بغدادی کی موت داعش کا بڑا نقصان لیکن اس سے چوکس رہنے کی ضرورت



خیر ہے کہ داعش کے بانی ابوبکر البغدادی مارا گیا۔ ویسے تو اس کی موت کی خبر پہلے کئی بار گرم ہوئی لیکن کوئی بھی پائے تصدیق کو نہ پہنچ سکی۔ امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کے مطابق وہ امریکہ کی خصوصی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔ تفصیل کے مطابق وہ سیریا کے ایک صوبے کے ایک گاؤں کی خفیہ سرنگ میں چھپا ہوا تھا اور مسٹر ٹرمپ ہی کے مطابق امریکی فورسز نے اسے جب اپنے حصار میں لیا تو اس نے خود کو اور اپنے بیٹوں کو خود ہی اڑا لیا۔ بہرحال بدنام زمانہ دہشت گرد کا نام اس وقت سننے میں آیا جب 2014 میں موصل کی مشہور مسجد نوری مسجد میں وارد ہوا۔ اس کے گروپ والوں نے نام نہاد خلافت کا اعلان کیا اور اسے اس کا خلیفہ قرار دیا۔ 2014 میں جب اس کی نام نہاد خلافت کا اعلان ہوا تو وہ عراق اور سیریا کے سرحدی علاقوں میں ایک بہت بڑے حصہ پر قابض تھا، جو رقبے کے اعتبار سے برطانیہ کے برابر تھا۔ شمالی عراق میں واقع رقہ کی وہ اپنی راجدھانی کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ اس کے اس گروپ میں دنیا کے مختلف ملکوں کے گمراہ اور انتہاپسند مسلم نوجوان شامل ہوئے اور بہتو ں نے اس میں دلچسپی لینا شروع کیا تھا۔ لیکن اس کی نام نہاد خلافت جس قسم کے اسلام کی تبلیغ کررہی تھی وہ اس کا اسلام کا خود ساختہ انٹرپریٹیشن تھا۔ دنیا کے بیشتر مسلمانوں نے اسے پورے طور پر مسترد کردیا تھا اور اسے ایک دہشت گرد گروپ ہی قرار دیا تھا جو اسلامی تعلیمات اور اسپرٹ کا قائل تھا ۔ لیکن فرعون صفت بغدادی کی نام نہاد خلافت بڑی مختصر مدت تک ٹک پائی۔ بیشتر علاقے اس کے قبضے سے جلد ہی آزاد کرالئے گئے۔ اس کے نام نہاد جہادی بھاگ کھڑے ہوئے اور اب خود بغدادی بھی ہلاک ہوچکا ہے لہذا اب اس کا گروپ اور اس کی تنظیم انتہائی کمزور مرحلے میں ہے۔ لیکن یہ سوچنا کہ اس کا پورے طور پر صفایا ہوچکا ہے یا یہ کہ اب اس میں دم خم باقی نہیں رہا، ایک مغالطہ ہوگا۔ ایسے گروپوں کی سرگرمیاں آسانی سے ختم نہیں ہوتیں کیونکہ اس طرح کے گروپ اپنے آئیڈیل یا نظریاتی پیروں سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور پورے طور پر کسی خاص لیڈر پر انحصار نہیں کرتے۔ سو عالمی پیمانے پر اپنے طرز کے جہاد کو فروغ دینے والے گروپ مثلاً القاعدہ جیسے گروپ! جو بنیادی طور پر ایسی اتھل پتھل کو فروغ دیتے ہیں جو گہری نظریاتی وابستگی کے ساتھ کسی ضمنی گروپ سے جڑے ہوتے ہیں جو کسی ایک خود مختار یونٹ کا مالک ہوتا ہے۔ اس لئے یہ سوچ لینا کہ بغدادی کی موت کے بعد داعش کی سرگرمیاں بالکل ماند پڑ جائیں گی، ایک بہت بڑی بھول ثابت ہوسکتی ہے۔ یہاں ایک مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ جب 2006 میں ابو معصب الزرقاوی امریکہ کے ہاتھوں مارا گیا تھا تو القاعدہ اِن عراق یعنی اے کیو آئی کو بہت بڑا دھکا لگا تھا۔ یہ وہی تنطیم تھی جس کی سربراہی الزرقاوی کررہا تھا۔ اس کی موت کے بعد شمالی عراق کے سنی، اے کیو آئی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور اس گروپ کو شہروں اور قصبوں سے نکال باہر کیا تھا لیکن اس کے بعد بھی وہ گروپ ختم نہیں ہوا۔

2011 کے اوائل میں سیریا میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوئی اور ہر طرف افرا تفری مچ گئی تو اسی اے کیو آئی کی کمان ابوبکر البغدادی نے سنبھالی اور زیادہ طاقتور اور خونخوار قسم کا دہشت گرد گروپ بن کر ابھرا۔ وہی آج داعش یا آئی ایس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یعنی آج جو دن داعش کو دیکھنا پڑرہا ہے ، کچھ ویسے ہی حالات سے اس زمانے میں القاعدہ اِن عراق یا اے کیو اے کو گزرنا پڑا تھا۔

اب چونکہ داعش کو زبردست دھکا لگا ہے کیونکہ اس کا قبضہ تو عراق اور سیریا کے متاثرہ علاقوں سے پہلے ہی چھن چکا تھا۔ اب بغدادی بھی مارا گیا۔ اس لئے اس علاقے کے متاثرہ ملکوں کو اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سب سے پہلے متاثرہ علاقوں کو مضبوط اور منظم کرنا چاہئے اور ایسے حالات سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے جن کا فائدہ اٹھاکر القاعدہ اور آئی ایس جیسے گروپ اپنی جڑیں مضبوط کرتے ہیں۔ اگر ایسا کرنے میں کوتاہی ہوتی ہے تو البغدادی کی ہلاکت کے کچھ زیادہ معنی نہیں رہ جائیں گے اور دہشت گردی کے خلاف چلنے والی عالمی لڑائی کمزور پڑجائے گی۔ ایک اور بات کا دھیان رکھنا ضروری ہے کہ علاقے کے ممالک کے علاوہ بڑے ممالک کی بھی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے خصوصی مفادات اور پالیسیوں سے بلند ہوکر دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی وضع کریں اور براہ راست یا بالواسطہ ایسے گروپوں کی حوصلہ افزائی کا باعث نہ بنیں جو دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں۔ ہندوستان ان ملکوں میں شامل ہے جو دہشت گردی کے تئیں سخت اور واضح موقف اختیار کرتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ