موضوع: کیا افغانستان منصوبہ بند حملوں سے نجات پائےگا؟


28ستمبر 2019 کو افغانستان میں صدارتی انتخاب ہوا تھا۔ اس بات کی امید تو پہلے ہی سے تھی کہ طالبان کی طرف سے انتخابات میں رکاوٹ ڈالنے کی بھر پور کوشش کی جائے گی کیونکہ طالبان نے کھلم کھلا اور بغیر کسی تکلف کے یہ دھمکی دی تھی کہ وہ الیکشن کے عمل میں رکاوٹ ڈالیں گے۔ رکاوٹ ڈالنے کا پیغام دینے کا ان کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ تشدد کا سہارا لیں گے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے تشدد پسند اور دہشت گرد گروپ کو امن کی بات راس ہی نہیں آتی۔ وہ صرف تشدد کی زبان سمجھتے ہیں اور عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کا خون بہانا ہی ان کے نزدیک سب کچھ ہوتا ہے۔ نہ صرف طالبان بلکہ کسی بھی ایسے گروپ کو امن اور سلامتی کے ماحول سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ طاقت اور تشدد کے سہارے اقتدار پر قبضہ کرتے ہیں۔ چونکہ جمہوریت اور آئینی طرز حکمرانی پر ان کا یقین نہیں ہوتا اس لئے ان سے یہ امید کرنا ہی فضول ہوتا ہے کہ وہ جمہوریت یا جمہوری قدروں کا احترام کریں گے۔ جمہوری قدروں کا احترام کرنا تو دور کی بات وہ تو الٹے انتخابی مہمات میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اورتشدد کے سہارے انتخابی ریلیوں اور جلسوں پر حملے کرتے ہیں تاکہ لوگ اپنےحق رائے دہی کا استعمال نہ کرسکیں۔ دنیا میں جہاں جہاں بھی دہشت پسند گروپ ہیں وہ سب کے سب جمہوری عمل میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افغانستان ہمارے علاقے کا ایک ایسا بد قسمت ملک ہے جو گذشتہ کوئی چار دہائیوں سے سوویت فوجوں کی مداخلت، جنگ ، کشت و خون ، خانہ جنگی ، انتشار اور اقتدار پر قبضہ جمانے کی کشمکش اور رسہ کشی کا شکار رہا۔ گذشتہ صدی کی آخری دہائی کے وسط میں انتہا پسند گروپ طالبان نے تشدد کے سہارے افغانستان پر قبضہ کیا۔ پاکستان سمیت دنیا کے دو یا تین ملکوں نے اس کو تسلیم کیا تھا۔ سوویت فوجوں کی موجودگی میں ہی ان سے مقابلہ کرنے کے لئے کئی مسلح انتہا پسند گروپ مجاہدین کے نام سے قائم کئے گئے اور ان کی تربیت اور عسکری ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ امریکی ایجنسی سی آئی اے اور پاکستانی ایجنسی آئی ایس آئی کے اشتراک سے یہ کام بڑےپیمانے پر آگے بڑھایا گیا اور ہتھیاروں کی ٹریننگ دی گئی۔ 80کی دہائی کے اواخر میں سوویت فوجیں واپس چلی گئیں اور کچھ ہی عرصہ بعد سوویت یونین بھی بکھر گیا۔ مگر جن دہشت گرد گروپوں کو پروان چڑھایا گیا تھا وہ اپنی جگہ ایک طاقت بن گئے۔ وہ تشدد کا سہارا لئے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکتے تھے۔ سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد وہ بیروزگار ہوئے تو ان کا رخ دوسری طرف تخریب کاری کو فروغ دینے کے لئے مڑ گیا۔ القاعدہ جیسا گروپ جو کبھی امریکہ کا ہمنوا تھا اور ان میں آپس میں اتحاد بھی تھا وہ امریکہ کے خلاف سرگرم ہو گیا ۔ اس کے لیڈر اوسامہ بن لادن کا مسکن افغانستان بنا۔ طالبان اقتدار میں آ ہی چکے تھے۔ اسی دوران 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ٹریڈ ٹاور اور دوسری اہم جگہوں پر مبینہ طور پر القاعدہ کا حملہ ہوا۔ ٹریڈٹاور زمیں بوس ہو گیا۔ اس کے بعد امریکہ نے افغانستان میں دہشت گردی کےخلاف جنگ چھیڑ دی۔ چونکہ افغانستان کی طالبان حکومت نے اوسامہ کو امریکہ حوالے کرنے اور اس کے گروپ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اس لئے اس کی پاداش میں طالبان کی حکومت بھی ختم کردی گئی۔ امریکہ نے جو جنگ چھیڑی اس میں پاکستان ویسے تو امریکہ کا اتحادی بنا لیکن القاعدہ اور طالبان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں اس نے درپردہ ان گروپوں کی پشت پناہی کی۔ 

پاکستان کے دوہرے رول کا امریکہ نے بطور خاص نوٹس لیا ۔ رفتہ رفتہ دونوں ملکوں کے درمیان بے اعتمادی بڑھتی گئی۔ صدر اوبامہ کے زمانے میں اوسامہ بن لادن کے خلاف امریکہ نے خفیہ طور پر جانکاری حاصل کرلی۔ وہ پاکستان کے محفوظ مقام ایبٹ آباد کے قریب ہی کئی سال سے مقیم تھا۔ امریکی بحری سیل کے کمانڈروں نے اس کا سراغ لگا کر 2011 میں اس کا کام تمام کر دیا۔ افغانستان میں ایک جمہوری سسٹم کو فروغ دیا گیا اور امریکہ کی حمایت سے ایک آئینی صدارتی طرز کی حکومت قائم ہوئی۔ لیکن طالبان کے حملے بہر حال جاری رہے ۔ ان کی پناہ گاہ پاکستان ہی بنا۔ طالبان ، افغانستان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی اس سے بات چیت کرنے کے لئے کبھی تیار ہوئے۔ حالانکہ موجودہ افغان صدر کئی بار امن اور سمجھوتے کی پیشکش کر چکے ۔ حتیٰ کہ یکطرفہ طور پر سیز فائر کا ابھی اعلان کیا لیکن تشدد کے عادی طالبان قطعی آمادہ نہیں ہوئے۔ ادھر امریکہ اپنی باقی ماندہ فوجوں کو افغانستان سے واپس بلانا چاہتا ہے۔ طالبان اور امریکی نمائندوں کے مابین بات چیت بھی ہوئی لیکن عین سمجھوتے کے مرحلے تک پہنچ کر امریکی صدر نے اس پوری کارروائی کو منسوخ کردیا۔ اس سے پاکستان اور طالبان دونوں کو دھکا لگا اور کوشش یہ کی جا رہی ہے بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکے ۔ ادھر افغانستان کی صورتحال یہ ہے کہ گذشتہ 28ستمبر کو وہاں صدارتی انتخاب منعقد ہوا تھا۔ طالبان نے اس عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی بھر پور کوشش کی اور اپنے حملے تیز کر دیئے تھے۔ اس کا اثر ووٹنگ پر پڑا۔ اور بہت کم ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر سکے۔ اسی مہینہ کے اواخر تک انتخابات کے نتائج سامنے آ جائیں گے۔ الیکشن سے متعلق تشدد کے واقعات میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 85 افراد ہلاک اور 370 کے قریب زخمی ہوئے۔ ان میں بچوں کی تعداد بھی تھی۔ اقوام متحدہ نے سخت تشویش ظاہر کی ہے ۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ نئی حکومت کے لئے طالبان مستقل درد سر بنے رہیں گے۔ ان کے حملے رکتے ہی نہیں کیونکہ انہیں بعض بیرونی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو اس سنگین صورتحال پر غور کرنا چاہئے۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ