی خاتون کا ختنہ نہیں کیا جائیگا بلکہ تعلیم نسواں کو فروغ دیا جائے گا۔ کوئی قانون اپنی مرضی کے خلاف جبراً دشمن کے گھر نہیں پہنچائی جائے گی۔ نہ صرف سماج میں اسے عزت کا مقام حاصل ہوگا بلکہ شریعت کے مطابق موروثی جائیداد میں اس کا بھی حصہ ملے گا۔
کیا عوام کی یہ تمام خواہشیں، مہذب سماج میں ظاہر کی جاسکتی ہیں یا انہیں ملک سے بغاوت کا نام دیاجائیگا۔ دور غلامی میں ان کی ان خواہشوں کو دبانے اور کچلنے کا سلسلہ جو 1933 میں شروع ہوا تھا وہ آج بھی جاری ہے۔ فوجی کارروائیوں اور بلوچ رہنماؤں کی قربانیوں کے باوجود بلوچ عوام کے خواب آج بھی تازہ ہیں اور وہ انہیں شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے آج بھی جدوجہد کررہے ہیں۔ان کا خواب مرا نہیں بلکہ آج بھی زندہ ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے حکمراں اور خصوصیت کے ساتھ وزیراعظم عمران خان، دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی بجائے اپنے ملک کے خصوصاً بلوچستان کے عوام پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی بجائے ان کے مسائل اور ان کی شکایات کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کریں اور مقبوضہ علاقوں کو نو آبادی تصور کرنے کی غلطی نہ کریں۔ ورنہ دہشت گردی کی جس عفریت کو پال پوس کر وہ دنیا میں پھیلارہے ہیں، اس کی گرفت میں خود ان کا ملک بھی آگیا ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل اپنی بقا کے لئے دنیا کے دوسرے ملکوں کی جانب امید بھری نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ مہذب دنیا بھی پاکستان کی جانب تشویش بھری نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ اس سے قبل کہ پانی سر کے اوپر سے گزرنے لگے، اپنے ملک کے عوام کا استحصال کرنے کی بجائے انہیں بھی عزت اور باوقار زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کریں۔
پاکستان کےدعووں پر غور کرنے سے قبل خود پاکستان کے اندرونی حالت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کیا پاکستان کے اندرونی علاقے پوری طرح پرامن ہیں۔ کیا خود مملکت خداداد میں کسی بھی فرد کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوتی؟ کیا پنجاب، سندھ، صوبہ سرحد، بلوچستان یا گلگت اور بلتستان کے علاقے کے عوام وجود پاکستان سے خوش ہیں یا آزادی کے ستر سال بعد بھی آزادی وطن کی خوشگوار ہوا انہیں چھوکر نہیں گزری ؟۔
ان گزشتہ ستربرسوں میں پاکستان میں کئی ایسے علاقے نظر آتے ہیں جہاں کے عوام آزادی کے لئے اب بھی ترس رہے ہیں۔ صوبہ سرحد میں معدنیات کی دولت سے اب بھی وہاں کے عوام محروم ہیں۔ بلوچستان کے عوام جن حالات سے آٹھ دہائی قبل دوچار تھے آج بھی انہیں انہی حالات کا سامنا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام خود کو پاکستان کے نوآبادی علاقے کا مکین ہی سمجھتے ہیں۔ اپنی حقیقی آزادی اور خودمختاری کے لئے ان علاقوں اور خطوں کے عوام آج بھی جدوجہد کررہے ہیں اور دوسری طرف پاکستان کی حکمراں ٹولی اور وہاں کی فوج بلوچستان اور صوبہ سرحد کے زرخیز علاقوں میں قانون اور نظم ونسق کی بحالی کے نام پر ظلم وزیادتی اور جبرواستبداد کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ بغاوت کے نام پر نہ صرف ان کے انسانی حقوق کو پامال کررہی ہے بلکہ ان کا خون ناحق بھی بہارہی ہے۔
جہاں تک بلوچستان کے عوام کے ایک صدی پرانے خواب کا تعلق ہے تو وہ ملک کی آزادی کے بعد گزری دہائیوں میں بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا ہے۔ ایک صدی قبل یعنی 1931 میں اس خطے کے عوام او رخصوصاً نوجوانوں نے ایک خواب دیکھا تھاجس میں ان کے یہاں سرداری نظام ختم ہوجائے گا۔ پختونوں کے چھوٹے چھوٹے علاقوں کو ملاکر بلوچستان بنے گا،جہاں جمہوری نظام حکومت قائم ہوگی اور آئین کی حکمرانی ہوگی۔ جس کے تحت کسی کا بھی استحصال نہیں ہوسکے۔ سیاہ کاری نام کی برائی سماج سے دور ہوگی۔ کسی بھی خاتون کا ختنہ نہیں کیا جائیگا بلکہ تعلیم نسواں کو فروغ دیا جائے گا۔ کوئی قانون اپنی مرضی کے خلاف جبراً دشمن کے گھر نہیں پہنچائی جائے گی۔ نہ صرف سماج میں اسے عزت کا مقام حاصل ہوگا بلکہ شریعت کے مطابق موروثی جائیداد میں اس کا بھی حصہ ملے گا۔
کیا عوام کی یہ تمام خواہشیں، مہذب سماج میں ظاہر کی جاسکتی ہیں یا انہیں ملک سے بغاوت کا نام دیاجائیگا۔ دور غلامی میں ان کی ان خواہشوں کو دبانے اور کچلنے کا سلسلہ جو 1933 میں شروع ہوا تھا وہ آج بھی جاری ہے۔ فوجی کارروائیوں اور بلوچ رہنماؤں کی قربانیوں کے باوجود بلوچ عوام کے خواب آج بھی تازہ ہیں اور وہ انہیں شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے آج بھی جدوجہد کررہے ہیں۔ان کا خواب مرا نہیں بلکہ آج بھی زندہ ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے حکمراں اور خصوصیت کے ساتھ وزیراعظم عمران خان، دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی بجائے اپنے ملک کے خصوصاً بلوچستان کے عوام پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی بجائے ان کے مسائل اور ان کی شکایات کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کریں اور مقبوضہ علاقوں کو نو آبادی تصور کرنے کی غلطی نہ کریں۔ ورنہ دہشت گردی کی جس عفریت کو پال پوس کر وہ دنیا میں پھیلارہے ہیں، اس کی گرفت میں خود ان کا ملک بھی آگیا ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل اپنی بقا کے لئے دنیا کے دوسرے ملکوں کی جانب امید بھری نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ مہذب دنیا بھی پاکستان کی جانب تشویش بھری نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ اس سے قبل کہ پانی سر کے اوپر سے گزرنے لگے، اپنے ملک کے عوام کا استحصال کرنے کی بجائے انہیں بھی عزت اور باوقار زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کریں۔
Comments
Post a Comment