موضوع: پاکستان کی نیت: نئے شکوک کے گھیرے میں
ابھی حال ہی میں ترکی کے صدر جناب رجب طیب اردوغان نے اپنی پارتی کے ایک کانفرنس میں نیوکلیائی اسلحوں کے سلسلے میں جو کچھ ارشاد کیا ہے، اس سے عالمی پیمانے پر نہ صرف ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے بلکہ عالمی سیاست میں پاکستان کے مقام اور عالمی برادری میں اس کے بھروسے مندی پر نئے سرے سے سوال بھی اٹھ رہے ہیں۔
خبروں کے مطابق جناب اردوغان نے اپنی پارٹی کانفرنس میں یہ بات کہی ہے کہ دنیا میں بعض ممالک کے پاس نیو کلیائی اسلحے ہیں اور ان کو لے کر دوسرے کسی ملک پر گرانے والی میزائیلیں بھی ہیں، لیکن مغربی ممالک زور دے کر یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ترکی ان کو حاصل نہیں کرسکتا اور یہ بات ان کو قبول نہیں ہے۔ اسے ہی لے کر ابھی حال ہی میں نیویارک ٹائمز نے کچھ سوال اٹھائے ہیں۔اگر ہم غور کریں تو اس سوال کے دو پہلو سامنے آئیں گے، اس میں ایک پہلو کا تعلق تو نظریہ اور اصول سے ہے اور نیو کلیائی عدم توسیع کے معاہدے یعنی NPT کو لے کر ہندوستان کا دیرینہ موقف اسی سے وابستہ رہا ہے۔ اس نظریے کے مطابق این پی ٹی کی بنیاد ہی عدم مساوات پر قائم رہی ہے کیوں کہ یہ معاہدہ چند ملکوں کو چھوڑکر باقی تمام ملکوں کو نیوکلیائی ہتھیاروں کے فروغ سے روکتا یا روکنے کی کوشش کرتا ہے جب کہ آئیڈیل صورت یہ ہوگی کہ اقوام متحدہ اور اس کی متعلقہ ایجنسیوں کی نگرانی میں نیو کلیائی ہتھیاروں سے آراستہ تمام ملک اپنے ان ہتھیاروں کے ذخیرے کو ایک سرے سے مکمل طور پر ختم کریں اور کوئی ملک پھر سے اس طرح کے ہتھیار نہ بنائے، لیکن مغربی ملکوں کو یہ نظریہ راس آتا ہوا نہیں معلوم ہوتا اور وہ اپنی نیوکلیائی برتری پر کوئی سوال کھڑے ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے۔
سوال کا دوسرا پہلو اسی پہلو سے وابستہ ہے۔ اگر کچھ ملک اپنی نیوکلیائی اجارہ داری قائم رکھنے پر بضد ہیں تو یہ طے ہے کہ ان کی تمام نگرانی کو مسترد کرتے ہوئے بعض ملک اس اجاراہ داری کو توڑنے کی کوشش یقینا کریں گے۔ این پی ٹی کی داغ بیل تو تقریبا آدھی صدی پہلے 1960 کی دہائی میں ایک ایسے ماحول میں ہوئی تھی جب اپنے دم پر چین نے ایٹم اور ہائیڈروجن بموں کے تجربے کیے اور مغربی ملکوں کو اپنی اجارہ داری ٹوٹتی ہوئی نظر آنے لگی، لیکن اس کے بعد تو صورت تیزی سے بدلی ہے اور نہ صرف تین ملکوں نے عدم توسیع کی تمام کوششوں کے باوجود ایٹمی تجربے کیے بلکہ عرق اور لیبیا کے خلاف شک کا اظہار بھی کیا گیا کہ انہوں نے ایٹمی ہتھیاربنالیے ہیں اگرچہ ان کے یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ملا۔ نیز نہ صرف ایران اور بعض دوسرے ملکوں کو ایسے ہی شکوک کی بنا پر گھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ کچھ ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونے کے شبہ کے باوجود ان کو نگرانی کے دائرہ سے یکسر باہر رکھا گیا ہے کیوں کہ وہ مغربی ملکوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ایسی صورت عدم توسیع کے مقاصد کو مجروح کرتی ہے۔لیکن پاکستان کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ ہندوستان کی ضد میں اس نے اگر این پی ٹی کے مسودہ پردستخط نہیں کیے تو یہ اس کا بنیادی حق ہے، لیکن وہ تو کم سے کم چار دہائیوں سے عدم توسیع کے آئیڈیل کے خلاف ہی کام کرتا نظر آیا ہے۔ نہ صرف پاکستان میں نیوکلیائی اسلحہ جات کی تعمیر کو نیو کلیائی چوریوں اور نیوکلیائی اسمگلنگ کے سہارے فروغ دیا گیا بلکہ یہ بات آج دنیا کا ہر شخص مانتا ہے کہ پاکستان کی بے جا مدد سے ہی شمالی کوریا نے اپنے نیوکلیائی تجربے انجام دیے۔
اور اب نیو کلیائی توسیع کی خلاف ورزی میں پاکستان کا رول ایک بار پھر شکوک کے دائرے میں ہے، کیوں کہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دنیا کے سب سے بدنام نیوکلیائی اسمگلر عبدالقدیر خان کے ترکی کے ساتھ دیرینہ تعلقات رہے ہیں۔ لندن کے ایک تحقیقی ادارہ نے اس سلسلے میں کافی مواد فراہم کیا ہے۔غرض کہ نیوکلیائی اسلحہ جات کے سوال پر پاکستان کا موقف کسی اصول پر مبنی نہیں ہے۔اس سلسلے میں مغرب کا رول بھی کوئی بہت پاک صاف نہیں رہا ہے۔1980 اور 1990 کے دہائی کے دوران افغانستان میں پی ڈی پی اے سرکار کو گرانے کے لیے مغربی ممالک نے جس طرح سے پاکستان کا استعمال کیا وہ جگ ظاہر ہے۔ حتی کہ افغان جنگجوؤں کے گروہ کراچی کی سڑکوں پر دن دہاڑے آپس میں خونیں جنگیں لڑتے رہتے تھے اور پاکستان سرکاراور ان کے مغربی یارومددگار آنکھ موندے بیتھے رہتے تھے۔ آج دنیا بھر کو دہشت گردی کی جو لعنت پریشان کررہی ہے، وہ اسی دانستہ عمل کی پیداوارہے۔ نیز موجودہ صدی کی پہلی دہائی میں جب امریکہ کو افغانستان کے خلاف جنگ شروع کرنے کی ضرورٹ محسوس ہوئی تو نہ صرف پاکستان کی سرزمین کا استعمال کیا گیا بلکہ دہشت گردی سے لڑنے کے نام پر دہشت گردوں کے لیے پاکستان کی سرپرستی کو یکسرنظرانداز کیا گیا۔ اور آج یہ عالم ہے کہ جس ملک میں بھی عدم توسیع کے معاہدے کی عدم مساوات کے خلاف کھل کربولنے کا یارا نہیں بلکہ وہ خودنیوکلیائی ہتھیار بناکر اس عدم مساوات کو مزید تقویت دینا چاہتا ہے۔ اس کی نظر بس ایک ہی جانب اٹھ رہی ہے، یعنی پاکستان کی طرف۔ براہ راست جنوبی ایشیا میں اور بالواسطہ طور پر دوسرے بعض ممالک میں دہشت گردی کے فروغ میں ایک اہم رول ادا کرنے والا پاکستان آج ایک اور سوال پر بھی شک کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے اور وہ سوال نیوکلیائی عدم توسیع کے آئیڈیل کی خلاف ورزی کا ہے۔
***
Comments
Post a Comment