دفعہ370 کا خاتمہ، ریاست جموں و کشمیر دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم

ایک صدارتی آرڈر کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی ہے۔صدر جمہوریہ نے کل دفعہ370 کی شک 1 کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ریاست کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا جس کے بعد اب آئین ہند کا اطلاق پورے طور پر جموں و کشمیر پر بھی ہوگا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے کل ایک بل بھی پیش کیا جس کے تحت اب جموں و کشمیر ایک ریاست نہیں بلکہ مرکز کے زیر انتظام ایک علاقہ ہوگی جس کی ایک اسمبلی بھی ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم بھی کر دیا گیا ہے۔ لداخ ایک الگ مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہوگا جس کی کوئی اسمبلی نہیں ہوگی ۔ ان فیصلوں کی رو سے اب کشمیر کا الگ سے پرچم یا آئین نہیں ہوگا۔ اسمبلی کی مدت اب چھ سال کی بجائے 5 سال ہوگی ،کشمیر میں اب تعزیرات رنبیر کی جگہ تعزیرات ہند کا اطلاق ہوگا۔دوسری ریاست کے لوگ بھی اب کشمیر میں زمین اور املاک خریدنے کے مجاز ہوں گے اور غیر مستقل باشندے اب مستقل طو رپر یہاں سکونت اختیار کر سکتے ہیں اور یہاں کے سرکاری دفاتر اور پرائیویٹ کمپنیوں میں ملازمت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

البتہ جموں و کشمیر کی نئی حیثیت ہو جانے کے بعد ایک تبدیلی یہ نظر آئی ہے کہ پہلی بار ایک با قاعدہ ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں تبدیل کیا گیا ہے ورنہ عام رجحان یہ رہا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بعد میں باقاعدہ ریاست کا درجہ دیا گیا ۔ تا ہم حکومت کی طرف سے یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ مناسب وقت پر اس کی ریاست کی حیثیت بحال کر دی جائے گی۔

در اصل کشمیر کی خصوصی حیثیت کا معاملہ لمبے عرصے سے متنازعہ رہا ہے۔اکثر یہ آواز بھی اٹھتی رہی ہے کہ اس حیثیت کو ختم کر کے اسے ملک کی باقی تمام ریاستوں جیسی حیثیت دی جائے ۔حالیہ برسوں میں حکمراں جماعت نے اس کے لئے باقاعدہ مہم بھی چلائی اور گذشتہ عام انتخابات میں اس نے اپنے انتخابی منشور میں بھی یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ مطلوبہ تعداد کے ساتھ کامیابی حاصل کرتی ہے تو وہ دفعہ370 اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دے گی۔ سو ایک طرح سے عوام سے کیا گیا اپنا وعدہ اس نے پورا کیا ہے۔ بلکہ ایسی کچھ دوسری پارٹیوں نے بھی حکومت کے موقف کی حمایت کی ہے جو حکمراں محاذ یعنی این ڈی اے میں شامل نہیں ہیں۔

بہر حال ان تبدیلیوں اور نئے انتظامی ڈھانچے کا مقصد حکومت کی طرف سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ کرپشن کی جڑوں پر وار کرنا ہے کیونکہ بد عنوانی اور بد نظمی کے باعث فرسودہ سسٹم نے ترقی کی راہیں بند کر رکھی ہیں۔ جموں و کشمیر کے بے روز گار نوجوانوں کے غصہ اور فرسٹریشن کی سب سے بڑی وجہ یہی بتائی جا رہی ہے کہ بد عنوانی اور اقربا پروری کے ماحول میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہیں مل پا رہے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ چند خاندان اور با اثر حلقوں نے اقتدار اور اقتصادی فائدوں کا اپنے حق میں خوب استعمال کیا ہے۔ صرف وادی ہی نہیں کم و بیش یہی حال جموں کا بھی ہے۔ متعدد سروے بھی ہوئے اور بیشتر سروے سے یہی بات سامنے آئی کہ نوجوانوں کی بد دلی اور بیزاری کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اعلیٰ طبقے میں کرپشن نے ہر طرف اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں۔

کوشش اس بات کی کی جا رہی ہے کہ ایسے طریقے اختیار کئے جائیں جن کےتحت نہ صرف بد عنوانی کا قلع قمع کیا جا سکے بلکہ ڈیولپمنٹ کے فاسٹ ٹریک اور فعال ادارے قائم کئے جائیں جہاں ہنر مندی پر مبنی روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکیں تاکہ نوجوان ان سے نہ صرف مستفید ہوں بلکہ ان میں تخلیقی سوچ اور صلاحیت بھی پیدا ہو اور ان کا ذہن پراگندہ خیالات کی طرف مائل نہ ہو ۔ نوجوانوں میں اس فکر کو بھی پروان چڑھانے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ وہ پورے ہندوستان سے اس طور پر جڑیں کہ وہ اپنے لئے ہر جگہ مواقع تلاش کرنے اور لوگوں سے جڑنے کی کوشش کریں اور علیحدگی پسندی کے رجحانات سے دور رہیں۔ اگر مودی حکومت اپنی حکومت کے دوسرے دور میں ان مقاصد پر اپنی توجہ صرف کرتی ہے تو اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے۔

جہاں تک اس اچانک فیصلے پر اختلافات کی بعض آوازیں اٹھنے کا سوال ہے تو یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ہندوستان ایک فعال جمہوریت ہے اور فعال جمہوریت میں حمایت میں اٹھنے والی آوازوں کی بھی اہمیت ہوتی ہے اور اختلاف کی آواز کا بھی وزن محسوس کیا جاتا ہے اور اس کا احترام بھی ہوتا ہے۔ جمہوریت میں اسی طور پر عوام و خواص کی شراکت داری کا تصور آگے بڑھتا ہے۔ باقی فیصلہ وقت کرتا ہے کہ کن اقدامات نے کن مراحل میں فائدہ پہنچایا اور کہاں کس سے چوک ہوئی۔

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

موضوع: جنوب مشرقی ایشیاء کے ساتھ بھارت کے تعلقات

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ