موضوع: ہندوستان کی آئی ٹی ای سی شراکت داری:نئی بلندیوں تک رسائی
مساوات اور ایک دوسرے کی خود مختاری کے احترام کی بنیاد پر ہندوستان نے اپنے پارٹنر ملکوں کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کا عہد کررکھا ہے۔ اس سلسلہ میں ہندوستان نے حال ہی میں افریقہ کے لیے ای-ودیا بھارتی اور ای-آروگیہ بھارتی کے نام سے ٹیلی–ایجوکیشن اور ٹیلی میڈیسن پروجیکٹوں کی شروعات کی۔ یہ پروجیکٹ ان بڑے پروجیکٹوں میں سے ہیں جنہیں وزارت خارجہ نے ہندوستان کے تکنیکی اور معاشی تعاون کے 55 سال مکمل ہونے کے موقع پر شروع کیا ہے۔ ای-ایجوکیشن پروجیکٹ کے ذریعہ افریقی طلبا وطالبات اپنے گھروں میں بیٹھے بیٹھے ہندوستان کے مشہور ومعروف تعلیمی اداروں سے استفادہ حاصل کرسکیں گے ، جب کہ ای-آروگیہ بھارتی افریقی ڈاکٹروں اور مریضوں کو ہندوستانی ڈاکٹروں کی مہارت اور مشورے مہیا کرانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ہندوستان کے تکنیکی اور معاشی تعاون کے 55 سال مکمل ہونے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ تعاون برائے ترقی نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے اور نئی دہلی اپنے تقریبا70 سال کے تجربات سے اپنے تمام شراکت دار ملکوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتا رہے گا۔
افریقہ کے تمام 54 ملکوں کے لیے ہندوستان کا تکنیکی اور معاشی تعاون یعنی آئی ٹی ای سی وزیراعظم نریندرمودی کے ویژن کے عین مطابق ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ افریقی نوجوان بھی ہندوستان کے ڈیجیٹل انقلاب سے مستفید ہوں۔ انسانی وسائل کی ترقی ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم جزو ہے۔آئی ٹی ای سی اور صلاحیت سازی کے دوسرے پروگرام ہندوستان کی اس عقیدے کی عکاسی کرتے ہیں کہ دنیا کی خوشحالی اور ترقی ناقابل تقسیم ہے اور وہ اپنی صلاحیت اور تکنیکی مہارت دوسروں سے ساجھا کرکے اس کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
جناب جے شنکر نے کہا کہ افریقی ممالک ہندوستان کے اہم شراکت دار ہیں اوردنیا کے 6 اعشاریہ تین ارب لوگ ہندوستان اور افریقہ کی خواہشات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے ایک دوسرے سے صدیوں پرانے رشتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے آبأ واجداد نوآبادیاتی نظام کے خلاف مل کر لڑے ہیں اور آج ہماری دوطرفہ مجموعی تجارت تقریبا 220 ارب ڈالر مالیت کی ہے۔ جناب جے شنکر کے اس بیان کی روشنی میں ہندوستان کی نئی پہل کافی اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے۔
گزشتہ 55 برسوں سے ہندوستان اپنی تکنیکی مہارت اور صلاحیت دوسرے ملکوں سے ساجھا کررہا ہے۔ اس عرصہ میں اس نے 161 ملکوں کے دو لاکھ سے بھی زیادہ سرکاری ملازمین اور پیشہ وروں کو ملک کے مشہورومعروف اداروں میں تربیت فراہم کی ہے۔ ساری توجہ اپنے پڑوسی ملکوں اور افریقی ممالک پر ہے۔ موجودہ پہل کے تحت ہندوستان اطلاعاتی ٹیکنالوجی، زراعت، توانائی اور صحت جیسے شعبوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ وروں کو ہرسال بارہ ہزار وظیفے دے رہاہے۔
آئی ٹی ای سی پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان دنیا کو ایک خاندان تصور کرتا ہے۔ وہ ‘واسودیواکٹنبکم’ یعنی دنیا ایک خاندان ہے، کے اصول پر عمل پیرا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کثیر جہتی کے کاز کی حمایت کرتا ہے۔ بمسٹیک (BIMSTEC) آسیان اور ایف آئی پی آئی سی جیسی تنظیموں کی میٹنگوں کے دوران آئی ٹی ای سی ٹریننگ کو بڑھانے سے متعلق بہت سے اعلانات کیے جاچکے ہیں۔
آئی ٹی ای سی کے تحت ایشیا، یوروپ، وسطی ایشیا افریقہ اور لاطینی امریکہ کے 161 ملکوں کو ہندوستان کے ترقی سے متعلق 70 سالہ تجربات کو ساجھا کرنے کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ پروگرام شروع ہونے کے بعد سے اب تک اس پر دو ارب ڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں جس سے دنیا کے ہزاروں طلبا اورپیشہ وروں کو فائدہ پہنچا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس پروگرام پر ہرسال اوسطا 100 ملین امریکی ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔ جناب جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں قدرتی وسائل کی بھرمار ہے لیکن انہیں ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ دوسرے مسئلوں کے علاوہ انہیں بڑھتی آبادی، نوجوانوں میں بڑھتی نابرابری اور ماحولیات کی تبدیلی کے مسائل درپیش ہیں۔ ان چیلنجوں کے پیش نظر ہمیں زیادہ سے زیادہ ملکوں کے ساتھ شراکت داری کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم ایک دوسرے سے تعاون کو مزید فروغ دیں گے تاکہ پائیدار ترقی کے مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔
Comments
Post a Comment