موضوع:عمران حکومت دعوؤں کی بوچھار کریک ڈاؤن اور سینسر شپ سے عبارت
پاکستان میں عمران حکومت نے ایک سال پورا کرلیا۔ ظاہر ہے تجزیہ کار اور سیاسی مبصرین نے ان کی حکومت کی کارکردگی کاجائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ اگرچہ پریس اور میڈیا پر کچھ اس طور پر قدغن لگائی گئی ہے کہ بیشتر صحافی گھٹن کے ماحول میں سانس لینے پر مجبور ہیں پھر بھی متعدد صحافیوں نے جرأت رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت کچھ کہنے کی کوشش کی ہے۔ صحافیوں اور آزاد اور غیر جانبدار سیاسی سماجی اور اقتصادی امور کے ماہرین کے حلقے میں یہ احساس بڑی بے چینی پیدا کر رہا ہے کہ صحافیوں پر اظہار خیال کی پابندی اس حد تک عائد کر دی گئی ہے کہ براہ راست فوجی حکمرانی کے وقت میں بھی ایسی گھٹن نہیں دیکھی گئی ۔ عام تاثر یہ ہے کہ پاکستانی صحافت دم توڑ چکی ہے اور عہد وسطیٰ کا ماحول نظر آتا ہے۔
بہر حال اس ماحول میں بھی چھن چھن کر جو باتیں آ رہی ہیں ان سے عمران خان کے دور اقتدار کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ جیسی مین اسٹریم اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ گذشتہ سال کا الیکشن پورے طور پر دھاندلی کے ذریعہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کو برسر اقتدار لانے کے لئے تھا۔ اور بہر حال وہ وزیراعظم بن گئے۔ ایک سینئر صحافی افتخار احمد نے بے خوف ہو کر یہ رائے ظاہر کی ہے کہ حکومت کے پاس اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اس دوران صرف وعدوں کی جھڑی لگی رہی اور کہنے کے لئے صرف یہ تھا کہ تمام اپوزیشن لیڈر چور، ڈاکو اور لٹیرے تھے جنہوں نے اپنے دور اقتدار میں پاکستان کو صرف لوٹا۔ لیکن اس دوران انہوں نے خود کچھ ایسا نہیں کیا جس سے عوام میں ان کی ساکھ کچھ بہتر ہو سکے ۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا صرف ایک مشن ہے کہ اپوزیشن کو ختم کرو۔ افتخار احمد نے یہ بھی کہا ہے کہ عمران حکومت یہ الزام تو لگاتی رہی ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں نے اقربا پروری کو فروغ دیا لیکن آج کی صورتحال پر اگر نظر ڈالی جائے تو ہر طرف یہی دکھائی دیتا ہے کہ حکومت کے تمام اداروں کے کلیدی عہدوں پر تحریک انصاف کے لوگ مقرر کئے گئے ہیں۔ کہاں کوئی تبدیلی نظر آتی ہے؟حقیقت تو یہ ہے کہ صورتحال بد سے بدتر ہوئی ہے۔ اگر عمران خان کی پارٹی کی کارکردگی کا کچھ اور تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں چھ سال سے اس کی حکومت ہے لیکن وہاں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ ایک سینئر سیاسی تجزیہ کار نے نام ظاہر نہ کئے جانے کی شرط پر یہ کہا ہے کہ عمران خان کا مقابلہ اگر وزیراعظم عمران خان سے کیا جائے تو اقتدار حاصل کرنے سے قبل کے عمران خان اور وزیراعظم میں یہ فرق نظر آئے گا کہ عمران خان مقبول لیڈر تو تھے لیکن وزیراعظم بننے کے بعد وہ ان عالمی لیڈروں کی صف میں کھڑے نظر آئے ہیں جو پریس کو اپنا دشمن مانتے ہیں لیکن اپنی ناکامیاں اور نا اہلی انہیں نظر نہیں آتی۔ ایک اور صحافی جو ایک ممتاز ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں انہوں نے یہ کہا کہ کاش میں آپ کو موجودہ سینسر شپ کی پوری کہانی بتا پاتا تو آپ یہی سمجھتے کہ پاکستان عہد وسطیٰ میں واپس چلا گیا ہے ۔ صحافی تھک چکے ہیں۔ وہ بڑی بے بسی محسوس کر رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں کے انٹرویو کی نشریات پر اچانک روک لگا دی جاتی ہے ۔ ایک ماہر اقتصادیات حسن خاور کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کی کوششوں کی بات کی جائے تو بلا شبہ یہ حکومت کچھ تگ و دو کرتی نظر آتی ہے لیکن اگر عوام کی بات کی جائے تو ان کی توقعات پر حکومت پوری نہیں اتری۔عوام میں بےچینی کا ماحول برقرار ہے۔
مئی کے مہینہ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 6 بلین ڈالر کی رقم پاکستان کو ادا کرنے کی منظوری دی ہے تاکہ وہ توازن ادائیگی کے بحران سے نمٹ سکے ۔ اس کے عوض حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اقتصادی اصلاحات پر توجہ دے گی لیکن ایسا لگتا ہے کہ اقتصادی نمو کی شرح 4 فیصد سے بھی کم رہے گی جبکہ گذشتہ مالی سال میں یہ شرح 5.8 فیصد تھی۔ حسن خاور کے مطابق عوام کے بڑے حلقے نے امید کی تھی کہ تحریک انصاف کی حکومت اقتصادی سطح پر بہترکام کرے گی لیکن ابھی تک ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔ ایک سینئر صحافی اور ایڈیٹر راشد رحمٰن کے مطابق پاکستان شدید قسم کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ بحران اتنا بڑا ہو سکتا ہے کہ معیشت پارلیمنٹ اور سیاست – سب کچھ خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔ غرضیکہ عمران حکومت کی ایک سال کی کارکردگی نے اب تک کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا ہے جو عوام کی امیدوں پر پورا اتراہو۔
بہر حال اس ماحول میں بھی چھن چھن کر جو باتیں آ رہی ہیں ان سے عمران خان کے دور اقتدار کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ جیسی مین اسٹریم اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ گذشتہ سال کا الیکشن پورے طور پر دھاندلی کے ذریعہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کو برسر اقتدار لانے کے لئے تھا۔ اور بہر حال وہ وزیراعظم بن گئے۔ ایک سینئر صحافی افتخار احمد نے بے خوف ہو کر یہ رائے ظاہر کی ہے کہ حکومت کے پاس اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ اس دوران صرف وعدوں کی جھڑی لگی رہی اور کہنے کے لئے صرف یہ تھا کہ تمام اپوزیشن لیڈر چور، ڈاکو اور لٹیرے تھے جنہوں نے اپنے دور اقتدار میں پاکستان کو صرف لوٹا۔ لیکن اس دوران انہوں نے خود کچھ ایسا نہیں کیا جس سے عوام میں ان کی ساکھ کچھ بہتر ہو سکے ۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا صرف ایک مشن ہے کہ اپوزیشن کو ختم کرو۔ افتخار احمد نے یہ بھی کہا ہے کہ عمران حکومت یہ الزام تو لگاتی رہی ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں نے اقربا پروری کو فروغ دیا لیکن آج کی صورتحال پر اگر نظر ڈالی جائے تو ہر طرف یہی دکھائی دیتا ہے کہ حکومت کے تمام اداروں کے کلیدی عہدوں پر تحریک انصاف کے لوگ مقرر کئے گئے ہیں۔ کہاں کوئی تبدیلی نظر آتی ہے؟حقیقت تو یہ ہے کہ صورتحال بد سے بدتر ہوئی ہے۔ اگر عمران خان کی پارٹی کی کارکردگی کا کچھ اور تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں چھ سال سے اس کی حکومت ہے لیکن وہاں بہتری کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ ایک سینئر سیاسی تجزیہ کار نے نام ظاہر نہ کئے جانے کی شرط پر یہ کہا ہے کہ عمران خان کا مقابلہ اگر وزیراعظم عمران خان سے کیا جائے تو اقتدار حاصل کرنے سے قبل کے عمران خان اور وزیراعظم میں یہ فرق نظر آئے گا کہ عمران خان مقبول لیڈر تو تھے لیکن وزیراعظم بننے کے بعد وہ ان عالمی لیڈروں کی صف میں کھڑے نظر آئے ہیں جو پریس کو اپنا دشمن مانتے ہیں لیکن اپنی ناکامیاں اور نا اہلی انہیں نظر نہیں آتی۔ ایک اور صحافی جو ایک ممتاز ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں انہوں نے یہ کہا کہ کاش میں آپ کو موجودہ سینسر شپ کی پوری کہانی بتا پاتا تو آپ یہی سمجھتے کہ پاکستان عہد وسطیٰ میں واپس چلا گیا ہے ۔ صحافی تھک چکے ہیں۔ وہ بڑی بے بسی محسوس کر رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں کے انٹرویو کی نشریات پر اچانک روک لگا دی جاتی ہے ۔ ایک ماہر اقتصادیات حسن خاور کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کی کوششوں کی بات کی جائے تو بلا شبہ یہ حکومت کچھ تگ و دو کرتی نظر آتی ہے لیکن اگر عوام کی بات کی جائے تو ان کی توقعات پر حکومت پوری نہیں اتری۔عوام میں بےچینی کا ماحول برقرار ہے۔
مئی کے مہینہ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 6 بلین ڈالر کی رقم پاکستان کو ادا کرنے کی منظوری دی ہے تاکہ وہ توازن ادائیگی کے بحران سے نمٹ سکے ۔ اس کے عوض حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اقتصادی اصلاحات پر توجہ دے گی لیکن ایسا لگتا ہے کہ اقتصادی نمو کی شرح 4 فیصد سے بھی کم رہے گی جبکہ گذشتہ مالی سال میں یہ شرح 5.8 فیصد تھی۔ حسن خاور کے مطابق عوام کے بڑے حلقے نے امید کی تھی کہ تحریک انصاف کی حکومت اقتصادی سطح پر بہترکام کرے گی لیکن ابھی تک ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔ ایک سینئر صحافی اور ایڈیٹر راشد رحمٰن کے مطابق پاکستان شدید قسم کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ بحران اتنا بڑا ہو سکتا ہے کہ معیشت پارلیمنٹ اور سیاست – سب کچھ خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔ غرضیکہ عمران حکومت کی ایک سال کی کارکردگی نے اب تک کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا ہے جو عوام کی امیدوں پر پورا اتراہو۔
Comments
Post a Comment