موضوع: ہندوستان کا ایک اور کارنامہ، سیارچہ ایمی سیٹ کا کامیاب تجربہ
سیارچہ شکن میزائل کے بعد بھارت کو پیر کے روز ایک اور بڑی کامیابی ملی جب ہندوستانی خلائی تحقیق تنظیم نے پہلی مرتبہ تین مختلف مداروں میں سیارچوں کو لانچ کرنے والے پی ایس ایل وی –سی45 سے ایمی سیٹ کے ساتھ 28 چھوٹے غیر ملکی سیارچوں کو خلاء میں چھوڑا۔ خلاء میں چھوڑے جانے کے 17 منٹ کے اندر ایمی سیٹ اپنے مدار میں پہنچ گیا اور 100منٹ کے اندر دوسرے چھوٹے غیر ملکی سیارچے بھی اپنے اپنے مدار میں لانچ کر دیئے گئے ۔ اسرو اور دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم نے مشترکہ طور پر اس سیارچہ کو بنایا ہے۔ اس سے سرحد پر رڈار اور سینسرپر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک نقشہ بھی آسانی سے بنایا جا سکے گا۔ ایمی سیٹ کاوزن 436 کلو گرام ہے۔ یہ ڈی آر ڈی او کا الیکٹرانک انٹلی جنس سیٹلائٹ ہے۔28دوسرے سیارچوں کا تعلق لیتھوینیا ، اسپین ، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ سے ہے جن کو تجارتی مقاصد کے تحت لانچ کیا گیا ہے۔
اس کامیابی سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پی ایس ایل وی راکٹ کافی قابل اعتبار ہے اب تک اس راکٹ سے 47 بار سیارچوں کو خلا میں چھوڑا گیا ہے۔ لیکن صرف دوبار وہ اپنے مشن میں ناکام رہا۔ 1993میں جب پہلی بار اس راکٹ سے سیارچہ کو خلاء میں چھوڑنے کی کوشش کی گئی تو ناکامی ہات لگی۔ ستمبر 2017 میں پی ایس ایل وی کی پرواز تو پوری طرح سے کامیاب رہی لیکن آئی آر این ایس ایس –ون ایچ سٹیلائٹ کو مدار میں چھوڑا نہیں جا سکا کیونکہ مدار میں پہنچنے کے بعد پی ایس ایل وی ۔سی 39 کا ہیٹ شیلڈ کھلنے میں ناکام رہا۔ چاند پر جانے کیلئے بھارت کے پہلے مشن کے تحت چندریان-ایک کو لانچ کرنے کیلئے بھی پی ایس ایل وی کا استعمال کیا جا چکا ہے۔
لیکن یہ پہلی بار تھا جب اسرو نے راکٹ کی نئی قسم پی ایس ایل وی –کیوایل کا استعمال کیا جس کے پہلے مرحلے میں چار اسٹریپ آنموٹریں لگی ہوئی تھیں۔ اب تک جن راکٹوں کا استعمال کیا گیاتھا ان میں یا تو کوئی بھی ٹریپ آن موٹر نہیں تھی یا اگر تھیں بھی تو دویا کسی سی میں چھ-یہ بھی پہلی بارتھا جب اسرو نے کامیانی کے ساتھ مختلف بلندیوں اور تین مختلف مداروں میں واحد لانچ کے دوران خلائی کرتب دکھائے۔ لانچ کے بعد خاص پے لوڈ ایمی سیٹ کو زمین سے 749 کلو میٹر کی بلندی پر اس کے مقرر ہ مدار میں نصب کر دیا گیا۔ اس کے بعد راکٹ کے چوتھے اسٹیج کے انجن کو جس میں 28 چھوٹے سیارچے تھے دو بارہ چالو کیا گیا اور اسے 504 کلو میٹر کی اونچائی پر واپس لاگیا جہاں تمام چھوٹے سیارچوں کو چھوڑا گیا۔
تمام 29 سیارچوں کو ان کے مدار میں پہنچانے کے باوجود چوتھی اسٹیج کو رد نہیں کیا گیا بلکہ اسے دوبارہ شروع کر کے اسے نیچے کے مدار میں لایا گیا جس کی زمین سے اونچائی 485 کلومیٹرہے۔ یہ یہاں خلاء سے متعلق سائنسی تجربات کیلئے موجود رہے گا۔
اس چوتھے مرحلے کے راکٹ کی ایک اور اہم اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں شمسی پینل لگے ہوئے ہیں ۔ جو پے لودس کو بجلی سپلائی کریں گے تاکہ خلاء میں تجربات کئے جا سکیں ۔ ایمی سیٹ دشمن کے علاقہ میں رڈار کی نشاندہی کر کے جنگجو طیاروں اور اسپیس کرافٹس سمیت اپنے تمام اثاثوں کا تحفظ کرے گا۔
کل کی کامیابی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے خلائی سائنسدانوں کی صلاحیتوں پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی ۔ اس کامیابی کے ساتھ اب بھارت چاند کے دوسرے مشن چندریان-2 کی جانب گامزن ہوگا اور امید ہے کہ اس پر آئندہ چند ہفتوں کے اندر کام شروع ہو جائے گا۔ وزیراعطم نریندرمودی نے اسرو کے سائنسدانوں کو اس کامیابی پر دلی مبارکبادپیش کی ہے ۔
اس کامیابی سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پی ایس ایل وی راکٹ کافی قابل اعتبار ہے اب تک اس راکٹ سے 47 بار سیارچوں کو خلا میں چھوڑا گیا ہے۔ لیکن صرف دوبار وہ اپنے مشن میں ناکام رہا۔ 1993میں جب پہلی بار اس راکٹ سے سیارچہ کو خلاء میں چھوڑنے کی کوشش کی گئی تو ناکامی ہات لگی۔ ستمبر 2017 میں پی ایس ایل وی کی پرواز تو پوری طرح سے کامیاب رہی لیکن آئی آر این ایس ایس –ون ایچ سٹیلائٹ کو مدار میں چھوڑا نہیں جا سکا کیونکہ مدار میں پہنچنے کے بعد پی ایس ایل وی ۔سی 39 کا ہیٹ شیلڈ کھلنے میں ناکام رہا۔ چاند پر جانے کیلئے بھارت کے پہلے مشن کے تحت چندریان-ایک کو لانچ کرنے کیلئے بھی پی ایس ایل وی کا استعمال کیا جا چکا ہے۔
لیکن یہ پہلی بار تھا جب اسرو نے راکٹ کی نئی قسم پی ایس ایل وی –کیوایل کا استعمال کیا جس کے پہلے مرحلے میں چار اسٹریپ آنموٹریں لگی ہوئی تھیں۔ اب تک جن راکٹوں کا استعمال کیا گیاتھا ان میں یا تو کوئی بھی ٹریپ آن موٹر نہیں تھی یا اگر تھیں بھی تو دویا کسی سی میں چھ-یہ بھی پہلی بارتھا جب اسرو نے کامیانی کے ساتھ مختلف بلندیوں اور تین مختلف مداروں میں واحد لانچ کے دوران خلائی کرتب دکھائے۔ لانچ کے بعد خاص پے لوڈ ایمی سیٹ کو زمین سے 749 کلو میٹر کی بلندی پر اس کے مقرر ہ مدار میں نصب کر دیا گیا۔ اس کے بعد راکٹ کے چوتھے اسٹیج کے انجن کو جس میں 28 چھوٹے سیارچے تھے دو بارہ چالو کیا گیا اور اسے 504 کلو میٹر کی اونچائی پر واپس لاگیا جہاں تمام چھوٹے سیارچوں کو چھوڑا گیا۔
تمام 29 سیارچوں کو ان کے مدار میں پہنچانے کے باوجود چوتھی اسٹیج کو رد نہیں کیا گیا بلکہ اسے دوبارہ شروع کر کے اسے نیچے کے مدار میں لایا گیا جس کی زمین سے اونچائی 485 کلومیٹرہے۔ یہ یہاں خلاء سے متعلق سائنسی تجربات کیلئے موجود رہے گا۔
اس چوتھے مرحلے کے راکٹ کی ایک اور اہم اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں شمسی پینل لگے ہوئے ہیں ۔ جو پے لودس کو بجلی سپلائی کریں گے تاکہ خلاء میں تجربات کئے جا سکیں ۔ ایمی سیٹ دشمن کے علاقہ میں رڈار کی نشاندہی کر کے جنگجو طیاروں اور اسپیس کرافٹس سمیت اپنے تمام اثاثوں کا تحفظ کرے گا۔
کل کی کامیابی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے خلائی سائنسدانوں کی صلاحیتوں پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی ۔ اس کامیابی کے ساتھ اب بھارت چاند کے دوسرے مشن چندریان-2 کی جانب گامزن ہوگا اور امید ہے کہ اس پر آئندہ چند ہفتوں کے اندر کام شروع ہو جائے گا۔ وزیراعطم نریندرمودی نے اسرو کے سائنسدانوں کو اس کامیابی پر دلی مبارکبادپیش کی ہے ۔
Comments
Post a Comment