موضوع: جیل میں بھی حافظ سعید کی سرگرمیاں جاری 


بدنام زمانہ لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ کے روح رواں حافظ سعید کی اگر بات کی جائے تو اس کی شخصیت کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں وہ اقوام متحدہ کی جانب سے خطرناک عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا ایک ایسا مجرم ہے جو 2008 کے ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ بھی ہے۔ اس کی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے دہشت گردوں نے اس سال ہندوستان کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں زبردست تباہی مچائی تھی جس میں غیر ملکی شہریوں سمیت 166 افراد لقمۂ اجل بنے تھے۔ اقوام متحدہ کے علاوہ امریکہ سمیت متعدد ملکوں نے بھی اسے خطرناک دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے لیکن یہ شخص پاکستان میں بڑے آرام کی زندگی گذارتا رہا ہے۔ فوج سے لے کر سیاست کے گلیاروں تک نہ صرف اس کی رسائی رہی ہے بلکہ اس کو انتہائی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ نفرت آمیز اور اشتعال انگریز تقریریں کرنا اس کا محبوب مشعلہ رہا ہے ۔ اگر چہ یہ اپنے آپ کو اسلام کا سچا پیروکار گردانتا ہے لیکن نفرت اور تعصب کے جذبات کو فروغ دینا اس کی فطرت کا اٹوٹ حصہ ہے۔ انتہا پسندی اور منافرت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ‘‘فلاح انسانیت ’’ اور دینی اور سماجی خدمات کے نام پر اس نے پورے پاکستان میں ایک ایسا نیٹ ورک قائم کر لیا ہے جس کے تحت دینی مدرسے ، اسکول، کالج ، اسپتال اور فلاحی ٹرسٹ قائم کئے گئے ہیں۔ گویا اس نے ایک ایسی سلطنت قائم کر لی کہ پاکستان کی کوئی بھی حکومت اس کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کرنے کی جرأت نہیں کرتی تھی۔ بین الاقوامی دباؤ کے تحت کچھ قانونی کارروائیاں وقتاً فوقتاً اس کے خلاف ضرور ہوئیں لیکن وہ محض دکھاوے کے لئے تھیں اور ہر بار وہ عدالت سے صاف بچ کر نکل گیا۔ دہشت گرد گروپوں کے مالی لین دین اور منی لانڈرنگ پر سخت نظر رکھنے کے لئے بین حکومتی کثیر قومی ادارے ایف اے ٹی ایف نے گذشتہ جون میں پاکستان کو سخت وارننگ دی تھی کہ وہ ان سرگرمیوں کو روکے ورنہ اسے بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔ گذشتہ جون میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا اور چار مہینہ کی مہلت دی تھی کہ وہ اکتوبر تک دہشت گرد وں کی مالی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے ضروری نشانہ پورا کرے لیکن اکتوبر تک بھی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی اور ایف اے ٹی ایف نے ایک بار پھر فروری تک کی مہلت دی ہے۔

بہر حال جولائی میں ایف اے ٹی ایف کے عتاب سے بچنے کے لئے حافظ سعید کو حکومت پاکستان نے دہشت گردی کے لئے فنڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ تب سے وہ ہائی سیکیورٹی جیل میں ہے۔ لیکن اس کا رعب اور طنطنہ اب بھی وہی ہے۔ پاکستان میں نہ تو اس کا مرتبہ کم ہوا اور نہ ہی اس کی سرگرمیاں رکی ہیں۔ وہ لاہور کے کوٹ لکھ پت جیل سے اہم معاملات میں ثالث کا رول بھی ادا کر رہا ہے۔ حال ہی میں اپنے ایک خاص رول کے لئے اس کا نام خبروں میں آیا۔ ہوا یہ کہ گذشتہ ماہ صلاح الدین ایوبی نام کے ایک دماغی مریض کی پولیس حراست میں موت واقع ہو گئی ۔ کہا جاتا ہے کہ اسے حراست میں اتنی اذیتیں دی گئیں کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا سکا۔ اس پر یہ الزام تھا کہ اس نے ایک اے ٹی ایم سے پیسے چوری کئے تھے۔ بہر حال اس کی ہلاکت کے بعد پورے پاکستان میں پولیس کی زیادتی کے خلاف احتجاج ہوا اور پولیس کے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی ہوئی۔ خبروں کے مطابق مہلوک کے اہل خاندان حافظ سعید کے عقیدتمند تھے۔ انہوں نے جیل میں اس سے ملنا چاہا اور ہدایت لینا چاہی۔ پولیس والوں نے ملاقات کا بندوبست کرا دیا۔ حافظ سعید نے دونوں فریقوں کی باتیں سنیں اور مہلوک کے لواحقین کے سامنے 3 متبادل رکھے۔ یا تو وہ اللہ کے نام پر پولیس والوں کو معاف کردیں۔ یا خوں بہالے کر معاف کردیں یا پھر مقدمہ لڑیں!

مہلوک کے لواحقین کا کہنا ہے کہ انہوں نے معاف کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔ یعنی پولیس والے مقدمہ کی کارروائی اور سزا سے بچ گئے۔ البتہ حافظ سعید ہی کے کہنے پر حکومت پنجاب نے یہ عہد کیا ہے کہ اس معافی کے عوض وہ محمود ایوبی کے گاؤں میں ایک اسکول قائم کرے گی، گیس کا ایک نیٹ ورک بنائے گی اور گاؤں کو شہر سے جوڑنے کے لئے صاف ستھری سڑک تعمیر کرائے گی۔ 

یہ ہے حافظ سعید کی شخصیت جو دہشت گردی کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے الزام میں اس وقت جیل میں بند ہے۔ اب اس پر کیا تبصرہ کیا جائے ۔ اس خطرناک اور ممنوعہ تنظیم کا سربراہ جیل سے ثالث کا رول ادا کر رہا ہے اور حکومت پنجاب اس کی ہدایت پر اسکول اور سڑکیں تعمیر کرا رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ