موضوع: امریکہ نے کہا کہ پاکستانی دہشت گرد ہندوستان میں حملہ کرسکتے ہیں
ہر حکومت کو اپنے ملک کے اندر قانون سازی کرنے ، عوام کی بہبود کیلئے مناسب فیصلے کرنے اور ملک کی ترقی کیلئے کوششیں کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ کسی ملک کو یہ زیبا نہیں دیتا کہ وہ دوسرے ملک کے داخلی امور میں مداخلت کرے۔ جموں وکشمیر میں دفعہ 370 اور 35اے کو ختم کئے جانے کے بعد سے پاکستان کا رویہ انتہائی اشتعال انگیز رہا ہے۔ وہ بار بار ہندوستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کررہا ہے اور ایسا تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے جیسے جموں وکشمیر کا معاملہ اس کا اپنا معاملہ ہو۔ جموں وکشمیر کے معاملے کو پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کی کوشش کی لیکن اسے کوئی حمایت نہیں ملی۔ چین کے ساتھ اس کے دیرینہ روابط ہیں اس لئے چین کا اس کی طرف مائل ہونا فطری بات ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے طویل تقریر کی تھی اور اس میں انکا پورا زور اس بات پر تھا کہ جموں وکشمیر کے معاملہ کو کسی طرح سے اچھالا جائے ، لیکن یہاں ان کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ بین الاقوامی فورم پر مایوسی ہاتھ لگنے کے بعد اب پاکستان اپنا پرانا طریقہ اختیار کرسکتا ہے۔ وہ جموں وکشمیر میں دہشت گردوں کی دراندازی کے ذریعے وہاں کے امن وامان کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ اس سلسلے میں تازہ تشویش امریکہ نے ظاہر کی ہے۔ ہند۔ بحرالکاہل سلامتی کے امور کے نائب وزیر دفاع رینڈل شریور (Randall Shriver)نے گزشتہ منگل کو واشنگٹن میں کہا کہ اگر پاکستان دہشت گرد گروپوں کو قابو میں نہیں کرتا تو وہ ہندوستان میں حملہ کرسکتے ہیں۔
ہندوستان کے وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں دنیا کو درپیش مسائل پر بات کی انہوں نے آب وہوا میں تبدیلی، دہشت گردی کی لعنت اور نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کی فلاح وبہبود کی بات کی۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان کے وزیراعظم نے صرف اور صرف ہندوستان کو نشانہ بنایا۔ یہ بات ان کی تنگ نظری کی دلیل ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس نے اجلاس کے فوراً بعد اپنی نمائندہ ملیحہ لودھی کو عہدے سے ہٹادیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان کو اقوام متحدہ سے جو توقع تھی وہ پوری نہیں ہوئی۔ پاکستان اگر یہ چاہتا ہے کہ عالمی سطح پر اس کی بات سنی جائے تو اسے اپنے نظریہ میں تبدیلی لانی ہوگی، اسے دہشت گردوں کو سرکاری آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کی اپنی روش تر ک کرنی ہوگی۔ اسے مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور جب وہ ایسا کرے گا تو بات چیت کیلئے ماحول خود بخود سازگار ہوگا۔
پاکستان جموں وکشمیر میں زیادتی کی بات کرتا ہے لیکن بلوچستان میں لوگوں پر ہونے والے مظالم اور جبراً گمشدگی کے معاملے پر خاموش رہتا ہے۔ ہندوستان نے جموں وکشمیر میں لوگوں کو حقوق دیئے ہیں ،ان کی ترقی کیلئے مواقع پیدا کئے ہیں۔ پاکستان اس سے خوش نہیں ہے۔ وہ جموں وکشمیر کے عوام کو غریب دیکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ اس کے اشاروں پر کام کرنے پر مجبور ہوں۔ پاکستان جموں وکشمیر اور افغانستان میں بدامنی پھیلانے میں مصروف رہا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ ان علاقوں میں امن وامان قائم ہو۔ امریکہ نے افغانستان میں امن قائم کرنے کیلئے شدت پسندگروپ طالبان سے بات چیت شروع کی تھی اور یہ آخری مراحل میں تھی جس کے بعد کوئی معاہدہ ممکن تھا لیکن عین وقت پر ایک دھماکے میں امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات چیت منقطع کردی۔ اس بات چیت سے افغانستان کے عوام کو کافی امیدیں تھیں کہ شاید اب ان کے ملک میں امن و خوشحالی کا ایک نیا باب شروع ہو۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ افغانستان میں شدت پسند گروپوں کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔ اسی طرح سے جموں وکشمیر میں بھی وہ امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتا۔ دہائیوں تک اس نے یہاں کے عوام کو گمراہ کیا ہے اور ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ جموںو کشمیر کے عوام کو ان کا جائز حق دیا جائے جس کی کوشش حکومت ہند نے شروع کردی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ہی جنگ اور خون خرابہ کی بات کی ہے جبکہ ہندوستان نے امن وخوشحالی کو اپنا نظریہ بنایا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران دنیا کے رہنماؤں کی موجودگی میں ایٹمی جنگ کی دھمکی دی۔ اس طرح کی بات نیوکلیائی ہتھیاروں سے لیس کوئی بھی ذمہ دار ملک نہیں کرسکتا۔ عمران خان نے وہی بات کی جو پاکستان کی فطرت میں ہے۔ پاکستان نے آزادی کے بعد سے یہی کیا ہے ترقی پرتوجہ مرکوز کرنے کے بجائے دہشت گردی کو بڑھاوا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج وہ مالی بحران کا شکار ہے۔ پاکستان اپنے عوام کی بھلائی کے لئے جتنی جلد اپنے رویے میں تبدیلی لائیگا اتنا ہی اس کے حق میں بہتر ہوگا۔
ہندوستان کے وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں دنیا کو درپیش مسائل پر بات کی انہوں نے آب وہوا میں تبدیلی، دہشت گردی کی لعنت اور نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کی فلاح وبہبود کی بات کی۔ جبکہ دوسری طرف پاکستان کے وزیراعظم نے صرف اور صرف ہندوستان کو نشانہ بنایا۔ یہ بات ان کی تنگ نظری کی دلیل ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس نے اجلاس کے فوراً بعد اپنی نمائندہ ملیحہ لودھی کو عہدے سے ہٹادیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان کو اقوام متحدہ سے جو توقع تھی وہ پوری نہیں ہوئی۔ پاکستان اگر یہ چاہتا ہے کہ عالمی سطح پر اس کی بات سنی جائے تو اسے اپنے نظریہ میں تبدیلی لانی ہوگی، اسے دہشت گردوں کو سرکاری آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کی اپنی روش تر ک کرنی ہوگی۔ اسے مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور جب وہ ایسا کرے گا تو بات چیت کیلئے ماحول خود بخود سازگار ہوگا۔
پاکستان جموں وکشمیر میں زیادتی کی بات کرتا ہے لیکن بلوچستان میں لوگوں پر ہونے والے مظالم اور جبراً گمشدگی کے معاملے پر خاموش رہتا ہے۔ ہندوستان نے جموں وکشمیر میں لوگوں کو حقوق دیئے ہیں ،ان کی ترقی کیلئے مواقع پیدا کئے ہیں۔ پاکستان اس سے خوش نہیں ہے۔ وہ جموں وکشمیر کے عوام کو غریب دیکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ اس کے اشاروں پر کام کرنے پر مجبور ہوں۔ پاکستان جموں وکشمیر اور افغانستان میں بدامنی پھیلانے میں مصروف رہا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ ان علاقوں میں امن وامان قائم ہو۔ امریکہ نے افغانستان میں امن قائم کرنے کیلئے شدت پسندگروپ طالبان سے بات چیت شروع کی تھی اور یہ آخری مراحل میں تھی جس کے بعد کوئی معاہدہ ممکن تھا لیکن عین وقت پر ایک دھماکے میں امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات چیت منقطع کردی۔ اس بات چیت سے افغانستان کے عوام کو کافی امیدیں تھیں کہ شاید اب ان کے ملک میں امن و خوشحالی کا ایک نیا باب شروع ہو۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ افغانستان میں شدت پسند گروپوں کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن قائم ہو۔ اسی طرح سے جموں وکشمیر میں بھی وہ امن قائم نہیں ہونے دینا چاہتا۔ دہائیوں تک اس نے یہاں کے عوام کو گمراہ کیا ہے اور ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ جموںو کشمیر کے عوام کو ان کا جائز حق دیا جائے جس کی کوشش حکومت ہند نے شروع کردی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ہی جنگ اور خون خرابہ کی بات کی ہے جبکہ ہندوستان نے امن وخوشحالی کو اپنا نظریہ بنایا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران دنیا کے رہنماؤں کی موجودگی میں ایٹمی جنگ کی دھمکی دی۔ اس طرح کی بات نیوکلیائی ہتھیاروں سے لیس کوئی بھی ذمہ دار ملک نہیں کرسکتا۔ عمران خان نے وہی بات کی جو پاکستان کی فطرت میں ہے۔ پاکستان نے آزادی کے بعد سے یہی کیا ہے ترقی پرتوجہ مرکوز کرنے کے بجائے دہشت گردی کو بڑھاوا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج وہ مالی بحران کا شکار ہے۔ پاکستان اپنے عوام کی بھلائی کے لئے جتنی جلد اپنے رویے میں تبدیلی لائیگا اتنا ہی اس کے حق میں بہتر ہوگا۔
Comments
Post a Comment