موضوع: دہشت گردوں کی فنڈنگ کی روک تھام کے معاملے میں پاکستان کا ریکارڈ انتہائی مایوس کن
غیرقانونی طور پر فنڈ اکٹھا کرنے اور مالی لین دین کو بڑھاوا دینے والی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے کثیر قومی ادارے ایف اے ٹی ایف (FATF) کی پلینری(Plenary) اور ورکنگ گروپ کی میٹنگیں (Meetings) 13 سے 18 اکتوبر تک فرانس کی راجدھانی پیرس میں منعقد ہونگی جس میں اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے معاملے میں مناسب قدم نہ اٹھانے کی پاداش میں بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے یا نہیں، یعنی یہ فیصلہ ہونے میں چند روز باقی رہ گئے ہیں۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اقتصادی سطح پر پاکستان کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے جو پہلے ہی سے شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ کی تازہ رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے سلسلے میں پاکستان نے کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا ہے اور اس کا اب تک کا جو ریکارڈ ہے وہ ناقابل قبول حد تک خراب ہے۔ پاکستان کو 27 نکاتی ایکشن پلان کے مطابق کام کرنے کے لئے کہا گیا تھا اور اسے اسی ماہ یعنی اکتوبر تک کا وقت دیا گیا تھا۔ امید کی جارہی تھی کہ اس دوران پاکستان ایسے مناسب اورسخت قدم اٹھائے گا جن کے تحت دہشت گرد گروپوں کا حوصلہ شکنی ہوسکے اور منی لانڈرنگ کا سلسلہ رُک سکے۔ لیکن اس کارکردگی کا جو ریکارڈ سامنے آیا ہے اس سے یہ پتہ چلا کہ اس نے 27 میں سے صرف 6 نکات کا احاطہ کیا ہے۔ 27 نکاتی ایکشن پلان پر حملہ کرنے کے لئے پہلا مرحلہ جنوری2018 میں شروع ہوا تھا۔ لیکن بجائے اس کے کہ پاکستان اس ایجنڈے کے مطابق کام شروع کرتا، وہ ایسے سیاسی رابطے تلاش کرنے میں مصروف ہوگیا جن کے تحت وہ ایف اے ٹی ایف کے عتاب سے بچ سکے اور اسے اس کی طرف سے بلیک لسٹ میں شامل نہ کیاجائے۔ وہ خاص طور سے امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی فکر میں ہے تاکہ وہ اپنے اثرات کا استعمال کرکے کم از کم عارضی طور پر پاکستان کو سبکی اور معاشی دشواریوں سے بچاسکے۔ اس کے لئے وہ اس بات کی بھرپور کوشش کررہا ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان جو امن مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹ گیا تھا وہ دوبارہ جلد از جلد شروع کیا جاسکے۔ ظاہر ہے اس صورت میں امریکہ کو پاکستان کی ضرورت پیش آئے گی اور اس طور پر پاکستان امریکہ سے کچھ رعایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ ویسے میں عمران خان جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے امریکہ گئے تھے تو انہوں نے اسی مقصد سے بعض ممالک کے لیڈروں سے خاص طور پر ملاقات کی تھی اور ان سے مدد مانگی تھی اور پاکستان سب سے بڑا خطرہ یہ محسوس کررہا ہے کہ اگر اسے بلیک لسٹ میں شامل کرلیا گیا تو معاشی سطح پر پاکستان ایک ایسے بھنور میں پھنس سکتا ہے جس سے نکلنا اس کے لئے بہت مشکل ہوجائے گا۔ بہرحال ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کاریکارڈ کچھ اتنا خراب ہے کہ اسے رعایت نہیں ملنی چاہئے لیکن پاکستان جس طور پر بعض ملکوں کے سامنے گڑگڑا رہا ہے اس سے یہ لگتا ہے کہ کچھ لوگ رحم اور ہمدردی کے جذبے کے تحت اسے مالی مشکلات سے بچانے کیلئے ایف اے ٹی ایف پر اخلاقی طور پر کچھ دباؤ ڈالیں اور پاکستان کو وقتی طور پر راحت مل جائے ۔ چین اس معاملے میں اس کا ساتھ دےسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کی کرسیٔ صدارت اس وقت چین ہی کے پاس ہے۔
ایکشن پلان پر عمل کرنے کا دوسرا مرحلہ 2018 کے وسط میں شروع ہوا تھا یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ اے جی پی یعنی ایشیا پیسیفک گروپ نے اگست میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا تھا۔ اس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کارکردگی مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اتری۔ یعنی حالات اسی بات کا اشارہ کررہے ہیں کہ پاکستان کا ریکارڈ اتنا خراب ہے کہ اسےبلیک لسٹ میں شامل کیاجانا چاہئے۔ لیکن وزیراعظم پاکستان عمران خان امریکہ میں ایف اے ٹی ایف کے بیشتر ممبر ممالک سے ملاقات کرکے ان سے درخواست کرتے پھرے کہ انہیں مصیبت سے نجات دلائی جائے۔ ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایسے قدم نہیں اٹھاسکاہے جن کے تحت اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی 1267 کے ذریعے قرار دیئے گئے دہشت گردوں اور گروپوں کی بیخ کنی ہوسکے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لشکرطیبہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن جیسے اداروں کے خلاف جو بھی قدم اٹھائے گئے ہیں وہ ناکافی ہیں۔ یعنی ہر اعتبار سے پاکستان کا ریکارڈ انتہائی خراب اور غیراطمینان بخش ہے۔ ابھی تو یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ میں کیا فیصلہ ہونے والا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے پاکستان بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچ بھی جاتا ہے تو بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کتنے دن تک اس طرح کی عارضی نوعیت کی راحت یا رعایت سے فائدہ اٹھاتا رہے گا، بنیادی سوال تو اپنی جگہ قائم ہے۔ کیا عالمی برادری اور عالمی ادارے پاکستان میں سرگرم دہشت گرد گروپوں کی تخریب کارانہ ذہنیت اور سرگرمیوں کو مسلسل برداشت کرتے رہیں گے؟
ایکشن پلان پر عمل کرنے کا دوسرا مرحلہ 2018 کے وسط میں شروع ہوا تھا یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ اے جی پی یعنی ایشیا پیسیفک گروپ نے اگست میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا تھا۔ اس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کارکردگی مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اتری۔ یعنی حالات اسی بات کا اشارہ کررہے ہیں کہ پاکستان کا ریکارڈ اتنا خراب ہے کہ اسےبلیک لسٹ میں شامل کیاجانا چاہئے۔ لیکن وزیراعظم پاکستان عمران خان امریکہ میں ایف اے ٹی ایف کے بیشتر ممبر ممالک سے ملاقات کرکے ان سے درخواست کرتے پھرے کہ انہیں مصیبت سے نجات دلائی جائے۔ ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایسے قدم نہیں اٹھاسکاہے جن کے تحت اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی 1267 کے ذریعے قرار دیئے گئے دہشت گردوں اور گروپوں کی بیخ کنی ہوسکے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لشکرطیبہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن جیسے اداروں کے خلاف جو بھی قدم اٹھائے گئے ہیں وہ ناکافی ہیں۔ یعنی ہر اعتبار سے پاکستان کا ریکارڈ انتہائی خراب اور غیراطمینان بخش ہے۔ ابھی تو یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ میں کیا فیصلہ ہونے والا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے پاکستان بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچ بھی جاتا ہے تو بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کتنے دن تک اس طرح کی عارضی نوعیت کی راحت یا رعایت سے فائدہ اٹھاتا رہے گا، بنیادی سوال تو اپنی جگہ قائم ہے۔ کیا عالمی برادری اور عالمی ادارے پاکستان میں سرگرم دہشت گرد گروپوں کی تخریب کارانہ ذہنیت اور سرگرمیوں کو مسلسل برداشت کرتے رہیں گے؟
Comments
Post a Comment