موضوع: پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی کی انتہا، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ

پاکستان نے کشمیر کے معاملے میں ہندوستان کے خلاف پوری دنیا میں ایک قسم کی سفارتی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ وہ انسانی حقوق کی دہائی دیتا ہے اور ہندوستان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عاید کرتا ہے۔ وہ عالمی فورموں پر ہندوستان کے اندرونی معاملات کو اٹھاکر ہندوستان کو گھیرنے کی کوشش کرتا ہے اور دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہاں کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اور دنیا کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے۔ حالانکہ عالمی رہنما بار بار یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کو باہمی گفت و شنید سے آپسی معاملات کو حل کرنا چاہیے۔ خود پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال انتہائی ابتر ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2019 میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر ایک تفصیلی رپورٹ جاری ہے جو پاکستان کو پوری طرح بے نقاب کرتی ہے۔ اس رپورٹ میں اظہار خیال کی آزادی پر قدغن، حکومت کے خلاف بولنے والوں کی گمشدگی، میڈیا کی آزادی پر حملہ، خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم اور تشدد، مذہبی اقلیتوں پر مظالم اور دیگر بہت سے معاملات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں متعدد سیاسی کارکن، طلبہ، صحافی اور سندھ اور بلوچستان کے متعدد شیعہ مسلمان جبراً غائب کر دیے گئے۔ دراصل حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والوں کو سیکورٹی فورسز اٹھا لیتی ہیں اور ان پر تشدد کرتی ہیں۔ کسی کو ایک ماہ کے بعد رہا کیا جاتا ہے تو کسی کو کئی مہینوں تک نامعلوم قید میں رکھا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ”خیبر پختونخوا ایکشنس آرڈیننس دوہزار انیس“ کے نفاذ کے بعدسے لوگوں کو جبراً اٹھا لیے جانے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو الیکٹرانک جرائم روکنے کے قانون کے تحت ہدف بنایا جاتا ہے اور ان کے اظہار خیال کی آزادی پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ ان پر انسداد دہشت گردی ایکٹ اور غداری اور ہتک عزت کے تحت مقدمات قائم کیے جاتے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے صحافیوں پر سنسرشپ نافذ کی جاتی ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جرائم اور ان پر تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کو اغوا کیا جاتا ہے، جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جنسی زیادتی کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ بہت سی ایسی خواتین کو ہلاک بھی کر دیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے جون میں گھریلو تشدد کے مقدمات کے لیے 1016 عدالتوں کے قیام کا حکم دیا تھا۔ جون میں ایک انیس سالہ سالہ خواجہ سرا، مایہ کو نوشہرہ میں اس کے والد نے گولی مار دی۔ 2019 میں ایسی کم از کم چار خاتون خواجہ سراؤں کو ہلاک کیا گیا۔ جبکہ کئی کو حملہ کرکے زخمی کیا گیا۔ بچوں کے جنسی استحصال اور تشدد کے واقعات کی تو بھرمار ہے۔ یہاں تک کہ انسانی حقوق کی وزارت کو جولائی میں بچوں کو ان کے خلاف ہونے والے جرائم سے محفوظ رکھنے کے لیے ملک گیر مہم چلانی پڑی۔ کم عمری کی شادیوں کی بھرمار ہے جو کہ بچوں کی زندگی پر منفی اثرات ڈالتی ہیں۔ لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھا کر اٹھارہ سال کرنے سے متعلق ایک بل مئی میں پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا لیکن اسے پاس نہیں ہونے دیا گیا۔ اہانت دین قانون کے تحت لوگوں اور خاص طور پر مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اہانت کے نام پر یا اہانت کے الزام میں مسلح گروپ مذہبی اقلیتوں کے گھروں پر حملے کرتے ہیں۔ پولیس اہانت دین کے فرضی الزام میں لوگوں کو گرفتار کر لیتی ہے اور انھیں جیلوں میں ڈال دیتی ہے۔ حملہ آور ملزموں کے گھروں اور ان کی املاک کو نشانہ بناتے ہیں اور انھیں نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ عدالتیں مذہبی گروپوں کے دباؤ میں صحیح فیصلے نہیں کر پاتیں اور الزام ثابت نہ ہونے کے باوجود ملزموں کو رہا کرنے کی جرأت نہیں دکھا پاتیں۔ ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی جو فرضی الزام لگاتے ہیں یا مذہبی اقلیتوں کے گھروں پر حملے کرتے ہیں۔ آسیہ بی بی کا کیس ایک چشم کشا کیس ہے کہ کس طرح اہانت کے فرضی الزام میں اسے آٹھ سال جیل میں گزارنے پڑے۔ ایک عدالت نے اسے سزائے موت سنا دی تھی لیکن بہر حال اس کی قسمت اچھی تھی کہ سپریم کورٹ نے اسے الزامات سے بری کیا ۔ ملکی معیشت کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ پاکستانی فوج جہاں ہر شعبۂ حیات پر حاوی ہے وہیں معیشت پر بھی اس نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں ۔ مہنگائی ساتویں آسمان پر ہے۔ پہلے آٹے کا بحران پیدا ہوا اور اب چینی کا پیدا ہو گیا ہے۔ اعلیٰ طبقے کے لوگ بھی پریشان ہیں اور متوسط طبقے کے لوگ بھی۔ نچلے طبقے کی حالت تو ناگفتہ بہ ہے۔ پاکستان ہندوستان کے اندرونی امور میں مداخلت کرکے اس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عاید کرتا ہے لیکن خود پاکستان میں انسانی حقوق کی کیا صورت حال ہے اس رپورٹ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا پاکستان کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکے اور پھر کوئی بات کرے۔ دنیا میں اس کی شبیہ ایک دہشت گرد ملک کی بن گئی ہے۔ اس شبیہ سے چھٹکارہ پانے کی ضرورت ہے۔ لیکن وہ اپنے حالات بہتر بنانے کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ