ہندوستان اور سعودی عرب کا کاروباری رشتوں کو اسٹریٹجک تعلقات میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

وزیراعظم نریندر مودی اس ہفتہ سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر تھے۔ ریاض کے تئیں نئی دہلی کی پالیسی میں جو تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور مستقبل میں اس کے جو فائدے ہونے والے ہیں، یہ دورہ ان پر خاص روشنی ڈالتا ہے۔ روایتی طور پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد سفر حج اور توانائی کی درآمدات ہیں لیکن حالیہ برسوں میں دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کو کاروباری رشتوں سے آگے لے جانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے منعقدہ تیسرے فیوچر انوسٹمنٹ انی شیئٹیو ایف آئی آئی سے وزیراعظم مودی کا خطاب ایک اہم قدم ہے۔

ایف آئی آئی کے انعقاد کا مقصد سعودی عرب میں غیر روایتی توانائی، سیاحت اور تفریح جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرنا ہے تاکہ تیل کے شعبہ پر ملک کا انحصار کم ہوسکے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں یہ اقدامات وزیراعظم نریندر مودی کی ہندوستان کو 2024 تک 5 ٹریلین ڈالر والی معیشت بنانے کی خواہش سے مطابقت رکھتے ہیں۔

2014 میں جناب نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان یہ آٹھویں ملاقات تھی۔ ولی عہد محمد بن سلمان سے یہ ان کی چھٹی میٹنگ تھی اور جموں و کشمیر سے دفعہ 370 منسوخ کرکے اس کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے بعد وزیراعظم مودی کی محمد بن سلمان سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کے تعلق سے حکومت ہند کے اس اقدام کے بعد پاکستان نے ہندوستان کے خلاف سفارتی کوششیں تیز کردی تھیں اور خاص طور پر مغربی ایشیا کے ملکوں میں واویلا مچانا شروع کردیا تھا۔

2006 میں شاہ عبداللہ کے ہندوستان دورےکے اختتام پر دہلی اعلامیہ جاری کیا گیا تھا، جس میں دونوں ملکوں نے تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ تاہم اس سلسلہ میں کوئی زیادہ پیش رفت نہ ہوسکی۔ لیکن مہاراشٹر کی ایک پٹرو کیمیکل ریفائنری میں سرمایہ کاری کے لئے سعودی عرب کی خواہش اور دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے ریلائنس میں 15 ارب ڈالر کے حصص خریدنے کے ارادے سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو کافی تقویت ملی اور یہ اشارہ بھی ملا کہ ریاض ، نئی دہلی کے ساتھ اپنے رشتوں کو روایتی رشتوں سے آگے لے جانا چاہتا ہے۔

اپنے دورے کے دوران وزیراعظم نریندر موددی نے شاہ سلمان سمیت متعدد دوسرے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ قابل ذکر ہے کہ جناب مودی نے شاہ سلمان سے پہلی بار نومبر 2014 میں برسبین میں جی۔20 سربراہ کانفرنس کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس وقت وہ سعودی ولی عہد تھے۔ اس وقت سے لیکر اب تک جناب مودی سعودی فرمانروا سے تین بار مل چکے ہیں۔

وزیراعظم مودی کے دورے کے اختتام پر جاری مشترکہ بیان میں دونوں ملکوں نے ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کی اور کہا کہ کسی بھی مخصوص مذہب ، نسل اور ثقافت کو عالمی دہشت گردی سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں کسی دوسرے ملک کو مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مشرقی سعودی عرب میں آرا مکو کی تنصیبات پر ڈرون حملے کی بھی مذمت کی۔ مشترکہ بیان میں فلسطینی کاز کی حمایت کا بھی اعلان کیا گیا۔ دونوں ملکوں نے ملک شام اور یمن کے موجودہ حالات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اس دورے کی ایک اہم بات ہے ایک کلیدی ساجھیداری کونسل کا قیام، جس کی قیادت وزیراعظم مودی اور ولی عہد محمد بن سلمان مشترکہ طور پر کریں گے۔ یہ کونسل ایک جامع باہمی طریق کار ہوگی اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے تمام تر پہلو اس کے دائرے میں آئیں گے۔ اس کونسل کے قیام کا مطلب یہ ہے کہ اب دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لئے برابر ملتے رہیں گے۔ دورے کے دوران توانائی، شہری ہوابازی، سیکیورٹی تعاون اور دفاع سمیت متعدد شعبوں میں ایک درجن معاہدوں پر بھی دستخط کئے گئے۔ جناب مودی نے سعودی عرب میں روپے کارڈ کی بھی شروعات کی۔

جناب مودی نے کہا کہ ہندوستان کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ کافی مضبوط ہے اور آئندہ چند برسوں میں اس میں ایک کھرب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے امکانات ہیں۔ اس شعبہ میں سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری کے امکانات کافی روشن ہیں۔ اس طرح اس دورے نے دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کے لئے ایک اسٹیج تیار کردیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ