موضوع: دھمکی اور تشدد آمیز واقعات کے باوجود افغانستان میں صدارتی انتخابات اختتام پذیر
گزشتہ ہفتہ کو افغانستان میں صدارتی انتخاب دھمکیوں، پرتشدد کارروائیوں اور خوف کے ماحول کے باوجود اختتام پذیرہوا۔ اس کے لیے افغانستان کی حکومت وہاں کی سیکورٹی فورسز اور ووٹرز سبھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے انتہائی ناموافق حالات کے باوجود جمہوریت اور آئین کے پرچم کو نہ صرف بلند رکھا بلکہ حالات کا پورے حوصلے اور ہمت کے ساتھ مقابلہ بھی کیا۔ بلاشبہ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کے تعداد کم تھی۔ افغانستان کی آبادی ساڑھے تین کروڑ کے قریب بتائی جاتی ہے جن میں سے ایک کروڑ کے قریب رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ طالبان حکومت کا خاتمہ 2001 میں ہوا تھا اور پہلی بار منتخب حکومت 2004 میں قائم ہوئی تھی، تب سے اب تک چار بار وہاں انتخابات ہوچکے ہیں۔اس بار کے انتخابات میں پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کی تعداد سب سے کم دیکھی گئی۔ اندازہ ہے کہ 25 لاکھ کے قریب لوگوں نے ووٹ دیا ہوگا۔ ظاہر ہے افغانستان کے جو موجودہ حالات ہیں وہ انتہائی ناسازگار ہیں۔طالبان کو الیکشن اور جمہوریت سے ویسے بھی خداوسطے کا بیر ہےپھروہ افغانستان کے موجودہ آئین کو سرے سے مانتے ہی نہیں تشدد کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنا ان کا پہلا اورآخری حربہ ہے۔ وہ پہلے ہی سے انتخابات میں رکاوٹ ڈالنے کی دھمکیا ں دے رہے تھے اور پرتشدد کارروائیوں کے ذریعہ اپنے اس عزم کا عملی مظاہرہ بھی کررہے تھے۔گزشتہ سال کے آخر میں جب افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا تو طالبان نے مذاکرات میں حکومت افغانستان کو شامل ہونے کی تجویز کوقطعی قبول نہیں کیا۔ چونکہ وہ امن کے قائل ہی نہیں ہیں اس لیے انہوں نے اشرف غنی کی ہر تجویز کو ٹھکرایا۔ حکومت نے سیز فائر کی پیشکش کی اور یکطرفہ طور پر سیز فائر کو نافذ کیا اور اس پر عمل بھی کیا لیکن یہ کوشش یکطرفہ ثابت ہوئی۔بہرحال افغان حکومت کی شمولیت کے بغیر ہی امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات کے کئی دور چلے حتی کہ معاہدہ کی قطعیت کا بھی اعلان ہونے والا تھا لیکن عین وقت پر امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان کے بعض نامعقول رویوں کے باعث مذاکرات کی پوری کی پوری کارروائی کو مسترد کردیا۔
ادھر افغانستان کے صدارتی الیکشن کا بھی اعلان ہوچکا تھا۔ الیکشن قدرے تاخیر سے ہورہا تھا۔ طالبان کے حملے تو مذاکرات کے دوران بھی کبھی بند نہیں ہوئے تھے۔ لیکن ان کا ایک نشانہ یہ بھی تھا کہ صدارتی الیکشن میں رخنہ پڑے اور ووٹر گھر سے باہر نہ نکلیں۔ انتخابی جلسوں اور ریلیوں پر حملے ہوئے اور امیدواروں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ درمیان میں ایسے بھی حالات پیدا ہوگئے تھے کہ یہ شک پیدا ہوگیا تھا کہ صدارتی انتخاب ہو بھی پائے گا یا نہیں۔ لیکن بہرحال تمام تر بدتر حالات طالبان اور آئی ایس کے حملوں اور غیر یقینی ماحول کے باوجود گزشتہ ہفتہ کو انتخابات اختتام پذیرہوئے۔ بلاشبہ ووٹروں کی تعداد کم رہی، لیکن صورت حال کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ انسانی حقوق جمہوریت اور آئین وقانون کو نہ ماننے والے عناصر نے، امن اور جمہوریت کی راہ پر چلنے والوں کے تمام راستے بند کرنے کی کوشش کی۔ بندوق کی گولیوں اور خودکش بموں کا صرف خوف ہی نہیں تھا بلکہ عملا بم اور گولیاں برس بھی رہی تھیں۔ ایسے میں جن لوگوں نے جمہوریت کا راستہ چنا اورخطرات سے لڑکر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تو یقیناانہوں نے ناممکن کو ممکن بنایا اور وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
ویسے تو متعدد امیدوار میدان میں تھے، لیکن اصل مقابلہ ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کا ہے۔ ان دونوں امیدواروں نے ابھی سے یہ دعوی کرنا شروع کردیا ہ کہ انہیں اکثریت ملنے والی ہے۔ لیکن قطعی نتیجہ کا بہرحال انتظار ہے۔ افغانستان گزشتہ تقریبا چار دہائیوں سے خونیں مناظر سے گزرتا رہا ہے، وہاں کا عام شہری چین کی زندگی کا متلاشی ہے۔ آئینی حکومت کے دوران اسے انسانی حقوق اور وقار کے مفہوم سمجھ میں آئے ۔ عورتوں نے جو یہ سمجھ بیٹھی تھیں کی چہار دیواری میں بند رہنا ہی روز اول سے ان کی قسمت میں لکھا ہے، اب یہ سمجھنے لگی تھیں کہ چہاردیواری کے باہر بہت بڑی دنیا ہے اور وہ بھی اسی دنیا کی مخلوق ہیں۔ بہت سے دلوں میں امیدیں جاگی تھیں وہ امیدیں اب بھی باقی ہیں۔ لیکن انہیں خوف بھی دامن گیر ہے کہ ان کی امیدیں کہیں کسی سخت گیر نظام کے شکنجے میں آکر گھٹ نہ جائیں۔ افغانستان میں صدارتی انتخاب تو ہوگیا۔ ووٹروں نے اپنی رائے بھی ظاہر کردی لیکن کیا ان کی رائے اور ان کی خواہشات کا احترام ہوگا؟ سب سے بڑا سوال یہی ہے کیوں کہ یہ کہنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا کہ افغان کے حالات نارمل ہیں یا عنقریب نارمل ہوجائین گے!۔ جنگ زدہ اور تباہ حال افغانستان عالمی برادری کی توجہ کا طالب ہے۔
ادھر افغانستان کے صدارتی الیکشن کا بھی اعلان ہوچکا تھا۔ الیکشن قدرے تاخیر سے ہورہا تھا۔ طالبان کے حملے تو مذاکرات کے دوران بھی کبھی بند نہیں ہوئے تھے۔ لیکن ان کا ایک نشانہ یہ بھی تھا کہ صدارتی الیکشن میں رخنہ پڑے اور ووٹر گھر سے باہر نہ نکلیں۔ انتخابی جلسوں اور ریلیوں پر حملے ہوئے اور امیدواروں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ درمیان میں ایسے بھی حالات پیدا ہوگئے تھے کہ یہ شک پیدا ہوگیا تھا کہ صدارتی انتخاب ہو بھی پائے گا یا نہیں۔ لیکن بہرحال تمام تر بدتر حالات طالبان اور آئی ایس کے حملوں اور غیر یقینی ماحول کے باوجود گزشتہ ہفتہ کو انتخابات اختتام پذیرہوئے۔ بلاشبہ ووٹروں کی تعداد کم رہی، لیکن صورت حال کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ انسانی حقوق جمہوریت اور آئین وقانون کو نہ ماننے والے عناصر نے، امن اور جمہوریت کی راہ پر چلنے والوں کے تمام راستے بند کرنے کی کوشش کی۔ بندوق کی گولیوں اور خودکش بموں کا صرف خوف ہی نہیں تھا بلکہ عملا بم اور گولیاں برس بھی رہی تھیں۔ ایسے میں جن لوگوں نے جمہوریت کا راستہ چنا اورخطرات سے لڑکر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تو یقیناانہوں نے ناممکن کو ممکن بنایا اور وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
ویسے تو متعدد امیدوار میدان میں تھے، لیکن اصل مقابلہ ڈاکٹر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کا ہے۔ ان دونوں امیدواروں نے ابھی سے یہ دعوی کرنا شروع کردیا ہ کہ انہیں اکثریت ملنے والی ہے۔ لیکن قطعی نتیجہ کا بہرحال انتظار ہے۔ افغانستان گزشتہ تقریبا چار دہائیوں سے خونیں مناظر سے گزرتا رہا ہے، وہاں کا عام شہری چین کی زندگی کا متلاشی ہے۔ آئینی حکومت کے دوران اسے انسانی حقوق اور وقار کے مفہوم سمجھ میں آئے ۔ عورتوں نے جو یہ سمجھ بیٹھی تھیں کی چہار دیواری میں بند رہنا ہی روز اول سے ان کی قسمت میں لکھا ہے، اب یہ سمجھنے لگی تھیں کہ چہاردیواری کے باہر بہت بڑی دنیا ہے اور وہ بھی اسی دنیا کی مخلوق ہیں۔ بہت سے دلوں میں امیدیں جاگی تھیں وہ امیدیں اب بھی باقی ہیں۔ لیکن انہیں خوف بھی دامن گیر ہے کہ ان کی امیدیں کہیں کسی سخت گیر نظام کے شکنجے میں آکر گھٹ نہ جائیں۔ افغانستان میں صدارتی انتخاب تو ہوگیا۔ ووٹروں نے اپنی رائے بھی ظاہر کردی لیکن کیا ان کی رائے اور ان کی خواہشات کا احترام ہوگا؟ سب سے بڑا سوال یہی ہے کیوں کہ یہ کہنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا کہ افغان کے حالات نارمل ہیں یا عنقریب نارمل ہوجائین گے!۔ جنگ زدہ اور تباہ حال افغانستان عالمی برادری کی توجہ کا طالب ہے۔
Comments
Post a Comment