کاش پاکستان، بنگلہ دیش سے کچھ سبق سیکھتا!
جنوب ایشیائی ملکوں میں بنگلہ دیش،اقتصادی ترقی کے اعتبار سے جس تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، وہ دوسرے متعدد ملکوں کے لئے قابل رشک ہی نہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔ چند دہائی پہلے کی اگر بات کی جائے تو بنگلہ دیش انتہائی غریب ، خستہ حال اور قحط زدہ ملکوں میں شمار کیا جاتا تھا لیکن اب وہ صحیح معنوں میں اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اس کی شرح نمو کا تخمینہ رواں اور اگلے سال کے لئے 8فیصد کا ہے اور فی کس آمدنی 2000ڈالر کے بقدر پہنچ چکی ہے۔ اس بات کے بھی اشارے ملے ہیں کہ اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان جو تجارتی رقابت چل رہی ہے، اس کا فائدہ بھی بنگلہ دیش کو پہنچا ہے۔ اس کی درآمدات کا حجم 2018میں جہاں 6.7فیصد تھا وہاں اس سال 10.1فیصد کے قریب پہنچ گیا ہے۔ غرضیکہ اس کی پیش رفت ایشیائی ملکوں میں ایک مثال بنتی جارہی ہے۔
بنگلہ دیش کی موجودہ پوزیشن کو دیکھتے ہوئے اس کا موازنہ پاکستان سے کرنا ایک مضحکہ خیز عمل ہوگا۔ لیکن یہاں پاکستان اور بنگلہ دیش کا ذکر ایک ساتھ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستانی ایسٹیبلشمنٹ کو یہ یاد دلایا جائے کہ یہ ملک کبھی پاکستان کا حصہ تھا اور مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔ لیکن پاکستان میں ہوتے ہوئے بھی اسے وہ اہمیت اور حیثیت نہیں حاصل تھی جو مغربی پاکستان کو ملی ہوئی تھی۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں کو پاکستانی حکمراں کمتر درجے کا پاکستانی اور بنگالی مسلمانوں کو کمتر درجے کا مسلمان تصور کرتے تھے۔ قدم قدم پر ان کی تذلیل اور تحقیر کی جاتی تھی حتیٰ کہ 1970میں جب عام انتخابات ہوئے اور مشرقی بازو کی پارٹی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی کی سب سے زیادہ سیٹیں جیتیں تو اسے اقتدار منتقل کرنا تو دور کی بات ، الٹے اس کے رہنما شیخ مجیب الرحمٰن کو غدار قرار دے کر جیل میں ڈال دیا گیا اور مشرقی پاکستان میں آرمی کریک ڈاؤن کرکے لاکھوں باشندوں کو فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس کا منطقی نتیجہ یہی ہوسکتا تھا کہ وہاں کے لوگ ایک ظالم اور جابر فوج اور اس کے کمانڈرو ں سے نجات حاصل کریں۔ تنہا مشرقی پاکستان، باقیماندہ پاکستان کے چاروں صوبوں کی مجموعی آبادی سے بھی بڑا تھا۔ 1971میں وہ پاکستان سے الگ ہوگیا اور بنگلہ دیش کے نام سے ایک نیا آزاد اور خودمختار ملک وجود میں آیا۔
جمہوریت تو پاکستان میں صحیح معنوں میں کبھی پروان ہی نہ چڑھی سو مغربی پاکستان بھی فوجی آمریت ہی کے شکنجے میں رہا۔ اب بھی اگرچہ کہنے کو جمہوریت ہے لیکن منتخب حکومتوں کے پاس اصل اختیارات نہیں ہوتے۔ طاقت کا سرچشمہ فوجی ہیڈکوارٹر ہے جو راولپنڈی میں واقع ہے۔ چونکہ بنگلہ دیش بھی 1971تک پاکستان ہی کا حصہ تھا جہاں اقتدار فوج کے ہاتھ میں تھا لہٰذا آزاد ہوجانے کے بعد بھی وہاں کی فوج میں بھی کچھ عناصر تھے جو پاکستانی جنرلوں کی،روایت پر عمل کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا بنگلہ دیش میں بھی فوج نے اقتدار پر قبضہ کیا۔ قتل وغارت کے مناظر بھی سامنے آئے لیکن رفتہ رفتہ سیاسی قیادت نے اپنی بنیادیں مضبوط بنا لیں اور بنگلہ دیش اب پورے طو رپر آئینی جمہوریت کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔ جس دلجمعی اور ثابت قدمی سے اس ملک اور اس کے باشندوں نے تعمیر وترقی کے کاموں کو آگے بڑھایا ہے، اس کے ثمرات اب ہر طرف نظر آنے لگے ہیں۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ بنگلہ دیش جنوبی ایشیا میں اقتصادی ترقی کی ایک روشن مثال بن کر آگے بڑھ رہا ہے اور ہر شعبہ پر خاطر خواہ توجہ دے رہا ہے، اس لئے اس کی امیج بھی اب کچھ سے کچھ ہوگئی ہے۔
اب ذرا پاکستان پر نظر دوڑائیے۔ یہ ہر اعتبار سے جنوبی ایشیا کے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔ ہندوستان کے بعد یہ سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے۔ وسائل کی کمی نہیں ہے ۔ لیکن اگر اس کی اقتصادی حالت کو دیکھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ جس ملک کے پاس نیو کلیائی بموں کی اچھی خاصی تعداد ہے، جن کی وہ ہندوستان کو دھمکی بھی دیتا ہے، اس ملک کا یہ حال ہے کہ غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبتا ہی جارہا ہے۔ توازن ادائیگی کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے کبھی اسے بین الاقوامی مالی اداروں سے رجوع کرنا پڑتا ہے تو کبھی دوست اور اتحادی ملکوں سے قرض اور امداد حاصل کرنے کے لئے کیا کچھ نہیں کرنا پڑتااور ان تمام باتوں کی قیمت وہاں کے عوام کو چکانی پڑتی ہے جو مہنگائی اور ٹیکس کے بوجھ سے کراہنے لگتے ہیں۔ اس بدحالی کی بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں کا اسٹیبلشمنٹ اپنی منفی روش اور تباہ کن پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اندھی ہندوستان دشمنی نے اس سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہی چھین لی ہے۔ حالیہ دنوں میں کشمیر سے متعلق ہندوستان کے کچھ فیصلوں کو بنیاد بنا کر بے وجہ پاکستانی حکمرانوں نے ہندوستان کے خلاف جو سفارتی اور سیاسی مہم پر اپنی توانائی صرف کی جس کا کوئی فائدہ بھی انہیں نہ ملا اس سے بھی انہوں نے کچھ نہیں سیکھا۔ اگر پاکستانی حکمرانوں کو منفی سوچ اور منفی سیاست کے دائرے سے نکل کر کچھ اور سوچنے کا موقع ملے تو وہ اپنے ہی ملک سے الگ ہونے والے ایک حصے کی کہانی سنیں، اس پر غور کریں اور دیکھیں کہ اس نے کس طرح خاردار جھاڑیوں کو لہلہاتے ہوئے گلشن میں تبدیل کردیا۔ ان کے لئے اس سے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔
Comments
Post a Comment