افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے بعد کا منظرنامہ؟

اب یہ بات قطعی طور پر واضح ہوگئی ہے کہ امریکہ جلد از جلد اپنی فوجیں افغانستان سے واپس بلانے کے موڈ میں ہے۔ طالبان سے بات چیت کا سلسلہ جو دوبارہ شروع ہوا، وہ شاید عنقریب اپنے اختتامی مرحلہ تک پہنچ جائے۔ تمام آثار یہی بتاتے ہیں کہ امریکہ نے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ امریکہ کے خصوصی مذاکرات کار برائے افغانستان حال ہی میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے ملے بھی تھے۔ دوسری طرف پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ان کی ملاقات ہوچکی ہے۔ پاکستان بھی اپنی جگہ مطمئن نظر آتا ہے کہ امریکہ کی واپسی عنقریب طے ہے۔

اب اس پس منظر میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے طرح طرح کے سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ان سوالات میں صرف افغانستان کی سیکورٹی اور اس سے وابستہ دوسرے معاملات ہی نہیں ہیں بلکہ یہ بھی کہ طالبان کی سرگرمیاں کس نوعیت کی ہوں گی اور افغانستان کا اگلا سیاسی نقشہ کیا ہوگا۔ ابھی تک تو افغانستان کے صدارتی الیکشن کا نتیجہ بھی سامنے نہیں آیا جو گزشتہ سال ستمبر کے اواخر میں منعقد ہوا تھا۔ نتیجہ کے سوال پر دو خاص امیدواروں یعنی صدر اشرف غنی اور سی ای او (CEO)عبد اللہ عبد اللہ کے درمیان بھی ٹکراؤ کے اشارے مل رہے ہیں۔ لیکن اور ایک زبردست معاملہ ہے جو خود امریکہ میں بڑی سنگین نوعیت کی گفتگو کا باعث بنا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ اگر وہاں نئی حکومت کی تشکیل ہوگئی تو 2024تک اسے کھینچنے کے لئے بڑی خطیر رقم کی ضرورت پڑے گی۔ ایک امریکی ایجنسی کے مطابق افغانستان کو امداد فراہم کرنے والے ممالک کو اس بات سے کافی ناراضگی ہے کہ افغانستان سے کرپشن ختم کرنے کی تمام تر کوششیں رائیگاں جاتی دکھائی دی رہی ہیں۔ افغان حکومت کے تمام اخراجات کا تقریباً 75فیصد حصہ بین الاقوامی امداد کے ذریعہ پورا کیا جاتا ہے جبکہ خود حکومت اس کا ایک چوتھائی حصہ بھی اپنے ریوینیو (Revenue) کے ذریعہ مہیا نہیں کرپاتی۔ خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغان تعمیر نو، جو سال کے ہر چوتھائی حصے میں امریکی کانگریس کو اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے، اس کا کہنا ہے کہ معاملہ خاصا تشویش کا باعث ہے ۔ یاد رہے کہ افغانستان میں لڑی جانے والی اس طویل ترین امریکی جنگ میں اخراجات کے تمام تخمینے اسی ایجنسی نے لگائے ہیں اس نے جو اپنی تازہ ترین رپورٹ دی ہے، اس میں کہا کہ افغان حکومت کرپشن روکنے میں قطعی ناکام ثابت ہوئی ہے جس کے باعث امداد مہیا کرانے والے ممالک میں کافی فرسٹریشن پیدا ہوا ہے اور یہ سب سے زیادہ تشویش کی بات ہے۔ مذکورہ ایجنسی نے اپنی ناراضگی ان الفاظ میں ظاہر کی ہے کہ حکومت کو بین الاقوامی برادری سے موصول ہونے والی امداد کی رقوم گننے میں زیادہ دلچسپی ہے اور کرپشن دور کرنے کی کوششوں سے زیادہ سروکار نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کرپشن دور کرنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں، وہ موثر نہیں ثابت ہو رہی ہیں۔

ادھر صدر اشرف غنی کا مستقبل بھی خاصا غیر یقینی نظر آتا ہے۔ صدارتی الیکشن کا نتیجہ ابھی تک نہیں آیا حالانکہ ابتدائی نتائج کا رجحان انہی کے حق میں دکھائی دیتا ہے جبکہ ان کے حریف امیدوار اسے فراڈ قرار دے رہے ہیں۔ جنوری میں ہی ایک بین الاقوامی واچ ڈاگ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ایشیا پیسیفک علاقے میں افغانستان کرپشن کے معاملے میں سب سے نچلی سطح پر ہے۔ اس کے باوجود کہ بین الاقوامی برادری افغانستان کو کروڑوں ڈالر کی امداد ہر سال مہیا کرا رہی ہے لیکن وہاں غریبی کی سطح گرتی ہی جارہی ہے۔2012میں 37فیصد افراد غریبی کی سطح سے نیچے کی زندگی بسر کر رہے تھے لیکن آج ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ کر 55 فیصد ہوگئی۔ خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغان تعمیر نو کے مطابق 2019کی آخری چوتھائی میں واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی برادری کے امداد دہندگان نے 8.5بلین ڈالر سالانہ کی شرح سے امداد فراہم کی تھی ۔ جس کے تحت سیکورٹی سے لے کر تعلیم، حفظان صحت اور اقتصادی نوعیت کے اخراجات تک ہر چیز کا احاطہ کیا گیا تھا۔ 4.2بلین ڈالر سالانہ امداد تو امریکہ، افغان سیکورٹی فورسز اور دفاعی فورسز کے لئے کرتا رہا ہے۔



غرضیکہ افغانستان کے مستقبل کے منظرنامے پر اگر نظر ڈالی جائے تو ہر زوائیے سے صورت حال انتہائی سنگین نظر آتی ہے۔ یعنی اگر دیکھا جائے تو حالات، اس زمانے کے حالات سے بھی غیر نظر آئیں گے جب سوویت فوجیں افغانستان سے واپس گئی تھیں اور امریکہ نے بلکہ امریکہ اور پاکستان نے مل کر افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف محاذ قائم کیا تھا ۔سوویت یونین کی پسپائی اور واپسی کے بعد امریکہ کی دلچسپی تو اس علاقے سے ختم ہوگئی تھی لیکن پاکستان کی دلچسپی نہ صرف برقرار تھی بلکہ اس نے طالبان کو برسر اقتدار لاکر ہی دم لیا تھا۔ لیکن اب جبکہ امریکی فوجیں افغانستان سے واپس جانے والی ہیں تو اب نہ صرف مسائل کی بھرمار ہوگی بلکہ پاکستان کو کھیل کھیلنے کا بھرپور موقع ملے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ