موضوع : جموں وکشمیر اور لداخ میں نئے دورکا آغاز
کل تک ہم جسے ریاست جموں وکشمیر کے نام سے جانتے تھے وہ تاریخ کے بعض حادثوں کی پیداوار تھی۔ 1846 میں جموں اور وادیٔ کشمیر کو ایک ساتھ ملایا جانا خود برطانوی حکومت اور ڈوگرا حکمراں مہاراجہ گلاب سنگھ کے درمیان امرتسر معاہدے کا نتیجہ تھا۔ لداخ پر جسے چھوٹا تبت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جنرل زورآور سنگھ نے فتح حاصل کی تھی جس کے بعد اسے ڈوگرا سلطنت میں شامل کرلیا گیا تھا۔ اس طرح ریاست جموں وکشمیر کی تشکیل ہوئی لیکن 31 اکتوبر 2019 کو اس ریاست کو باضابطہ طور پر مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کردیا گیا۔
لداخ سابقہ ریاست کا ایک چھوٹا حصہ تھا لہٰذا اسے مرکز کے زیرانتظام علاقہ میں تبدیل کرنا وہاں کے لوگوں کیلئے ایک تحفہ ثابت ہوا اور ایک لمبے عرصہ سے چلی آرہی ان کی مانگ پوری ہوگئی۔ سابقہ ریاست جموں وکشمیر کے اس ہمالیائی حصہ کے لوگوں کا گزشتہ تقریباً پچاس سالوں سے مطالبہ تھا کہ اس علاقہ کو مرکز کے زیر انتظام کردیاجائے۔ 1970 کی دہائی کے شروع میں لاما لوب زینگ لداخ میں بدھ مذہب کے ان رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے اس علاقہ کو مرکز کے زیر انتظام کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بہت سے لداخیوں کی رائے ہے کہ علاقے کی پسماندگی کو ختم کرنے کا یہ واحد راستہ تھا۔ ان کے خیال میں ریاستی حکومت اس علاقہ پر بالکل توجہ نہیں دیتی تھی جس کی وجہ سے وہاں ترقی برائے نام تھی۔ ریاست کی سابقہ حکومتوں کی بے اعتنائی کے باعث علاقہ کا مخصوص ثقافتی تشخص ابھر کر سامنے نہیں آیا اور نہ ہی یہاں کی معاشی ترقی پر توجہ دی گئی۔ اس لئے اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس علاقہ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرا ردینے کے بعد یہاں کے لوگوں نے خوب خوشیاں منائیں اور فیصلے کا دل کھول کر خیرمقدم کیا۔
جہاں تک جموں کا تعلق ہے تو یہاں کے لوگوں نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ تاریخی ضرورت تھی۔ دراصل ریاست کا مخصوص درجہ ختم کرنے کا مطالبہ پہلی بار پچاس کی دہائی کے شروع میں کیا گیا تھا اس وقت جموں کی پرجاپریشد پارٹی کی قیادت میں ‘‘ایک نشان ایک پردھان’’ کی تحریک شروع ہوئی تھی جس کا مقصد ہی کشمیر کے خصوصی درجہ کو ختم کرانا تھا۔ تاہم جموں وکشمیر کی تنظیم نو کرکے اسے مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کی وادی کے ان طبقوں نے مخالفت کی جو مراعات یافتہ تھے۔ ان طبقوں کو ڈر تھا کہ اگر ریاست کی تنظیم نو کی گئی تو ان کو جو سہولتیں اور مراعات مل رہی ہیں وہ سب ختم ہوجائیں گی۔ لیکن اب وادی کشمیر ترقیاتی فنڈ کا مناسب استعمال کرسکے گی۔ ریاست کی سابقہ حکومتوں میں بدعنوانی کا جو بول بالا تھا وہ سب اب ختم ہوجائے گا اور تمام بدعنوانیوں پر اب نظر رکھی جائے گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ علیحدگی پسند عناصر کو مقامی سیاسی نظام کا جو تحفظ حاصل تھا وہ سب اب ختم ہوچکا ہے۔ تاہم شدت پسندی ابھی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا مؤثر طور پر مقابلہ کیاجائے گا۔ جہاں تک سرحد پار کی دہشت گردی کا مسئلہ ہے تو اس سے سختی سے نپٹنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ سرحد پار کی دہشت گردی اور شدت پسندی دونوں ملکر جموں وکشمیر کے نوجوانوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں اس لئے ان دونوں کا سختی سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بات کافی اہم ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ جیسے ہی حالات معمول کے مطابق ہوجاتے ہیں مرکزی حکومت جموںو کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کیلئے غور کرسکتی ہے۔جناب امت شاہ کے اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ جموں وکشمیر کی حیثیت بدلنے کا بنیادی مقصد وادی میں امن وقانون اور سیکیورٹی سے متعلق چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ہے نہ کہ کشمیر کو اس کی خود مختاری سے محروم کرنا۔ مرکزی حکومت نے یہ اشارہ دیا ہے کہ جموں وکشمیر کو سرحد پار کی دہشت گردی اور شدت پسندی سے بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ریاست کی تنظیم نو ضروری تھی۔ لیکن جیسے ہی وہاں امن قائم ہوجاتا ہے اسے دوبارہ ریاست کا درجہ دینے میں اسے کوئی قباحت نہیں ہے۔
ہندوستان کی تقسیم کے 72 برسوں بعد جموں وکشمیر کی کل باضابطہ طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ، کل ہی مرد آہن اور ہندوستان کے سابق وزیر داخلہ سردا رولبھ بھائی پٹیل کا 144 واں یوم پیدائش بھی تھا۔ اس دن جموں وکشمیر کو ریاست کے زیرانتظام دو علاقوں میں باقاعدہ طور پر تقسیم کرنا سردار پٹیل کو بہترین خراج عقیدت پیش کرنا ہے جن کی انتھک کوششوں کے باعث 70 سال قبل تمام شاہی ریاستوں کو یونین آف انڈیا میں شامل ہونا پڑا تھا۔
لداخ سابقہ ریاست کا ایک چھوٹا حصہ تھا لہٰذا اسے مرکز کے زیرانتظام علاقہ میں تبدیل کرنا وہاں کے لوگوں کیلئے ایک تحفہ ثابت ہوا اور ایک لمبے عرصہ سے چلی آرہی ان کی مانگ پوری ہوگئی۔ سابقہ ریاست جموں وکشمیر کے اس ہمالیائی حصہ کے لوگوں کا گزشتہ تقریباً پچاس سالوں سے مطالبہ تھا کہ اس علاقہ کو مرکز کے زیر انتظام کردیاجائے۔ 1970 کی دہائی کے شروع میں لاما لوب زینگ لداخ میں بدھ مذہب کے ان رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے اس علاقہ کو مرکز کے زیر انتظام کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بہت سے لداخیوں کی رائے ہے کہ علاقے کی پسماندگی کو ختم کرنے کا یہ واحد راستہ تھا۔ ان کے خیال میں ریاستی حکومت اس علاقہ پر بالکل توجہ نہیں دیتی تھی جس کی وجہ سے وہاں ترقی برائے نام تھی۔ ریاست کی سابقہ حکومتوں کی بے اعتنائی کے باعث علاقہ کا مخصوص ثقافتی تشخص ابھر کر سامنے نہیں آیا اور نہ ہی یہاں کی معاشی ترقی پر توجہ دی گئی۔ اس لئے اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس علاقہ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرا ردینے کے بعد یہاں کے لوگوں نے خوب خوشیاں منائیں اور فیصلے کا دل کھول کر خیرمقدم کیا۔
جہاں تک جموں کا تعلق ہے تو یہاں کے لوگوں نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ تاریخی ضرورت تھی۔ دراصل ریاست کا مخصوص درجہ ختم کرنے کا مطالبہ پہلی بار پچاس کی دہائی کے شروع میں کیا گیا تھا اس وقت جموں کی پرجاپریشد پارٹی کی قیادت میں ‘‘ایک نشان ایک پردھان’’ کی تحریک شروع ہوئی تھی جس کا مقصد ہی کشمیر کے خصوصی درجہ کو ختم کرانا تھا۔ تاہم جموں وکشمیر کی تنظیم نو کرکے اسے مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کی تجویز کی وادی کے ان طبقوں نے مخالفت کی جو مراعات یافتہ تھے۔ ان طبقوں کو ڈر تھا کہ اگر ریاست کی تنظیم نو کی گئی تو ان کو جو سہولتیں اور مراعات مل رہی ہیں وہ سب ختم ہوجائیں گی۔ لیکن اب وادی کشمیر ترقیاتی فنڈ کا مناسب استعمال کرسکے گی۔ ریاست کی سابقہ حکومتوں میں بدعنوانی کا جو بول بالا تھا وہ سب اب ختم ہوجائے گا اور تمام بدعنوانیوں پر اب نظر رکھی جائے گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ علیحدگی پسند عناصر کو مقامی سیاسی نظام کا جو تحفظ حاصل تھا وہ سب اب ختم ہوچکا ہے۔ تاہم شدت پسندی ابھی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا مؤثر طور پر مقابلہ کیاجائے گا۔ جہاں تک سرحد پار کی دہشت گردی کا مسئلہ ہے تو اس سے سختی سے نپٹنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ سرحد پار کی دہشت گردی اور شدت پسندی دونوں ملکر جموں وکشمیر کے نوجوانوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں اس لئے ان دونوں کا سختی سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بات کافی اہم ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ جیسے ہی حالات معمول کے مطابق ہوجاتے ہیں مرکزی حکومت جموںو کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کیلئے غور کرسکتی ہے۔جناب امت شاہ کے اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ جموں وکشمیر کی حیثیت بدلنے کا بنیادی مقصد وادی میں امن وقانون اور سیکیورٹی سے متعلق چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ہے نہ کہ کشمیر کو اس کی خود مختاری سے محروم کرنا۔ مرکزی حکومت نے یہ اشارہ دیا ہے کہ جموں وکشمیر کو سرحد پار کی دہشت گردی اور شدت پسندی سے بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ریاست کی تنظیم نو ضروری تھی۔ لیکن جیسے ہی وہاں امن قائم ہوجاتا ہے اسے دوبارہ ریاست کا درجہ دینے میں اسے کوئی قباحت نہیں ہے۔
ہندوستان کی تقسیم کے 72 برسوں بعد جموں وکشمیر کی کل باضابطہ طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ، کل ہی مرد آہن اور ہندوستان کے سابق وزیر داخلہ سردا رولبھ بھائی پٹیل کا 144 واں یوم پیدائش بھی تھا۔ اس دن جموں وکشمیر کو ریاست کے زیرانتظام دو علاقوں میں باقاعدہ طور پر تقسیم کرنا سردار پٹیل کو بہترین خراج عقیدت پیش کرنا ہے جن کی انتھک کوششوں کے باعث 70 سال قبل تمام شاہی ریاستوں کو یونین آف انڈیا میں شامل ہونا پڑا تھا۔
Comments
Post a Comment