اپنے ہی عوام کے تئیں پاکستان کی بے حسی
دنیا کے کسی بھی ملک یا وہاں کے اداروں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ملک و سماج کی ترقی اور فروغ کیلئے کام کریں۔ پاکستان کے تعلق سے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آیا وہاں کے ادارے ملک وسماج کیلئے کام کررہے ہیں یا خوداپنی اور حکومت کی پرورش کررہے ہیں۔ پاکستان نے اپنے وجود میں آنے کے بعد سے ہی اپنی سمت متعین نہیں کی۔ سماج کس نہج پر آگے بڑھے گا، اس کی تعمیر وترقی کس بنیاد پر ہوگی، وسائل کا استعمال کس طرح سے ہوگا، نظام تعلیم کیا ہوگا، حکومت اور اداروں کی عوام کے تئیں جوابدہی کیا ہوگی، غرض کہ کوئی بھی معاملہ واضح نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ملک کے قیام کا مقصد بھی واضح نہیں ہے۔ صورتحال واضح نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے عوام آج بھی تذبذب کے شکار ہیں۔ ایک طبقہ حکومت، اداروں اور وسائل پر قابض ہے اور ملک کے عوام کی حالت خستہ ہے۔ ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں جاگیر دارانہ نظام کا خاتمہ ہوگیا ہے لیکن پاکستان نے اسے اب بھی ترک نہیں کیا ہے۔ سرکاری اداروں میں بیٹھے لوگوں کا ملک کے بڑے وسائل پر قبضہ ہے جس سے اس کی یکساں تقسیم ممکن نہیں ہوپارہی ہے۔ جب عوام اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں سختی سے کچل دیا جاتا ہے اور ان کی آواز دبا دی جاتی ہے۔ پاکستان نے اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ دہشت گردی کو بڑھاوا دینے پر صرف کیا ہے۔ اس نے نہ صرف ہندوستان بلکہ افغانستان، بنگلہ دیش اور دنیا کے دیگر حصوں میں اس کی حمایت اور پرورش وپرداخت کی ہے۔ آج پاکستان دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا ہے اس کے پاس ملک چلانے کیلئے پیسے نہیں ہیں، غیرملکی زرمبادلہ نہ کے برابر ہے اور اسے اپنے ہم خیال ممالک اور عالمی اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑرہا ہے۔ پاکستان نے اگر اپنے وسائل کا جائز استعمال کیا ہوتا اور اسے ملک کی تعمیر وترقی پر خرچ کیا ہوتا تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ ملک میں بنیادی ڈھانچہ کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ تعلیمی نظام بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ایک بڑی آبادی ناخواندہ ہے اور جو لوگ کسی طرح سے ان حالات سے نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے غیرممالک کا رخ کرتے ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے بعد واپس پاکستان آنا نہیں چاہتے۔ ملک میں قدامت پسند اور بنیاد پرست نظام کو فروغ دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ وہاں کے سماج میں دنیا کے بدلتے ہوئے نظام کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ حقوق انسانی کا تحفظ، آزادی رائے اور وسائل کی یکساں تقسیم جیسی اصطلاحات سے ایک بڑا طبقہ ناواقف ہے۔ اگر کوئی بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان واپس آکر کچھ اصلاحی کام کرنا چاہتا ہے تو وہ بھی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ اسے بنیاد پرست عناصر یہاں تک کہ وہاں کے اداروں سے بھی لڑنا ہوگا۔ ایسے کئی واقعات ہیں جب روشن خیالی کی بات کرنے والوں کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں جیل کی سزائیں ہوئی ہیں۔
آسیہ بی بی کا معاملہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ توہین رسالت کے نام پر انہیں کس طرح سے ایذائیں دی گئیں ۔ بالآخر عدالت نے انہیں بری کردیا۔ اسی طرح سے ملک کی ایک عدالت نے ایک لیکچرار جنید حفیظ کو بھی توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔ جنید حفیظ نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی ہے اور وہ گرفتاری سے پہلے ملتان کی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔ پاکستان میں توہین مذہب کے جس قانون کے تحت جنید حفیظ کو سزائے موت سنائی گئی ہے، وہ انتہائی متنازعہ قانون ہے جس کے تحت کسی بھی ملزم کو جس پر خدا، قرآن یا پیغمبر اسلام کی توہین کا الزام ہو، اس کا جرم ثابت ہوجانے پر سزائے موت سنائی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں اس متنازعہ قانون کا کافی غلط استعمال بھی ہوتا ہے اور کئی معاملات میں لوگ ذاتی دشمنی یا محض انتقام لینے کی غرض سے مسلم یا غیرمسلم شہری پر توہین مذہب کا الزام لگادیتے ہیں۔
یہ تو ایک پہلو ہے۔ اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو بھی یہاں کی حکومت اور ادارے نہیں بخشتے۔ بلوچستان میں جس طرح کی ظلم وزیادتی ہورہی ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔ حال ہی میں پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ کررہے لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ان لوگوں کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ منظور پشتین کو رہا کرنے کا مطالبہ کررہے تھے اور ان کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دے رہے تھے۔ بہرحال احتجاج ومظاہرے اور عدالت کی دخل اندازی کے بعد ان لوگوں کو ضمانت پر رہا کردیا گیا لیکن منظور پشتین اب بھی قید میں ہیں۔ پاکستان میں اپنے ہی عوام پر مظالم کی فہرست کافی طویل ہے۔ پاکستان میں برسراقتدار طبقہ اور وہاں کے اداروں میں جو لوگ بیٹھے ہیں وہ بے ضمیر ہوچکے ہیں ان کے اندر انسانی ہمدردی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں چین کے صوبہ ہوبیئ کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد ہندوستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک نے اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنا شروع کردیا اور بہت سے لوگ وطن واپس آبھی گئے۔ ہندوستان نے نہ صرف اپنے شہریوں کی فکر کی بلکہ اس نے مالدیپ کے شہریوں کو بھی وہاں سے نکالا ہے۔ لیکن پاکستان نے اپنے شہریوں کو واپس لانے سے انکار کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وبا سے نمٹنے کیلئے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔ بے حسی کی انتہا تو تب ہوگئی جب یہ کہا گیا کہ موت برحق ہے۔ کوئی کہیں بھی رہے موت آنی ہے تو آکر رہے گی۔ یہاں تک کہ اس کے لئے حدیث کا حوالہ بھی دیدیا گیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ پاکستان کو اپنے عوام کا کتنا خیال ہے؟ اسے اپنے مفاد کے لئے اپنے لوگوں کی زندگی کی ذرّہ برابر بھی پروا نہیں ہے۔
آسیہ بی بی کا معاملہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ توہین رسالت کے نام پر انہیں کس طرح سے ایذائیں دی گئیں ۔ بالآخر عدالت نے انہیں بری کردیا۔ اسی طرح سے ملک کی ایک عدالت نے ایک لیکچرار جنید حفیظ کو بھی توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔ جنید حفیظ نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی ہے اور وہ گرفتاری سے پہلے ملتان کی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔ پاکستان میں توہین مذہب کے جس قانون کے تحت جنید حفیظ کو سزائے موت سنائی گئی ہے، وہ انتہائی متنازعہ قانون ہے جس کے تحت کسی بھی ملزم کو جس پر خدا، قرآن یا پیغمبر اسلام کی توہین کا الزام ہو، اس کا جرم ثابت ہوجانے پر سزائے موت سنائی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں اس متنازعہ قانون کا کافی غلط استعمال بھی ہوتا ہے اور کئی معاملات میں لوگ ذاتی دشمنی یا محض انتقام لینے کی غرض سے مسلم یا غیرمسلم شہری پر توہین مذہب کا الزام لگادیتے ہیں۔
یہ تو ایک پہلو ہے۔ اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو بھی یہاں کی حکومت اور ادارے نہیں بخشتے۔ بلوچستان میں جس طرح کی ظلم وزیادتی ہورہی ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔ حال ہی میں پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ کررہے لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ان لوگوں کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ منظور پشتین کو رہا کرنے کا مطالبہ کررہے تھے اور ان کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دے رہے تھے۔ بہرحال احتجاج ومظاہرے اور عدالت کی دخل اندازی کے بعد ان لوگوں کو ضمانت پر رہا کردیا گیا لیکن منظور پشتین اب بھی قید میں ہیں۔ پاکستان میں اپنے ہی عوام پر مظالم کی فہرست کافی طویل ہے۔ پاکستان میں برسراقتدار طبقہ اور وہاں کے اداروں میں جو لوگ بیٹھے ہیں وہ بے ضمیر ہوچکے ہیں ان کے اندر انسانی ہمدردی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حال ہی میں چین کے صوبہ ہوبیئ کے شہر ووہان میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد ہندوستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک نے اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنا شروع کردیا اور بہت سے لوگ وطن واپس آبھی گئے۔ ہندوستان نے نہ صرف اپنے شہریوں کی فکر کی بلکہ اس نے مالدیپ کے شہریوں کو بھی وہاں سے نکالا ہے۔ لیکن پاکستان نے اپنے شہریوں کو واپس لانے سے انکار کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وبا سے نمٹنے کیلئے خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔ بے حسی کی انتہا تو تب ہوگئی جب یہ کہا گیا کہ موت برحق ہے۔ کوئی کہیں بھی رہے موت آنی ہے تو آکر رہے گی۔ یہاں تک کہ اس کے لئے حدیث کا حوالہ بھی دیدیا گیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ پاکستان کو اپنے عوام کا کتنا خیال ہے؟ اسے اپنے مفاد کے لئے اپنے لوگوں کی زندگی کی ذرّہ برابر بھی پروا نہیں ہے۔
Comments
Post a Comment