موضوع: پاکستان میں اقلیتوں پر ظلم وستم پر امریکہ کا اظہار تشویش



پاکستان میں اکثریتی فرقہ کی جانب سے مذہبی اقلیتوں پر ستم رانی عام بات ہے۔ اسی ظلم وستم کے باعث وہاں اقلیتوں کی تعداد میں کمی واقع ہورہی ہے۔ پاکستان کی تشکیل کے وقت ہندوؤں، سکھّوں، عیسائیوں، پارسیوں اور بودھوں سمیت اقلیتوں کی آبادی کل آبادی کا اٹھائیس فیصد تھی۔ اس وقت کے مشرقی پاکستان میں صرف ہندوؤں کی آبادی بائیس فیصد تھی لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی اقلیتوں کی آبادی چار فیصد سے بھی کم ہوکر رہ گئی ہے۔

پاکستان کے بابائے قوم محمد علی جناح نے ایک سیکولر ملک کا خواب دیکھا تھا لیکن ان کی زندگی میں ہی بنیاد پرستوں نے ایک مخصوص مذہب کی وکالت شروع کردی اور مطالبہ کیا کہ اسے سرکاری طور پر تسلیم کیا جائے۔ بالآخر انیس سو اسی کی دہائی میں صدر ضیاء الحق کی حکومت کے دوران پاکستان اسلامی ملک بن گیا۔ 

پاکستان میں دہائیوں سے اقلیتوں پر ظلم وستم جاری ہے۔ فرسودہ قوانین اور جھوٹے الزامات کے خوف کے باعث مذہبی اقلیتیں خود کو غیرمحفوظ محسوس کررہی ہیں۔ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی اور مذہب کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی خبروں پر اسے گہری تشویش ہے۔ واشنگٹن نے عمران خان حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی بالادستی اور ملک کے آئین کے مطابق فراہم کی گئی مذہبی آزادی کو یقینی بنائے۔ امریکہ کی جنوبی اور وسطی ایشیا کی کارگزار نائب وزیرخارجہ ایلس جی ویلس نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اپنے موجودہ منصوبے کے تحت جو اصلاحات کررہا ہے ان سے ترقی اور بہتر معاشی مینجمنٹ کی بنیاد رکھنے میں مدد ملے گی اور بالآخر اس سے نہ صرف جمہوری نظام بہتر ہوگا بلکہ حقوق انسانی کی صورتحال بھی بہتر ہوگی۔

حالیہ برسوں میں پاکستان میں پریشان کن رجحانات دیکھنے کو ملے ہیں۔ حکومت کی جانب سے میڈیا کی آزادی پر قدغن اور سول سوسائٹی کی آواز کو دبانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کو نہ صرف حراساں کیا جاتارہا ہے بلکہ انہیں دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں کہ وہ حکومت کے خلاف زبان نہ کھولیں ۔ محترمہ ویلس نے کہاکہ ان کا ملک حکومتِ پاکستان سے برابر اپیل کرتا رہا ہے کہ وہ ان گروپوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے جو حکومت اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی تنقید کرتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری غیرسرکاری بین الاقوامی تنظیموں کیلئے پاکستان کی دشوار رجسٹریشن پالیسی سے بھی فکرمند ہے کیونکہ اس سے مشہور ومعروف تنظیموں کی جانب سے پاکستانی عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کئے جانے والے اہم کاموں میں دشواری پیدا ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکی وزارت خارجہ ان لوگوں کی حمایت کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں ، نیز سول سوسائٹی کی تنظیموں، سیاست دانوں، مذہبی رہنماؤں اور صحافیوں سے بات چیت کرتی رہی ہے جو پاکستانی عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کام کررہے ہیں۔ 

محترمہ ویلس نے کہاکہ امریکی انتظامیہ کو پاکستان میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کی خبروں پر گہری تشویش ہے۔ بہت سے معاملوں میں تو غیرسرکاری لوگ بھی اقلیتوں پرظلم ڈھاتے نظر آتے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کی ایک مثال ہے مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی وہ خاتون جس کے خلاف اہانت رسول کا مقدمہ چلایا گیا۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اسے تمام الزامات سے بری کردیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ عدالت عظمیٰ نے اسے ملک سے باہر جانے کا راستہ بھی ہموار کردیا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ پاکستان میں مذہبی رواداری نہایت ضروری ہے اور مذہبی اقلیتی گروپوں کے حقوق پر ضرب لگانا قطعی مناسب نہیں ۔ لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ملک میں کافی واویلا مچا۔ پاکستان کے سخت گیر عناصر نے اس پر کافی شوروغل مچایا۔ عمران خان حکومت کو عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کا مجبوراً دفاع کرنا پڑا۔ پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے آئین کے عین مطابق ہے۔ 

ان سب کے باوجود پاکستان کی پالیسیوں اور قوانین کے باعث شعیہ اور احمدیہ جیسے فرقوں کے خلاف امتیازی سلوک ابھی بھی جاری ہیں۔ پاکستان میں اہانتِ اسلام کا قانون ابھی بھی نافذ ہے۔ اس قانون کے باعث درجنوں پاکستانیوں کو سزائے موت مل چکی ہے اور کچھ عمرقید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں اہانتِ اسلام کے الزام میں بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ یہ صورتحال واقعی پریشان کن ہے۔ 

*****

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ