موضوع:آئی سی جے کا پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا سے نیا آر ڈی ننس واپس لینے کا مطالبہ

پاکستان کی حکومت اوراس کے سیاسی یا فوجی رہنما بھارت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خواہ کتنے بھی الزام لگاتے رہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی اور دہشت گردوں کی سرپرستی کے جتنے معاملوں سے پاکستانی حکمراں اب تک وابستہ رہ چکے ہیں اس کی کوئی اور مثال ملنا مشکل ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کی اس ناعاقبت اندیشی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج دنیا کاکوئی ملک نہ پاکستان کی عزّت کرتا ہے نہ اس پر اعتبار کرتا ہے۔ پاکستانی رہنما آج کل بھارت کی اُن حالیہ تدابیراور اقدامات کو ظلم و ستم سے تعبیر کرنے میں مصروف ہیں جو اُس نے جموں کشمیر کے عوام کو ترقی اور خوش حالی کے قومی دھارے میں شامل کرنے اور کشمیریوں کو قومی ترقی کا حصہ دار بنانے کے لیے کیے ہیں۔ لیکن ان الزام تراشیوں کے بیچ پاکستانی حکمراں یہ حقیقت چھپا جاتے ہیں کہ بلوچستان کی طرح صوبۂ خیبر پختون خوا میں بھی پاکستانی حکومت اپنے ہی عوام کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیے دے رہی ہے۔ خیبر پختون خواکے علاقوں میں آٹھ سال پہلے سے ہی جودہشت ناک عوام مخالف قوانین نافذ تھے ، اب انھیں توسیع دیتے ہوئے کے پی ایکشنز آرڈی ننس کے نام سے نیا قانونی ضابطۂ عمل نافذ کردیا گیا ہے جس کے تحت مسلح افواج کو مزید قانونی اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ ان قوانین کے تحت کسی بھی شخص کووجہ بتائے بغیر گرفتار کیا جاسکتا ہے جس کے بعد اُسے عدالت میں مقدمہ چلائے بغیرکسی بھی مدّت تک قید رکھا جا سکے گا ۔ یہی نہیں ،اگر قیدی پر مقدمہ چلایا گیا توقیدی کے بارے میں فوجی افسر کے دیے گئے بیان ہی سزا دلانے کے لیے کافی سمجھ لیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ آرڈی ننس کے تحت مسلح افواج کسی کی بھی جائدادکو اپنی تحویل میں لے سکتی ہیں۔

عالمی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کے تناظر میں یہ آرڈی ننس اس قدر غیر انسانی اور تشویش ناک عوامل کا پیش خیمہ مانا جا رہا ہے کہ قانون دانوں اور ججوں کے عالمی ادارے آئی سی جے یعنی انٹر نیشنل کمیشن آف جیورسٹس نے بھی اس کی پرزور مخالفت کی ہے اورپاکستانی حکمرانوں کے اس عمل کی مذمّت کرتے ہوئے قانون کو فوراً ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کے ہی مشہور اخبار ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی سی جے نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اس آرڈی ننس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں ہوں گی اور لوگوں کو انصاف بھی نہیں مل سکے گا۔آئی سی جے کے ایشیائی ڈائریکٹر فریڈرک راوسکی نے کہا کہ یہ آرڈی ننس اُن غیر معمولی کارروائیوں کا ایک اور نمونہ ہے، جو پاکستان کی حکومت نے دہشت گردی اور جرائم کا مقابلہ کرنے کی آڑ میں کی ہیں اورجواپنے آپ میں انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ کمیشن نے کہا ہے کہ پاکستان اس خطرناک اور جابرانہ حکمت عملی سے باز آئے اورایسی تدابیر اختیار کرنے کی بجائے اُسے چاہیے کہ وہ اپنے عدالتی اور قانونی نظام کو انسانی حقوق کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ذمہ داریوں سے مطابقت رکھتے ہوئے ، مستحکم و مضبوط کرے۔ آئی سی جے نے اِس آرڈی ننس کو پاکستانی آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے بھی خلاف بتایا ہے اور کہا ہے کہ یہ پاکستان کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے لہٰذا اسے فوراً واپس لیا جانا چاہیے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بھارتی حکومت کومسلم مخالف قرار دینے کے اندھے جوش میں چین کے ایغور مسلمانوں پرہونے والے چینی حکومت کے مظالم کاذکر توخیر بھول ہی جاتے ہیں، انھیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ وہ خود پاکستانی عوام کے ساتھ کتنا برا سلوک کررہے ہیں۔ آئی سی جے کا یہ ردّعمل انھیں کچھ سوچنے پر مجبور کرے گا یا نہیں اس بارے میں صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے اور ظاہر کہ سوال کا جواب نفی میں ہی برآمد ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ