موضوع: ہندوستان کے جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کے ساتھ تعلقات
ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کے تحت وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہند-آسیان وزارتی میٹنگ مشرقی ایشیاءکے وزرائے خارجہ کی نویں میٹنگ، آسیان ملکوں کے 26 ویں علاقائی فورم اور میکانگ گنگا تعاون کی دسویں میٹنگ میں شرکت کرنے کیلئے حال ہی میں تھائی لینڈ کی راجدھانی بینگ کاک کا دورہ کیا۔ ہند- آسیان وزارتی میٹنگ میں وزیراعظم نریندرمودی کے قوانین پر مبنی ایک آزاد اور سب کی شمولیت والے ہند-بحرالکاہل کے ویژن کا اعادہ کرتے ہوئے ہندوستانی وزیر خارجہ نے ہند-بحرالکاہل کے بارےمیں آسیان کے اعلان کردہ نظریہ کا خیر مقدم کیا۔ اس میٹنگ مین ڈاکٹر جے شنکر نے بحری تعاون، کنکٹی ویٹی اور دیرپا ترقی کے مقاصد کے حصول پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہند- بحرالکاہل کے علاقہ میں ہندوستان اور آسیان ملکوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیر موصوف نے آسیان سے اپیل کی کہ وہ انڈین اوشن رم ایسوی سی ایشن اور بے آف بنگال انیشئٹیوفارملٹی سیکٹورل ٹیکنیکل اینڈ اکونامک کو آپریشن سمیت دوسرے علاقائی گروپوں کے ساتھ بھی تعاون کو فروغ دے۔
جناب جے شنکر نے ویتنام کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ فیم بن من کے ساتھ مینکانگ گنگا تعاون کی وزارتی میٹنگ کی صدارت بھی کی۔ میٹنگ میں 2022-2019 کیلئے کارروائی کے نئے منصوبے کو منظوری ملی۔ اس پلان آف ایکشن کے تحت سیاحت، ثقافت، تعلیم، صحت عامہ اور روایتی ادویات، زراعت، ٹرانسپورٹ، مواصلات، پانی کے ذرائع، سائنس و ٹیکنالوجی، صلاحیت سازی اور ہنرمندی جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائےگا۔ علاقہ سے اپنی عہد بستگی کا اظہار کرتے ہوئے نئی دہلی نےا یم جی سی امپیکٹ کیوک پروجیکٹس اسکیم کے تحت کمبوڈیا، لاؤ پی ڈی آر، میانما اور ویتنام کو امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ 2014 میں اس اسکیم کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک 24 پروجیکٹ مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ کمبوڈیا، ویتنام اور لاؤ پی ڈی آر میں نولاکھ امریکی ڈالر کی لاگت سے 18 اور پروجیکٹ شروع کئے جانے کا منصوبہ ہے۔ میانما سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس اسکیم کے تحت باہمی دلچسپی کے پروجیکٹوں کی نشاندہی کرے۔
میکانگ-گنگا تعاون کو کنکٹویٹی کے بارے میں آسیان کے ماسٹر پلان 2025 سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ میٹنگ میں ہندوستان، میانما اور تھائی لینڈ کے درمیان موٹر گاڑیوں سے متعلق معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے بارے میں بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ہند-میانما، تھائی لینڈ شاہراہ کو کمبوڈیا، لاؤڈی پی آر اور ویتنام تک لے جانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ اب اس بار ے میں غور کیا جارہا ہے کہ اس شاہراہ کی ایک معاشی ترقی کی راہداری کے طور پر کس طرح توسیع کی جائے۔ ہندوستان نے آسیان ملکوں میں کنیکٹویٹی پروجیکٹوں کیلئے ایک ارب ڈالر کی رقم قرض دینےکی غرض سے مخصوص کررکھی ہے۔وہ پروجیکٹوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی تبادلۂ خیال کررہا ہے کہ ان قرضوں کو کیسے استعمال کیا جائے۔
نومبر میں مشرقی ایشیاء کے ملکوں کی سربراہ کانفرنس سے قبل ان ملکوں کے وزراء خارجہ کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ میٹنگ کے دوران تمام رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ میٹنگ میں منیلا پلان آف ایکشن 22-2018 اور ای اے ایس ڈیولپمنٹ انیشیٹو کے بارے میں نام پین اعلامیہ پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، اس کے علاوہ آسیان علاقائی فورم کی 26 ویں میٹنگ میں علاقہ میں اسٹریٹجک تعاون پیدا کرنے کیلئے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ چونکہ ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی میں جنوب مشرقی ایشیاء کا ایک خاص مقام ہے، اس لیے وہ آسیان ملکوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔ وہ آسیان کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنر شپ کو نئی اونچائیوں تک لے جانے کی کوشش کرے گا۔ ہندوستان کی جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنر شپ، تجارت، کنیکٹویٹی اور ثقافت پر مبنی ہے۔ چونکہ بحر ہند کے علاقہ میں جانے اور وہاں سے آنے کیلئے جنوب مشرقی ایشیاء ایک اہم راستہ ہے اور وہ عالمی معیشت میں سب سے تیز ترقی کرنے والا علاقہ بھی ہے، اس لیے ہندوستان ایک مضبوط، متحد اور خوشحال آسیان کی حمایت کرتا ہے، جو ہند-بحرالکاہل کی بدلتی صورتحال میں مرکزی کردار ادا کرسکے۔
جناب جے شنکر نے ویتنام کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ فیم بن من کے ساتھ مینکانگ گنگا تعاون کی وزارتی میٹنگ کی صدارت بھی کی۔ میٹنگ میں 2022-2019 کیلئے کارروائی کے نئے منصوبے کو منظوری ملی۔ اس پلان آف ایکشن کے تحت سیاحت، ثقافت، تعلیم، صحت عامہ اور روایتی ادویات، زراعت، ٹرانسپورٹ، مواصلات، پانی کے ذرائع، سائنس و ٹیکنالوجی، صلاحیت سازی اور ہنرمندی جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائےگا۔ علاقہ سے اپنی عہد بستگی کا اظہار کرتے ہوئے نئی دہلی نےا یم جی سی امپیکٹ کیوک پروجیکٹس اسکیم کے تحت کمبوڈیا، لاؤ پی ڈی آر، میانما اور ویتنام کو امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ 2014 میں اس اسکیم کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک 24 پروجیکٹ مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ کمبوڈیا، ویتنام اور لاؤ پی ڈی آر میں نولاکھ امریکی ڈالر کی لاگت سے 18 اور پروجیکٹ شروع کئے جانے کا منصوبہ ہے۔ میانما سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس اسکیم کے تحت باہمی دلچسپی کے پروجیکٹوں کی نشاندہی کرے۔
میکانگ-گنگا تعاون کو کنکٹویٹی کے بارے میں آسیان کے ماسٹر پلان 2025 سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ میٹنگ میں ہندوستان، میانما اور تھائی لینڈ کے درمیان موٹر گاڑیوں سے متعلق معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے بارے میں بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ ہند-میانما، تھائی لینڈ شاہراہ کو کمبوڈیا، لاؤڈی پی آر اور ویتنام تک لے جانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ اب اس بار ے میں غور کیا جارہا ہے کہ اس شاہراہ کی ایک معاشی ترقی کی راہداری کے طور پر کس طرح توسیع کی جائے۔ ہندوستان نے آسیان ملکوں میں کنیکٹویٹی پروجیکٹوں کیلئے ایک ارب ڈالر کی رقم قرض دینےکی غرض سے مخصوص کررکھی ہے۔وہ پروجیکٹوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی تبادلۂ خیال کررہا ہے کہ ان قرضوں کو کیسے استعمال کیا جائے۔
نومبر میں مشرقی ایشیاء کے ملکوں کی سربراہ کانفرنس سے قبل ان ملکوں کے وزراء خارجہ کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ میٹنگ کے دوران تمام رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ میٹنگ میں منیلا پلان آف ایکشن 22-2018 اور ای اے ایس ڈیولپمنٹ انیشیٹو کے بارے میں نام پین اعلامیہ پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، اس کے علاوہ آسیان علاقائی فورم کی 26 ویں میٹنگ میں علاقہ میں اسٹریٹجک تعاون پیدا کرنے کیلئے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ چونکہ ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی میں جنوب مشرقی ایشیاء کا ایک خاص مقام ہے، اس لیے وہ آسیان ملکوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔ وہ آسیان کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنر شپ کو نئی اونچائیوں تک لے جانے کی کوشش کرے گا۔ ہندوستان کی جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنر شپ، تجارت، کنیکٹویٹی اور ثقافت پر مبنی ہے۔ چونکہ بحر ہند کے علاقہ میں جانے اور وہاں سے آنے کیلئے جنوب مشرقی ایشیاء ایک اہم راستہ ہے اور وہ عالمی معیشت میں سب سے تیز ترقی کرنے والا علاقہ بھی ہے، اس لیے ہندوستان ایک مضبوط، متحد اور خوشحال آسیان کی حمایت کرتا ہے، جو ہند-بحرالکاہل کی بدلتی صورتحال میں مرکزی کردار ادا کرسکے۔
Comments
Post a Comment