دو روزہ سربراہ ملاقات کے دوران سرحد اور تجارت سے متعلق امورپر گفتگو
اس وقت چین کے صدر شی جن پنگ ہندوستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ تمل ناڈو میں چنئی کے قریب مہا بلی پورم یا ممالاپورم میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریند رمودی سے ان کی ملاقات اور بات چیت چل رہی ہے۔ اس غیر رسمی سربراہ ملاقات پر نہ صرف ہندوستان کی بلکہ پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ دوسری غیر رسمی سربراہ ملاقات ہے۔ پہلی سربراہ ملاقات اپریل 2018 میں چین کے شہر اوہان میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے دونوں رہنماؤں کی یہ چھٹی اور نریند رمودی حکومت کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد تیسری ملاقات ہے۔ یوں تو دونوں ملکوں کے درمیان ہزاروں کلو میٹر کی سرحد پر تنازعہ ہے جو تاریخ کا عطیہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں کے رہنماؤں کی ملاقاتیں متواتر ہوتی رہی ہیں اور ان کے بہتر نتائج بھی برآمد ہوتے رہے ہیں۔ پانچ اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت فراہم کرنے والی دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو غیر معمولی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے اور چین نے جس طرح کشمیر کے معاملے میں پاکستان کی حمایت کی ہے، اس صورت حال کے پیش نظر بھی اس ملاقات پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ حالانکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملاقات ہند پاک کشیدگی کے سائے میں ہو رہی ہے لہٰذا ممکن ہے کہ اس کے بہتر نتائج برآمد نہ ہوں۔ لیکن اگر ہم ہندوستان اور چین کے باہمی تعلقات اور دونوں ملکوں کے رویے کو پیش نظر رکھیں تو یہ اندیشہ، اندیشہ ہائے دور دراز معلوم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کی قیادت انتہائی بالغ نظر ہے جو کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو باہمی رشتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دے گی۔ اسی لیے شی جن پنگ اور نریندر مودی کے درمیان اور وفود سطح کے درمیان بھی ہونے والے مذاکرات میں متنازعہ امور کو حائل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ کئی امور ہیں جن پر دونوں میں بات چیت ہو رہی ہے یا ہونے والی ہے۔ دونوں ملکوں نے سرحد پر امن و امان کے قیام کے لیے 1993 اور 1995 میں بحالی اعتماد کے جن اقدامات کا اعلان کیا تھا، خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اب فرسودہ ہو گئے ہیں اور نئے اعلانات کی ضرورت ہے۔ اس لیے بات چیت میں اسے فوقیت دی جا رہی ہے کہ کنٹرول کی حقیقی لائن پر امن و امان برقرار رہے۔ امید ہے کہ وفود سطح کے مذاکرات کے دوران بحالی اعتماد کے نئے اقدامات کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ دونوں رہنما دہشت گردی کے مسئلے پر بھی بات چیت کریں گے۔ اس سلسلے میں ہندوستان کا موقف بہت واضح ہے۔ اس نے بار بار دنیا سے اپیل کی ہے کہ دہشت گردی اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو پناہ دینے اور پرورش و اعانت کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ توقع ہے کہ وزیر اعظم مودی اس معاملے کو اٹھائیں گے۔ 13 سے18 اکتوبر تک چین کی صدارت میں منعقد ہونے والی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ کے پیش نظر یہ معاملہ کافی اہم ہو جاتا ہے۔ ہندوستا ن چاہتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر بلیک لسٹ میں ڈال دے۔ ہندوستان کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گزشتہ دنوں ایک بیان میں اس کا عندیہ دیا تھا۔ لہٰذا ہندوستان کو امید ہے کہ چین اس معاملے کو معروضی انداز میں لے گا۔ دونوں ملکوں کے مابین تجارت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ چین کے ساتھ باہمی تجارت میں ہندوستان کو خسارے کا سامنا ہے۔ حالانکہ 2018 میں باہمی تجارت اب تک سب سے زیادہ 99.54 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے لیکن ہندوستان کی برآمدات بہت کم ہیں یعنی صرف 18.84 بلین ڈالر۔ اس لیے ہندوستان کی خواہش ہے کہ چین اپنے بازار کو ہندوستانی مصنوعات کے لیے مزید کھولے تاکہ یہ تجارتی خسارہ کم کیا جا سکے۔ اگر چہ بھارت کا تجارتی خسارہ کم ہو کر 53 بلین ڈالر تک آگیا ہے لیکن ہندوستان اسے اور کم کرنا چاہتا ہے۔ جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے تو یہ مکمل طور پر ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔ اس نے چین کے ہر بیان کے جواب میں اپنے موقف کو واضح کیا ہے۔ دورۂ پاکستان کے موقع پر چینی وزیر خارجہ کا کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے حق میں دیا گیا بیان ہو یا پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران شی جن پنگ کا یہ کہنا ہو کہ ہم کشمیر کی صورت حال پر باریکی سے نظر رکھے ہیں، یا پھر اس سے قبل کے چین کے بیانات ہوں، ہندوستان نے ہر بار اپنا موقف واضح کیا ہے۔ تازہ ترین بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہمارے داخلی امور میں مداخلت کرے یا بیان بازی کرے۔ لیکن اس ملاقات کو مثبت انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور ہندوستان اسے مثبت انداز میں ہی دیکھ رہا ہے۔
Comments
Post a Comment