گرے لسٹ میں پاکستان کا نام ہٹائے جانے کا امکان نہیں
دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ پر نگاہ رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف کا اجلاس پیرس میں منعقد ہوا۔جس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزامات کے جواب میں پاکستانی حکومت کے اقدامات کا بھی جائزہ لیاگیا ۔ٹاسک فورس کے ایشیا پیسیفک گروپ نے رواں ماہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں پاکستان کے اقدامات کو ناکافی قرار دیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے ٹاسک فورس کی جانب سے دیے گئے 40 نکاتی اہداف میں سے صرف ایک پر مکمل عمل درآمد کیا ہے۔ باقی 39 اقدامات پر یا تو جزوی طور پر عمل کیا گیا یا انہیں سرے سے نظر انداز کر دیا گیا۔
اگر ٹاسک فورس کے رکن ممالک پاکستان کے اقدامات سے مطمئن نہ ہوئے تو پاکستان کو بلیک لسٹ قرار دیا جا سکتا ہے اور یہ وزیراعظم عمران خان کے لیے بڑا دھچکہ ہو گا جو ڈوبتی ہوئی معیشت کو بحال کرنے کے لیے قرضے حاصل کرنے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے چھ ارب ڈالر اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے بھی اربوں ڈالر کا پیکیج حاصل کرنے کے بعد پاکستان مالی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے تاہم بلیک لسٹ ہونے کی صورت میں یہ مزید معاشی زوال کا شکار ہو جائے گااور معمول کے مطابق دنیا سے کاروبار نہیں کر پائے گا۔ بلیک لسٹ ہونے سے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت پاکستان میں کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان اس سے قبل بھی 2012 سے 2015 کے دورانFATF کی گرے لسٹ میں رہ چکا ہے۔اس بات کاامکان ہے کہ چین کی سربراہی میں ہونے والی FATFکی میٹنگ میں پاکستان کو چند ماہ یعنی آئندہ فروری تک مہلت مل جائے اور وہ گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے سے بچ جائے۔ 36ممالک پر مشتمل FATFکے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کا نام بلیک لسٹ میں نہ ڈالنے کے لیے کم از کم بھی تین ممالک کی حمایت لازمی ہے۔اطلاعات کے مطابق چین‘ ترکی اور ملائشیا‘ پاکستان کی حمایت کررہے ہیں‘ جسے پاکستان اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہا ہے۔
لیکن پاکستان میں دفاعی امور کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری نے ایک بین الاقوامی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستانFATF کی گرے لسٹ سے نکل سکے گا یا نہیں۔اُن کے بقول، پاکستان نے منی لانڈرنگ کی روک تھام،مختلف تنظیموں اور اُن کے گروہوں کو محدود کرنے کے علاوہ کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کو تھوڑا ریلیف ملتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اِس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک یا وائٹ لسٹ میں ڈال دیا جائے۔ لیکن بہر حال یہ راحت بہت مختصر ہوگی۔
پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار احمد ولید کا کہنا ہے کہ پاکستان کا سب سے اہم مقصدFATF کی گرے لسٹ سے نکلنا ہے۔لیکن اگر پاکستان گرے لسٹ میں بھی رہتا ہے تب بھی پاکستان کے لیے پریشانی ہے۔احمد ولید کے مطابق، پاکستان کا اصل مسئلہ کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کا ہے۔ ایسی تنظیموں کو بین الاقوامی فنڈنگ بھی ہو رہی تھی اور مقامی سطح پر بھی اِن کے لیے چندہ اکٹھا کیا جا رہا تھا۔ ان تنظیموں کی فنڈنگ روکنے کے لیے پاکستان کو سختی سے نگرانی کرنا ہو گی اور تاجروں اور کاروباری لوگوں پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔ احمد ولید کے بقول، کالعدم تنظمیوں پر جب بھی پابندی لگتی ہے تو وہ دوسرے ناموں سے کام کرنا شروع کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے عالمی ادارے اور دوسرے ممالک یہ بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ پاکستان کالعدم تنظیموں کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
احمد ولید کہتے ہیں کہ دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ اُنہیں پاکستان کو جتنا بھی وقت دینا تھا وہ دے دیا ہے۔ان کا ماننا ہے کہ ممبئی حملوں کو کئی سال گزرنے کے باوجود پاکستان نے بڑے اقدامات نہیں کیے جس کی وجہ سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم اور دیگر وزرا کو اپنا بیانیہ بھی تبدیل کرنا چاہیے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ کشمیریوں کی جگہ ہوتے تو وہ بھی بندوق اُٹھا لیتے۔ احمد ولید کے بقول، اِس طرح کی زبان سفارتی سطح پر اچھی نہیں سمجھی جاتی۔ سفارتی سطح پر اور بالخصوص ایسے پلیٹ فارمز پر جہاں دنیا بھر کے رہنما آپ کو سن رہے ہوں، ایسے کلمات سے گریز کرنا چاہیے۔
یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی لعنت پر قابو پانے کے لئے اب تک سنجیدگی سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اس نے دہشت گردی سے منسلک ان گروہوں کے خلاف حقیقی کارروائی نہیں کی جو اب بھی نام تبدیل کر کے سرگرم عمل ہیں۔ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیز ابھی تک ان تنظیموں کے ساتھ اپنے تمام تعلقات توڑنے میں ابہام کا شکار ہیں جنہیں وہ طویل عرصے سے ہمسایہ ممالک خاص طور پر ہندوستان کے خلاف اہم ’اثاثہ‘ کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔اگر پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ان گروہوں سے تعلقات توڑنے میں سنجیدہ ہے تو اس کو عملی اقدامات کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر ٹاسک فورس کے رکن ممالک پاکستان کے اقدامات سے مطمئن نہ ہوئے تو پاکستان کو بلیک لسٹ قرار دیا جا سکتا ہے اور یہ وزیراعظم عمران خان کے لیے بڑا دھچکہ ہو گا جو ڈوبتی ہوئی معیشت کو بحال کرنے کے لیے قرضے حاصل کرنے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے چھ ارب ڈالر اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے بھی اربوں ڈالر کا پیکیج حاصل کرنے کے بعد پاکستان مالی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے تاہم بلیک لسٹ ہونے کی صورت میں یہ مزید معاشی زوال کا شکار ہو جائے گااور معمول کے مطابق دنیا سے کاروبار نہیں کر پائے گا۔ بلیک لسٹ ہونے سے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت پاکستان میں کئی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان اس سے قبل بھی 2012 سے 2015 کے دورانFATF کی گرے لسٹ میں رہ چکا ہے۔اس بات کاامکان ہے کہ چین کی سربراہی میں ہونے والی FATFکی میٹنگ میں پاکستان کو چند ماہ یعنی آئندہ فروری تک مہلت مل جائے اور وہ گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے سے بچ جائے۔ 36ممالک پر مشتمل FATFکے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کا نام بلیک لسٹ میں نہ ڈالنے کے لیے کم از کم بھی تین ممالک کی حمایت لازمی ہے۔اطلاعات کے مطابق چین‘ ترکی اور ملائشیا‘ پاکستان کی حمایت کررہے ہیں‘ جسے پاکستان اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہا ہے۔
لیکن پاکستان میں دفاعی امور کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری نے ایک بین الاقوامی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستانFATF کی گرے لسٹ سے نکل سکے گا یا نہیں۔اُن کے بقول، پاکستان نے منی لانڈرنگ کی روک تھام،مختلف تنظیموں اور اُن کے گروہوں کو محدود کرنے کے علاوہ کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کو تھوڑا ریلیف ملتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اِس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک یا وائٹ لسٹ میں ڈال دیا جائے۔ لیکن بہر حال یہ راحت بہت مختصر ہوگی۔
پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار احمد ولید کا کہنا ہے کہ پاکستان کا سب سے اہم مقصدFATF کی گرے لسٹ سے نکلنا ہے۔لیکن اگر پاکستان گرے لسٹ میں بھی رہتا ہے تب بھی پاکستان کے لیے پریشانی ہے۔احمد ولید کے مطابق، پاکستان کا اصل مسئلہ کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کا ہے۔ ایسی تنظیموں کو بین الاقوامی فنڈنگ بھی ہو رہی تھی اور مقامی سطح پر بھی اِن کے لیے چندہ اکٹھا کیا جا رہا تھا۔ ان تنظیموں کی فنڈنگ روکنے کے لیے پاکستان کو سختی سے نگرانی کرنا ہو گی اور تاجروں اور کاروباری لوگوں پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔ احمد ولید کے بقول، کالعدم تنظمیوں پر جب بھی پابندی لگتی ہے تو وہ دوسرے ناموں سے کام کرنا شروع کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے عالمی ادارے اور دوسرے ممالک یہ بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ پاکستان کالعدم تنظیموں کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔
احمد ولید کہتے ہیں کہ دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ اُنہیں پاکستان کو جتنا بھی وقت دینا تھا وہ دے دیا ہے۔ان کا ماننا ہے کہ ممبئی حملوں کو کئی سال گزرنے کے باوجود پاکستان نے بڑے اقدامات نہیں کیے جس کی وجہ سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم اور دیگر وزرا کو اپنا بیانیہ بھی تبدیل کرنا چاہیے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ کشمیریوں کی جگہ ہوتے تو وہ بھی بندوق اُٹھا لیتے۔ احمد ولید کے بقول، اِس طرح کی زبان سفارتی سطح پر اچھی نہیں سمجھی جاتی۔ سفارتی سطح پر اور بالخصوص ایسے پلیٹ فارمز پر جہاں دنیا بھر کے رہنما آپ کو سن رہے ہوں، ایسے کلمات سے گریز کرنا چاہیے۔
یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کی لعنت پر قابو پانے کے لئے اب تک سنجیدگی سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اس نے دہشت گردی سے منسلک ان گروہوں کے خلاف حقیقی کارروائی نہیں کی جو اب بھی نام تبدیل کر کے سرگرم عمل ہیں۔ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیز ابھی تک ان تنظیموں کے ساتھ اپنے تمام تعلقات توڑنے میں ابہام کا شکار ہیں جنہیں وہ طویل عرصے سے ہمسایہ ممالک خاص طور پر ہندوستان کے خلاف اہم ’اثاثہ‘ کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔اگر پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ان گروہوں سے تعلقات توڑنے میں سنجیدہ ہے تو اس کو عملی اقدامات کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
Comments
Post a Comment