ترکی سیریا میں سیز فائر کے لئے تیار

چند روز قبل ترکی نے کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سیریا کے ایک حصے پر حملہ کردیا تھا۔ دنیا کے بیشتر مماملک نے ترکی کی اس کارروائی کو پسند نہیں کیا۔ ہندوستان نے بھی اس حملے کے لئے ترکی کی مذمت کی تھی۔ یہ بات نہ صرف سیریا کے لئے قابل تشویش تھی بلکہ پوریی دنیا اس کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی تھی۔ سب سے بری بات تو یہی تھی کہ کسی بھی آزاد اور خود مختار ملک پر اس طرح حملہ کیا گیا تھا جو امن عالم کو خطرے میں ڈالنے کا اندیشہ پیدا کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی کم قابل اعتراض نہیں تھی کہ ایک ملک نے ایک دوسرے ملک کے اندرونی معاملے میں مداخلت کی تھی۔ یہ مداخلت کسی بھی بہانے سے ہو اس کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا۔ یہ بین الاقوامی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ بہرحال یہ بات قابل اطمینان ہے کہ ترکی نے جنگ بندی کے لئے آمادگی ظاہرکردی ہے اور امید پیدا ہوگئی ہے کہ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعہ کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ جمعرات کو امریکہ کے نائب صدر مائک پنس نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ترکی نے اس بات سے اتفاق کرلیا ہے کہ شمالی سیریا میں 5دن کے لئے جنگ بندی کے لئے وہ تیار ہیں ۔ اس درمیان کردوں کو اس سیکورٹی زون سے واپس جانے کا موقع مل جائے گا جو ترکی کے جنوب میں کوئی 20میل کی دوری پر واقع ہے۔ امریکی نائب صدر کی دی گئی اطلاع کے مطابق ان کے اس مشن کا اصل مقصد خون خرابے کے اس ماحول کو بند کرانا تھا جو سیریا پر ترکی کے حملے سے پیدا ہوا تھا۔ 
ترکی کی فوجیں اور ترک حامی سیریائی جنگجوؤں نے کردوں کے خلاف شمالی سیریا میں اپنا حملہ ایک ہفتہ قبل اس وقت شروع کیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے اچانک یہ اعلان کردیا کہ اس علاقے سے امریکہ واپس جانا چاہتا ہے ۔ اس اعلان کے دو ہی گھنٹے بعد یہ حملہ شروع ہوا تھا۔ بہر حال اس درمیان جو بھی تلخیاں پیدا ہوئیں اور عجلت میں کس نے کیا فیصلہ کیا، اس پر بعد میں بھی بحث ہوسکتی ہے۔ لیکن سب سے بڑا اور اہم پیغام یہی ہے کہ سیز فائز کے بعد طرفین کی طرف سے چین کا سانس لیا جائے گا ورنہ کئی طرح کے اندیشے پیدا ہوگئے تھے۔ ایک خطرہ تو خود امریکہ کے لئے بھی تھا کہ کہیں اس لڑائی کے نتیجہ میں داعش کے خلاف برسرپیکار اس کے کرد اتحادی بیچ راستے میں نہ چھوڑ جائیں۔ امریکی نائب صدر مسٹر پنس اور وزیرخارجہ مسٹر پومپیو نے سیز فائر کے اس فیصلے پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ یہ ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں یہ کہا کہ یہ انسانی تہذیب کے لئے ایک بہت بڑا اور اہم دن ہے۔ تاہم ترکی کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو ی ہی کہا جاسکتا ہے کہ ترکی جو چاہتا تھا وہ اسے مل گیا۔ جب سیف زون سے کرد فوجیں چلی جائیں گی تو ترکی اپنے عہد کے مطابق مستقل جنگ بندی کے لئے تیار ہوجائے گا۔لیکن اپنی فوجیں واپس بلانے کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ ایک بات اور ہے ، اس سمجھوتے کے تحت ترکی امریکی انتظامیہ کی عائد کردہ ان پابندیوں سے بھی نجات حاصل کرلے گا،جوسیریا پر ہونے والے حملے کے بعد اس پر عائد کی گئی تھیں یا جن  مزید پابندیوں کی دھمکی دی گئی تھی۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس حملے کی پاداش میں ترکی کو کسی طرح کی تلافی نہیں کرنی پڑے گی۔ 
بہر حال سیز فائز سے حالات تو بڑی حد تک بدل گئے ہیں اور فوری طو رپر خون خرابے کا خطرہ بھی ٹل گیا ہے۔ لیکن عالمی پیمانے پر  مختلف ملکوں کے رہنماؤں کو یہ چاہئے کہ کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت یا بیان جاری کرنے سے پہلے وہ احتیاط برتیں ۔ سوجھ بوجھ کے ساتھ کوئی فیصلہ کریں، جلد بازی میں کئے گئے فیصلے یا اعلانات بعض اوقات نہ صرف قوموں اور ملکوں پر بھاری پڑتے ہیں بلکہ کبھی کبھی وہ ہمالیائی طرز کی غلطی میں بھی تبدیل ہوسکتے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ایک لمحہ میں کسی سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے تو اس کی سزا لمبی مدت تک اور کبھی کبھی پوری عمر بھگتنی پڑتی ہے۔ امید ہے کہ ترکی اور سیریا کے مابین پیدا ہونے والا بحران، کسی فریق کے لئے مزید پریشانی کا باعث نہیں بنے گا۔ اور سب کی سرحدیں محفوظ رہیں گی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ