پاکستان: ناکامیوں کی پردہ پوشی کی ایک اور کوشش
ابھی حال ہی میں سوئٹزرلینڈ کے داؤس شہر میں ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ میٹنگ کے دوران پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نےجو کچھ فرمایا اس میں نہ کچھ نیا تھا اور نہ عالمی برادری نے اسے کسی خاص توجہ کا اہل مانا۔ غرض کہ پاکستان کے حکمرانوں کی سالانہ ہائے توبہ ہرسال کی طرح اس سال بھی بیکار گئی۔لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ عمران خان کی تقریر نے بالواسطہ طور پر اس حقیقت کا پردہ فاش کردیاکہ گزشتہ 17 مہینوں کے دوران ان کی سرکار ملک کے حالات میں ذراسی بھی مثبت تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے بلکہ پاکستان کے حالات بدسے بدتر ہی ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال 2019 کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 6 ارب ڈالر کا قرض پانے کے لیے عمران سرکار نے اس ادارے کی جو شرطیں قبول کی تھیں،عین انہی شرائط کی رو سے ابھی کچھ روز پہلے پاکستان سرکار نے گیس، مٹی کا تیل اور ڈیژل کے داموں میں ایک دفعہ پھر اضافہ کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ اسے اپنے شہریوں کی فلاح وبہبود کی کوئی فکر نہیں ہے اور تمام رو نے دعوؤں کے باوجود وہ یہ سوچنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے کہ اس کے اس طرح کے اقدامات کے سبب ملک کی معیشت کس راستے جائے گے۔
ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ میٹنگ کے دوران عمران خان نے بدعنوانیوں کے سوال پر جو کچھ کہا اس کا حقیقی مقصد ان کی اپنی سرکار کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا تو ہے ہی، خود پاکستان کے کئی صحافی اور مبصرین یہ بات کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اس طرح سے ان فوجی افسران کی اصلیت چھپانے کی کوشش کی ہے جو ان کے یارومددگار ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ کسی ملک میں حکمرانوں کی طرف سے ہونے والے کرپشن کا ایشو کوئی نیا ایشو ہے اور یہ کوئی پہلا موقع بھی نہیں ہے جب کسی سرکار نے اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لیے اپنے پیشروؤں کو کرپشن کا گنہ گار ٹھہرانے کی کوشش کی ہو۔ پاکستان میں بھی پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کی سرکاروں کو پہلے بھی فوج کرپشن کا مرتکب قرار دے کر ان کے خلاف اپنے رنگ دکھاچکی ہے اور آج بھی دکھارہی ہے جیسا کہ جناب عمران خان کی حالیہ تقریر سے پتا چلتا ہے۔
یوں ایک وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو کرپشن کا معاملہ مختلف ملکوں میں اٹھتا رہا ہے، مختلف شکلوں میں اٹھتا رہا ہے، ہرسیاسی پارٹی اپنے فائدہ کے لیے اپنے حریفوں کو بدعنوانیوں میں ملوث ٹھہرانے کی کوشش کرتی رہی ہے ،لیکن اگر عمران خان یہ فرماتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ افسوسناک حالت کے لیے کرپشن اور صرف کرپشن ذمہ دار ہے تو شاید ہی کوئی سیاسی مبصر اس بات پر ایمان لانا پسند کرے گا۔ ترقی پذیر یا ترقی یافتہ کئی ملک ایسے رہے ہیں اورآج بھی ہیں جن کے یہاں کرپشن کا معاملہ اٹھتا رہا ہے اور پھر بھی ان کی معیشت نموپذیر رہی ہے۔ ان کی یا ان کے عوام کی حالت پاکستان کی طرح بد سے بدتر نہیں ہوئی ہے۔
لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو ملک فوجی حکومت کے تابع ہیں یا رہے ہیں ان میں خود فوج ہی بدعنوانیوں کی سب سے بڑی مرتکب رہی ہے۔ مشرق ہویا مغرب اکثر اس طرح کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ عوامی احتجاج کے سبب ایک فوجی تاناشاہ جب ملک چھوڑکر بھاگتا ہے تو اربوں ڈالر کے اثاثے اس کی نجی ملکیت ہوتے ہیں، بلکہ ان کا ایک بڑا حصہ غیرملکی بینکوں میں محفوظ ہوتا ہے۔ خود پاکستان میں جنرل ایوب خان کی حکومت کے دوران لطیفہ عروج پر تھا کہ ایک دفعہ صبح ناشتہ کے وقت موصوف نے کہا کہ پاکستان میں افواہوں کی فیکٹری بہت سرگرمی سے کام کررہے ہی تو ان کے صاحبزادے نے عرض کیا کہ ابا حضور، اجازت دیجیئے تو میں اس فیکٹری کو خریدلوں۔آج بھی ملک سے باہر جنرل پرویز مشرف کے کتنے ایسے اثاثے موجود ہیں اور ان کی قیمت کیا ہے، اس کے بارے مین قیاس آرائیوں کا دور جاری ہے۔
ظاہر ہے کہ فوجی حکومت والے کسی ملک میں فوج ہی بدعنوانیوں کی سب سے بڑی مرتکب ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی اسے دو فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ ننگی اور سفاکانہ قوت کے بل پر اپنے مخالفین کا منھ بند کرنے کی حالت میں ہوتی ہے جب کہ جمہوری سرکاروں کو ایسی قوت نصیب نہیں ہوتی اور دوسرے فوج جو کچھ کرتی ہے اسے مروجہ معنوں میں بدعنوانی ثابت کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ مثال کے لیے خود پاکستان میں اگر کسی ریٹائرڈ فوجی افسر کو کروڑوں روپے کا ٹھیکہ کسی سڑک کی تعمیر کے لیے ملتا ہے تو ظاہر طور پر وہ کسی بدعنوانی میں مبتلا تو نہیں لگتا، لیکن اسے اس طرح کا ٹھیکہ ملنا ہی بدعنوانی کا سب سے بڑا نمونہ ہوتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک سابق بریگیڈیر کو اربوں روپے کا دھندا کرنے والی ایک کنسٹرکشن کمپنی میں صلاح کارمقرر کیا گیا اور طے ہوا کہ کمپنی کے منافع میں سے بریگیڈیر صاحب کو دو فیصد حصہ بطور کمیشن دیا جائے گا، لیکن بریگیڈیر صاحب پر ہونے والی اس کرم فرمائی کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ جناب بلال مشرف کے خسر اور جنا ب پرویز مشرف کے سمدھی تھے۔فلپائن ، انڈونیشیا، پنامہ، چلی اور بعض دیگر ممالک میں فوجی تانا شاہوں نے جو بڑے بڑے اثاثے جمع کیے وہ خون پسینے کی کمائی تو نہیں کہے جاسکتے!
ایسا نہیں ہے کہ جمہوری حکومتوں کے سربراہوں نے کرپشن کے کارنامے انجام نہ دیے ہوں لیکن کسی ملک میں جب ایک سیاسی لیڈر اپنے پیشروؤں کے کرپشن کی بات کرتا ہے تو اکثر اوقات اس کا منشا اپنے گناہوں یا اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کرنا ہوتا ہے اور جناب عمران خان آج یہی کررہے ہیں۔
البتہ ایک فرق ضرور ہے۔ آج کوئی ضیاء الحق یا کوئی پرویز مشرف اپنے پیشروؤں کے کرپشن کی بات نہیں کررہا ہے بلکہ جناب عمران خان کررہے ہیں تاہم اس سے اس حقیقت کی پردہ پوشی نہیں ہوتی کہ ان کی 17ماہ پرانی سرکار کی ناکامی درحقیقت پردہ کے پیچھے سے فوج کی ناکامی ہے لہذا اگر پاکستانی میڈیا عمران خان کو فوج کا انتخاب مان رہی ہے تو یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ میٹنگ کے دوران عمران خان نے بدعنوانیوں کے سوال پر جو کچھ کہا اس کا حقیقی مقصد ان کی اپنی سرکار کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا تو ہے ہی، خود پاکستان کے کئی صحافی اور مبصرین یہ بات کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اس طرح سے ان فوجی افسران کی اصلیت چھپانے کی کوشش کی ہے جو ان کے یارومددگار ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ کسی ملک میں حکمرانوں کی طرف سے ہونے والے کرپشن کا ایشو کوئی نیا ایشو ہے اور یہ کوئی پہلا موقع بھی نہیں ہے جب کسی سرکار نے اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لیے اپنے پیشروؤں کو کرپشن کا گنہ گار ٹھہرانے کی کوشش کی ہو۔ پاکستان میں بھی پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کی سرکاروں کو پہلے بھی فوج کرپشن کا مرتکب قرار دے کر ان کے خلاف اپنے رنگ دکھاچکی ہے اور آج بھی دکھارہی ہے جیسا کہ جناب عمران خان کی حالیہ تقریر سے پتا چلتا ہے۔
یوں ایک وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو کرپشن کا معاملہ مختلف ملکوں میں اٹھتا رہا ہے، مختلف شکلوں میں اٹھتا رہا ہے، ہرسیاسی پارٹی اپنے فائدہ کے لیے اپنے حریفوں کو بدعنوانیوں میں ملوث ٹھہرانے کی کوشش کرتی رہی ہے ،لیکن اگر عمران خان یہ فرماتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ افسوسناک حالت کے لیے کرپشن اور صرف کرپشن ذمہ دار ہے تو شاید ہی کوئی سیاسی مبصر اس بات پر ایمان لانا پسند کرے گا۔ ترقی پذیر یا ترقی یافتہ کئی ملک ایسے رہے ہیں اورآج بھی ہیں جن کے یہاں کرپشن کا معاملہ اٹھتا رہا ہے اور پھر بھی ان کی معیشت نموپذیر رہی ہے۔ ان کی یا ان کے عوام کی حالت پاکستان کی طرح بد سے بدتر نہیں ہوئی ہے۔
لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو ملک فوجی حکومت کے تابع ہیں یا رہے ہیں ان میں خود فوج ہی بدعنوانیوں کی سب سے بڑی مرتکب رہی ہے۔ مشرق ہویا مغرب اکثر اس طرح کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ عوامی احتجاج کے سبب ایک فوجی تاناشاہ جب ملک چھوڑکر بھاگتا ہے تو اربوں ڈالر کے اثاثے اس کی نجی ملکیت ہوتے ہیں، بلکہ ان کا ایک بڑا حصہ غیرملکی بینکوں میں محفوظ ہوتا ہے۔ خود پاکستان میں جنرل ایوب خان کی حکومت کے دوران لطیفہ عروج پر تھا کہ ایک دفعہ صبح ناشتہ کے وقت موصوف نے کہا کہ پاکستان میں افواہوں کی فیکٹری بہت سرگرمی سے کام کررہے ہی تو ان کے صاحبزادے نے عرض کیا کہ ابا حضور، اجازت دیجیئے تو میں اس فیکٹری کو خریدلوں۔آج بھی ملک سے باہر جنرل پرویز مشرف کے کتنے ایسے اثاثے موجود ہیں اور ان کی قیمت کیا ہے، اس کے بارے مین قیاس آرائیوں کا دور جاری ہے۔
ظاہر ہے کہ فوجی حکومت والے کسی ملک میں فوج ہی بدعنوانیوں کی سب سے بڑی مرتکب ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی اسے دو فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ ننگی اور سفاکانہ قوت کے بل پر اپنے مخالفین کا منھ بند کرنے کی حالت میں ہوتی ہے جب کہ جمہوری سرکاروں کو ایسی قوت نصیب نہیں ہوتی اور دوسرے فوج جو کچھ کرتی ہے اسے مروجہ معنوں میں بدعنوانی ثابت کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ مثال کے لیے خود پاکستان میں اگر کسی ریٹائرڈ فوجی افسر کو کروڑوں روپے کا ٹھیکہ کسی سڑک کی تعمیر کے لیے ملتا ہے تو ظاہر طور پر وہ کسی بدعنوانی میں مبتلا تو نہیں لگتا، لیکن اسے اس طرح کا ٹھیکہ ملنا ہی بدعنوانی کا سب سے بڑا نمونہ ہوتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایک سابق بریگیڈیر کو اربوں روپے کا دھندا کرنے والی ایک کنسٹرکشن کمپنی میں صلاح کارمقرر کیا گیا اور طے ہوا کہ کمپنی کے منافع میں سے بریگیڈیر صاحب کو دو فیصد حصہ بطور کمیشن دیا جائے گا، لیکن بریگیڈیر صاحب پر ہونے والی اس کرم فرمائی کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ جناب بلال مشرف کے خسر اور جنا ب پرویز مشرف کے سمدھی تھے۔فلپائن ، انڈونیشیا، پنامہ، چلی اور بعض دیگر ممالک میں فوجی تانا شاہوں نے جو بڑے بڑے اثاثے جمع کیے وہ خون پسینے کی کمائی تو نہیں کہے جاسکتے!
ایسا نہیں ہے کہ جمہوری حکومتوں کے سربراہوں نے کرپشن کے کارنامے انجام نہ دیے ہوں لیکن کسی ملک میں جب ایک سیاسی لیڈر اپنے پیشروؤں کے کرپشن کی بات کرتا ہے تو اکثر اوقات اس کا منشا اپنے گناہوں یا اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کرنا ہوتا ہے اور جناب عمران خان آج یہی کررہے ہیں۔
البتہ ایک فرق ضرور ہے۔ آج کوئی ضیاء الحق یا کوئی پرویز مشرف اپنے پیشروؤں کے کرپشن کی بات نہیں کررہا ہے بلکہ جناب عمران خان کررہے ہیں تاہم اس سے اس حقیقت کی پردہ پوشی نہیں ہوتی کہ ان کی 17ماہ پرانی سرکار کی ناکامی درحقیقت پردہ کے پیچھے سے فوج کی ناکامی ہے لہذا اگر پاکستانی میڈیا عمران خان کو فوج کا انتخاب مان رہی ہے تو یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔
Comments
Post a Comment