کوموروز اور سیئرا لیون کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے تعلقات


نائب صدر وینکیا نائیڈو نے حال ہی میں کوموروز اور سیئرا لیون کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے رشتوں کو مزید بہتر بنانا تھا۔ ایک بحری پڑوسی کی حیثیت سے ہندوستان کوموروز کے عوام کے ساتھ اپنی ترقی کے تجربات ساجھا کرنا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ وہ کوموروز کی ترقی میں اس کا مستقل پارٹنر بنے۔

کوموروز کے اپنے دورے کے دوران جناب وینکیا نائیڈو نے صدر ازالی آسومانی (Azali Assoumani) سے ملاقات کی اور اہم دو طرفہ اور بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوسرے شعبوں کے علاوہ قابل تجدید توانائی، اطلاعاتی ٹکنالوجی اور بحری سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے سے اتفاق کیا۔

دونوں ملکوں نے دفاع کے شعبہ میں تعاون سے متعلق ایک مفاہمت نامہ پر بھی دستخط کئے۔ اس کے علاوہ صحت اور ثقافت کے شعبوں میں بھی تعاون سے متعلق معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔ ایک اور اہم فیصلہ کے تحت ہندوستان اور کوموروز نے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کو ان کے مختصر دورے کے لئے ویزا سے مستثنیٰ قرار دینے کا فیصلہ کیا۔

ہندوستان نے مورونی (Moroni) میں 18 میگا واٹ کا ایک پاور پلانٹ لگانے کےلے 41 اعشاریہ چھ ملین امریکی ڈالر قرض دینے کا بھی اعلان کیا۔ اس کے علاوہ ایک پیشہ ورانہ تربیتی مرکز کے قیام کے لئے بھی تجویز پیش کی گئی۔ اس کے علاوہ ہندوستان نےایک ملین ڈالٹر مالیت کی دوائیں، ایک ہزار میٹرک ٹن چاول، راستہ روکنے والی کشتیوں کے لئے دو ملین ڈالر اور ٹرانسپورٹ آلات کے لئے ایک ملین ڈالر تحفہ کے طور پر کوموروز کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوموروز نے ہندوستان کے ٹیلی ایجوکیشن، ای۔ ودیا بھارتی اور ٹیلی میڈیسن ، ای ۔ آروگیہ بھارتی پروگراموں سے فائدہ اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا۔ ان تمام اقدامات سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں کافی مدد ملی ہے۔

دنیا کو درپیش اہم مسئلوں میں سے زیادہ تر مسائل پر ہندوستان اور کوموروز کے موقف ایک جیسے ہیں اور دونوں ملک بین الاقوامی فورموں میں ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہندوستان کی حمایت کے لئے جناب نائیڈو نے کوموروز کا شکریہ ادا کیا۔ کوموروز نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اصلاحات اور اس میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کی بھی حمایت کی۔ ہندوستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ کوموروز کی ترقی کے لئے ہر طرح کی حمایت فراہم کرنے کےلئے تیار ہے۔

اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں جناب نائیڈو نے سیئرا لیون کا دورہ کیا۔ ہندوستان اور سیئرا لیون دونوں کے درمیان اقدار مشترک کی بنیاد پر دوستانہ اور خوشگوار رشتے ہیں۔ یہ تعلقات آپسی اعتماد اور ایک دوسرے کا احترام کے اصولوں کی بنیاد پر فروغ پارہے ہیں۔

ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لئے ہندوستان نے سیئرا لیون کو مبارکباد پیش کی۔ جناب نائیڈو نے کہا کہ اس ملک میں پانچ بار پرامن انتخابات ہوچکے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ یہاں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوچکی ہیں۔ پچھلے سال ملک کا صدر منتخب ہونے پر جناب نائیڈو نے جناب بایو (Bio) کو مبارکباد پیش کی۔

سیئرا لیون کے ساتھ ہندوستان کے روابط کافی پرانے ہیں۔ اس ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لئے نئی دہلی نے کافی اہم کردار ادا کیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ جب پہلی بار اقوام متحدہ نے سیئرا لیون میں امن فوجیں بھیجیں تو اس مشن میں ہندوستان بھی شامل تھا۔ جناب نائیڈو نے صدر جولیئس مادا بایو (Julius Maada Bio) سے ملاقات کے دوران باہمی مفاد کے دوطرفہ ، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ملکوں کےدرمیان دوستانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کا فیصلہ کیا۔ بات چیت کے دوران جناب نائیڈو اور جناب بایو نے زراعت، ڈبہ بند خوراک، اطلاعاتی ٹکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے سے اتفاق کیا۔

ہندوستان سیئرا لیون کی ترقی میں اس کا قابل اعتماد پارٹنر بننے کے لئے پابند عہد ہے۔ نئی دہلی اس ملک کی ترقی کے لئے اب تک 217، اعشاریہ پانچ ملین ڈالر کا قرض دے چکا ہے۔ دورے کے دوران متعدد معاہدوں اور مفاہمت ناموں پر بھی دستخط کئے گئے۔ ہندوستان پینے کے پانی کے ایک پروجیکٹ کےلئے سیئرا لیون کو 15 ملین ڈالر کا قرض بھی دے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ