موضوع: ہندوستان کے بنگلہ دیش کے ساتھ مضبوط ہوتے تعلقات
بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کا ہندوستان کا حالیہ دورہ سیاسی اور سفارتی اعتبار سے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد پچھلے ہفتہ نئی دہلی میں عالمی معاشی فورم کی سربراہ میٹنگ کے دوران بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرنا تھا تاہم اس دورے کے دوران جو معاہدے ہوئے اور جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے بعض اہم قدم اٹھائے ہیں۔
عالمی معاشی فورم کے اجلاس سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیشی لیڈر کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان شراکت داری کا مقصد دونوں ملکوں کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے 9پروجکٹوں کا حوالہ دیا جنہیں نئی دہلی اور ڈھاکہ نے پچھلے ایک سال میں مل کر شروع کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ان 9پروجکٹوں میں مزید تین پروجکٹوں کا ضافہ کردیا جائے گا۔
دونوں ملکوں نے ایل پی جی کی سپلائی، پیشہ ورانہ صلاحیت کے فروغ اور ڈھاکہ میں راماکرشن مشن میں وویکا نند بھون کی تعمیر کے بارے میں معاہدوں پر دستخط کئے۔ بنگلہ دیش سے ہندوستان کو ایل پی جی کی سپلائی کا مقصد شمال۔مشرقی ریاستوں میں کھانا پکانے والی گیس کی سپلائی کو بہتر بنانا ہے۔ ایک دوسرے پروجکٹ کے تحت ہند۔بنگلہ دیش پروفیشنل اسکل ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جائے گا جس سے بنگلہ دیش کی افرادی قوت میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔ دونوں ملکوں نے 7دوسرے معاہدوں پر بھی دستخط کئے جن میں ساحلی علاقوں کی نگرانی، ہندوستانی جہازوں کے ذریعہ چٹو گرام اور مونگلا بندرگاہوں کا استعمال اور تریپورہ کے سبروم شہر میں پینے کا پانی سپلائی کرنے کے لئے فینی ندی سے ایک اعشاریہ آٹھ دو کیوسک پانی کے حصول سے متعلق معاہدے بھی شامل ہیں۔ فینی ندی سے متعلق معاہدے سے تریپورہ کے سرحدی شہر میں پینے کے پانی کی سپلائی کافی بہتر ہوجائے گی اور وہ تنازعہ بھی ختم ہوجائے گا جو برسوں سے بنا ہوا ہے۔
سرحدی علاقوں کی نگرانی سے متعلق معاہدے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس معاہدے سے ہندوستان کو مشترکہ ساحلی علاقہ میں نگرانی کرنے والے رڈار یونٹوں اور بنیادی ڈھانچہ کے قیام کی اجازت مل جائے گی جس سے دونوں ملکوں کے مشترکہ ساحلی علاقوں کی بہتر طور پر نگرانی ہوسکے گی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس طرح کی تقریباً 20یونٹیں قائم کی جائیں گی جو ساحلی علاقوں میں بہتر طور پر نگرانی کرسکیں گی۔
وزیراعظم شیخ حسینہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا ملک ایک ترقی پذیر سیکولر ملک ہے جو اس وقت روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلہ سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2017سے دس لاکھ سے بھی زیادہ روہنگیا ان کے ملک آکر پناہ لئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان سے اپیل کی کہ ان پناہ گزینوں کی میانما میں رخائن صوبے میں ان کی واپسی میں مدد کرے۔ قابل ذکر ہے کہ چٹاگانگ کی پہاڑیوں میں اس وقت ایک اعشاریہ ایک ملین روہنگیا پناہ گزیں کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ہندوستان نے حال میں رخائن صوبے میں روہنگیاؤں کے لئے ایک کالونی تعمیر کی ہے اور مستقبل میں وہ اس طرح کی مزید کالونیاں تعمیر کرنے کا اردادہ رکھتا ہے تاکہ روہنگیاؤں کا مسئلہ حل کرنے میں مدد مل سکے۔ نئی دہلی نےمیانما کی بودھ مذہب کی ماننے والی ارکان برادری کے لئے بھی دس کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا جو اس وقت بنگلہ دیش میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔
امید ہے کہ بنگلہ دیش آئندہ ہونے والی آسیان سربراہ کانفرنس میں روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلہ کو اٹھائے گا۔محترمہ شیخ حسینہ نے آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر سے متعلق معاملہ بھی اٹھایا جس پر وزیراعظم مودی نے کہا کہ یہ عمل عدالت کی منظوری کے بعد شروع کیا گیا ہے اور یہ ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ شاہد الحق نے کہا کہ ان کا ملک این آر سی کے عمل پر نظر رکھے گا تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔
محترمہ شیخ حسینہ نے ایک بار پھر کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردی اور بدعنوانی کو بالکل برداشت نہیں کرے گی اور جنوبی ایشیا کے تمام ملکوں سے اپیل کی کہ وہ اکثریت اور اقلیت کی ذہنیت کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھیں۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم کا ہندوستان دورہ کامیاب تو رہا لیکن تیستا ندی کے پانی کے بٹوارے سےمتعلق معاہدے پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔
دوطرفہ مذاکرات کے بعد محترمہ شیخ حسینہ نے آئندہ سال بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن کے 100ویں یوم پیدائش کی تقریبات میں شرکت کے لئے وزیراعظم نریندر مودی کو بنگلہ دیش آنے کی دعوت دی جسے وزیراعظم نے قبول کرلیا۔
عالمی معاشی فورم کے اجلاس سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیشی لیڈر کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان شراکت داری کا مقصد دونوں ملکوں کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے 9پروجکٹوں کا حوالہ دیا جنہیں نئی دہلی اور ڈھاکہ نے پچھلے ایک سال میں مل کر شروع کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ان 9پروجکٹوں میں مزید تین پروجکٹوں کا ضافہ کردیا جائے گا۔
دونوں ملکوں نے ایل پی جی کی سپلائی، پیشہ ورانہ صلاحیت کے فروغ اور ڈھاکہ میں راماکرشن مشن میں وویکا نند بھون کی تعمیر کے بارے میں معاہدوں پر دستخط کئے۔ بنگلہ دیش سے ہندوستان کو ایل پی جی کی سپلائی کا مقصد شمال۔مشرقی ریاستوں میں کھانا پکانے والی گیس کی سپلائی کو بہتر بنانا ہے۔ ایک دوسرے پروجکٹ کے تحت ہند۔بنگلہ دیش پروفیشنل اسکل ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جائے گا جس سے بنگلہ دیش کی افرادی قوت میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔ دونوں ملکوں نے 7دوسرے معاہدوں پر بھی دستخط کئے جن میں ساحلی علاقوں کی نگرانی، ہندوستانی جہازوں کے ذریعہ چٹو گرام اور مونگلا بندرگاہوں کا استعمال اور تریپورہ کے سبروم شہر میں پینے کا پانی سپلائی کرنے کے لئے فینی ندی سے ایک اعشاریہ آٹھ دو کیوسک پانی کے حصول سے متعلق معاہدے بھی شامل ہیں۔ فینی ندی سے متعلق معاہدے سے تریپورہ کے سرحدی شہر میں پینے کے پانی کی سپلائی کافی بہتر ہوجائے گی اور وہ تنازعہ بھی ختم ہوجائے گا جو برسوں سے بنا ہوا ہے۔
سرحدی علاقوں کی نگرانی سے متعلق معاہدے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس معاہدے سے ہندوستان کو مشترکہ ساحلی علاقہ میں نگرانی کرنے والے رڈار یونٹوں اور بنیادی ڈھانچہ کے قیام کی اجازت مل جائے گی جس سے دونوں ملکوں کے مشترکہ ساحلی علاقوں کی بہتر طور پر نگرانی ہوسکے گی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس طرح کی تقریباً 20یونٹیں قائم کی جائیں گی جو ساحلی علاقوں میں بہتر طور پر نگرانی کرسکیں گی۔
وزیراعظم شیخ حسینہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا ملک ایک ترقی پذیر سیکولر ملک ہے جو اس وقت روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلہ سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2017سے دس لاکھ سے بھی زیادہ روہنگیا ان کے ملک آکر پناہ لئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان سے اپیل کی کہ ان پناہ گزینوں کی میانما میں رخائن صوبے میں ان کی واپسی میں مدد کرے۔ قابل ذکر ہے کہ چٹاگانگ کی پہاڑیوں میں اس وقت ایک اعشاریہ ایک ملین روہنگیا پناہ گزیں کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ ہندوستان نے حال میں رخائن صوبے میں روہنگیاؤں کے لئے ایک کالونی تعمیر کی ہے اور مستقبل میں وہ اس طرح کی مزید کالونیاں تعمیر کرنے کا اردادہ رکھتا ہے تاکہ روہنگیاؤں کا مسئلہ حل کرنے میں مدد مل سکے۔ نئی دہلی نےمیانما کی بودھ مذہب کی ماننے والی ارکان برادری کے لئے بھی دس کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا جو اس وقت بنگلہ دیش میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔
امید ہے کہ بنگلہ دیش آئندہ ہونے والی آسیان سربراہ کانفرنس میں روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلہ کو اٹھائے گا۔محترمہ شیخ حسینہ نے آسام میں شہریوں کے قومی رجسٹر سے متعلق معاملہ بھی اٹھایا جس پر وزیراعظم مودی نے کہا کہ یہ عمل عدالت کی منظوری کے بعد شروع کیا گیا ہے اور یہ ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ شاہد الحق نے کہا کہ ان کا ملک این آر سی کے عمل پر نظر رکھے گا تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔
محترمہ شیخ حسینہ نے ایک بار پھر کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردی اور بدعنوانی کو بالکل برداشت نہیں کرے گی اور جنوبی ایشیا کے تمام ملکوں سے اپیل کی کہ وہ اکثریت اور اقلیت کی ذہنیت کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھیں۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم کا ہندوستان دورہ کامیاب تو رہا لیکن تیستا ندی کے پانی کے بٹوارے سےمتعلق معاہدے پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔
دوطرفہ مذاکرات کے بعد محترمہ شیخ حسینہ نے آئندہ سال بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن کے 100ویں یوم پیدائش کی تقریبات میں شرکت کے لئے وزیراعظم نریندر مودی کو بنگلہ دیش آنے کی دعوت دی جسے وزیراعظم نے قبول کرلیا۔
Comments
Post a Comment