موضوع: باجوہ کے ایکسٹینشن پر سپریم کورٹ کا فیصلہ سویلین قیادت
کے لیے اختیارات استعمال کرنے کا وسیلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے کے فیصلے پر روک لگاکر دراصل ایک بہت بڑی بحث کے لیے راہ ہموار کردی ہے۔ دراصل آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع میں کلیتاً روک عدالت نے نہیں لگائی ہے بلکہ فوری طور پر تین سال کی بجائے 6 ماہ کے ایکسٹینشن کو عارضی طور پر منظوری دے کر حکومت پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ وہ تکنیکی خامیوں اور ضابطے کی خلاف ورزیوں کو دور کرے اور باقاعدہ آرمی چیف کے ایکسٹینشن یا دوبارہ بحالی کے تعلق سے کوئی قانون بنائے تاکہ کوئی ابہام یا جھول باقی نہ رہے۔ سپریم کورٹ نے گویاپارلیمنٹ کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہی اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے۔ سپریم کورٹ نے فوری طور پر ایک آئینی بحران کو ٹال دیا ہے لیکن پاکستان کے وزیر اعظم اور ان کی حکومت کو زبردست سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پہلا سوال یہی اٹھا جیسا کہ عدالت نے اشارہ بھی کیا کہ وزیر اعظم نے اپنی طرف سے 19 اگست 2019 کو ہی نوٹیفکیشن جاری کردیا کہ جنرل باجوہ کو تین سال کا ایکسٹینشن دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ان کی مدت ملازمت 29 نومبر کو ختم ہونے والی تھی۔ جب کہ آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کا اختیار صدر کو حاصل ہے۔ عدالت نے جب کابینہ کی منظوری کا سوال اٹھایا اور بعض بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی تو کابینہ کی ہنگامی میٹنگ طلب کی گئی اور دوسرا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اور اس میں یہ کہا گیا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع فوج کے ضابطہ 255 کے تحت کی جارہی ہے لیکن عدالت نے یہ بات نہیں مانی اور حکومت کو یاد دلایا کہ ضابطہ 255 کا اطلاق نہیں ہوتا کیوں کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ بحالی یا آئین کی دفعہ 243 کے صدر مملکت کرسکتا ہے۔ مختصر یہ کہ عدالت نے غیر مبہم الفاظ میں یہ تاثر دیا کہ نوٹیفکیشن دوبارہ جاری کیا جائے اور یہ یقین دلایا جائے کہ پارلیمنٹ اس سلسلے میں باقاعدہ قانون وضع کرے گی تاکہ کسی طرح کا ابہام یا الجھن باقی نہ رہے۔ اس واضح ہدایت کے بعد ہی عدالت کی تین رکنی بینچ نے آرمی چیف کے لیے مشروط ایکسٹینشن کا فیصلہ کیا۔ اب حکومت کے پاس 6 ماہ کا وقت ہے اور اسی دوران اسے پارلیمنٹ سے یہ قانون پاس کرانے کی کارروائی مکمل کرانا ہوگی۔ عمران خان کیلئے اصل امتحان کی گھڑی یہی ہوگی۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ موجودہ حکومت اور فوج کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ اس لیے ان کی یہ خواہش ضرور رہی ہوگی کہ جنرل باجوہ کو تین سال کی توسیع دے دی جائے اور اس میں کوئی رکاوٹ یا تنازعہ نہ پیدا ہو تاکہ عمران خان کو اس مدت کے دوران فوج کا پورا اعتماد حاصل رہے اور اسی طرح عمران خان بھی فوج کے مزاج کے مطابق ہی اپنی پالیسیاں طے کریں۔ لیکن یہ جو درمیان کا 6 مہینہ کا عرصہ ہے وہ جنرل باجوہ اورخود فوج کے لیے کافی الجھن بھرا ہوگا۔کیوں کہ 29 نومبر کے بعد کی ان کی مدت ملازمت اور پھر اس کی مزید توسیع پارلیمنٹ کے اختیار میں ہوگی۔ گویا پارلیمنٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت کا معاملہ ابھی اس وقت تک لٹکا رہے گا جب تک پارلیمنٹ اپنی ضابطے کی کارروائی پوری نہیں کرلیتی۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں سویلین قیادت اور فوج کے آپسی رشتوں کے بارے میں ہمیشہ سوال اٹھتے رہے اور ہمیشہ تنازعہ بھی رہا۔پارلیمنٹ میں جو بھی فیصلہ ہوگاظاہر ہے اس کا انحصار ممبران کی مطلوبہ تعداد کی بنیادپر ہوگا۔ اور پارلیمنٹ میں عمران خان کی حکومت نے کسی صورت معمولی اکثریت تو حاصل کرسکتی ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہوگی کہ کیا کسی بھی فیصلہ کو قانون کی شکل دینے میں معمولی اکثریت کافی ہوگی؟عمران خان کو اپوزیشن پارٹیوں سے بات چیت کرنا ہی پڑے گی اور اس طرح کے سیاسی امور پر تبادلۂ خیال کرنے اور اتفاق رائے قائم کرنے میں احتیاط ، تدبر اور حکمت کی ضرورت پڑتی ہے۔ شعلہ بیانی کرنا اور بات بات پر اپوزیشن کو برا بھلا کہنا تو آسان ہوتا ہے لیکن اس طرح کے معاملات میں لفاظی اور خود پرستی کام نہیں آتی بلکہ معاملات کو بگاڑ دیتی ہے۔ دراصل عدالت نے بلاامتیاز تمام سیاسی لیڈروں اور پارٹیوں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ جمہوریت کے بنیادی تقاضوں کو وہ سمجھیں اور اتفاق رائے قائم کریں تاکہ پاکستان کی پارلیمنٹ جو ریاست کے بعض طاقتور اداروں کے دبدبے کے تحت بے وقعت ہوکر رہ گئی تھی وہ کچھ ایسے فیصلے کرے جس سے واقعی جمہوریت کی جڑیں پاکستان میں مضبوط ہوں۔ جیسا کہ نہ صرف پاکستان کے باشعور حلقوں بلکہ پوری دنیا میں یہ بات محسوس کی جارہی ہے کہ اس ایک واقعہ نے پاکستان کے سیاست دانوں کو ایک ایسا سنہرا موقع دیا ہے جب وہ سویلین بالا دستی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی اہم فیصلہ کرسکتے ہیں۔آئین کی رو سے وفاقی یا مرکزی حکومت کا مسلح افواج پر پورا کنٹرول ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔
Comments
Post a Comment