موضوع: پاکستان میں انسانی حقوق کے کاز سے جڑے کارکنوں کی بپتا


ایف اے ٹی ایف نے حال ہی میں پاکستان کو ایک بار پھر یہ وارننگ دی ہے کہ وہ دہشت گرد گروپوں کی فنڈنگ اورمنی لانڈرنگ پر روک لگانے کے لیے اپنے طے شدہ نشانے کو پورا کرے ورنہ فروری 2020 تک اسے قطعی طور پر بلیک لسٹ میں شامل کرلیا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ اس کی موجودہ گرے لسٹ کی صورت حال برقرار رکھی ہے۔ حالانکہ اب بھی یہ بات مشکوک ہے کہ فروری تک پاکستان وہ نشانہ پورا کرسکے گا۔ ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک اس نے 27 نکاتی ایکشن پلان میں سے صرف 6 نکات کا نشانہ پورا کیا ہے۔ پاکستان بھلے ہی ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے سے معذور رہا ہو جنہیں اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا ہے لیکن ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے میں اس کی ایجنسیاں اور خفیہ ادارے قطعی کوتائی نہیں کرتے، جو لوگ انسانی حقوق سے جڑے کارکن اور سیاسی مخالفین ہیں یا جمہوری طرز پر تحریک چلانے والی تنظیمیں اور گروپ ہیں۔ ایسے لوگوں اور کارکنوں کو دہشت گرد قرار دینے اور اذیت دینے میں پاکستان انتہائی سرگرم اور چاق وچوبندرہتا ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں پر حالیہ مہینوں میں جتنے مظالم پاکستانی ایجنسیوں نے ڈھائے ہیں ان کا حساب کرنا بھی مشکل ہے۔ دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان ایک نارمل ملک ہے یا محض اذیت خانہ یا عقوبت خانہ بن کر رہ گیا ہے۔ پختون تحفظ موومنٹ کی ایک سرگرم رکن گلالئی اسماعیل کو کن مصیبتوں سے گزرنا پڑا ہے اس کی کہانی پاکستان کے اخباروں میں تو آتی ہی رہی ہے لیکن اس کا ذکر بین الاقوامی پیمانے پر بھی ہوا ہے۔

گلالئی اسماعیل کا تعلق صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی سے ہے۔ وہ اسی سال مئی کے اواخرسے غائب تھیں۔ دراصل اسی زمانے میں اسلام آباد میں ایک نہایت انسانیت سوز واقعہ پیش آیا تھا۔ ایک نابالغ بچی سے جنسی زیادتی اور پھر اس کے بعد اس کے قتل کی واردات پر زبردست احتجاج ہوا تھا۔ احتجاج کرنے والوں میں گلالئی بھی تھیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ سے جڑے ہونے کے باعث وہ پہلے ہی سے حکومت اور ایجنسیوں کے نشانے پر تھیں۔ لیکن جب انہوں نے کمسن بچی کے ساتھ ہونے والی بدفعلی اور اس کے قتل کے واقعہ پر احتجاج کیا تو ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اسی سال جولائی میں گلالئی اسماعیل اور ان کے والدین کے خلاف این جی اوز کی آڑ میں دہشت گرد تنظیموں اور ملک دشمن عناصر کی مالی معاونت کرنے کے الزام میں منی لانڈرنگ اورانسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیاتھا۔ اب یہاں قابل غور بات یہ ہےکہ انسانی حقوق کی ایک خاتون کارکن اور اس کے بوڑھے والدین پر دہشت گردی کو فروغ دینے اور ان کے این جے او پر دہشت گردوں کو فنڈ فراہم کرنے کا الزام عائد کیاگیا ہے۔ بادی النظر میں ہی یہ پورا معاملہ مضحکہ خیز لگتا ہے کیوں کہ پاکستانی ایجنسیوں کا یہ پرانا حربہ رہا ہے۔ یہی کھیل صوبۂ بلوچستان میں برسوں بلکہ دہائیوں سے کھیلا جارہا ہے۔ وہاں سیاسی حریفوں، ہیومن رائٹس کارکنوں اور طلبا کو اکثر اذیتیں دی جاتی ہیں۔ انہیں پراسرار طورپر اغوا کیا جاتا ہے اوران کی لاشیں ادھر ادھر پھینک دی جاتی ہیں۔ اب وہی کہانی پشتون کارکنوں کے ساتھ دہرائی جارہی ہے۔ یہ وہی پاکستان ہے جسے ایف اے ٹی ایف کی طرف سے وارننگ پر وارننگ مل رہی ہے کہ وہ دہشت گردوں کی منی لانڈرنگ پر روک لگائے اس کے باوجود وہ ایکشن پلان کے 27 میں سے صرف 6 نکات کی شرط پوری کرسکا ہے لیکن ایک پشتون کارکن او راس کے والدین کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کرنے میں اسے قطعی وقت نہیں لگا۔ اس سلسلے میں تازہ خبر ہے کہ گلالئی اسماعیل کے والد پروفیسر اسماعیل پشاور سے پراسرار طور پر لاپتہ کردیے گئے۔ خبروں کے مطابق گلالئی نے سماجی رابطوں کے ویب سائٹ ٹوئیٹر پر لکھا ہے کہ ان کے والد کو پشاور ہائی کورٹ کے سامنے سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے۔ پختون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے بھی یہی الزام لگایا ہے۔ یہ گزشتہ جمعرات کا واقعہ ہے۔ ابھی تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملااور نہ ہی ایجنسی والون نے کچھ بتایا ہے۔ یہ ہے اس پاکستان کا انسانی حقوق کاریکارڈ جس کے نمائندے گلا پھاڑپھاڑ کر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بات کرتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ