افغان خواتین اور دوسرے حلقوں میں بڑھتی ہوئی تشویش
ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوپائی ہے کہ امریکہ کے خصوصی سفیر اور طالبان کے نمائندوں کے مابین جو بات چیت ہورہی ہے اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا ۔ یا یہ کہ افغانستان کا اگلا سیاسی منظر نامہ کیا ہوگا۔ حالانکہ گزشتہ ماہ تک امریکہ کے خصوصی سفیر برائے افغان امورزلمے خلیل زاد اور طالبان لیڈروں کے درمیان بات چیت کے پانچ دور مکمل ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک اس بات کا ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ملا کہ سمجھوتے کی تجاویز اور امکانات کیا ہیں؟ اس تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے افغان سماج کے مختلف حلقوں میں تشویش اور کشمکش کا ماحول پایا جاتا ہے اور سب سے زیادہ تشویش خواتین کے حلقوں میں ہے کیونکہ وہ اس ماحول کا تصور کرکے کانپ اٹھتی ہیں جب افغانستان میں طالبان بر سراقتدار تھے۔ اگرچہ طالبان کے متعدد لیڈروں نے ایسے بیانات بھی دیئے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق اور آزادی کے تعلق سے یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ان کی آزادی کا احترام کیا جائے گا۔ مثلاً ایک طالبانی لیڈر شیر محمد عباس استانک زئی نے اسی سال کے اوائل میں روس میں منعقدہ مذاکرات میں یہ بات کہی تھی کہ ہم خواتین کو مسلم معاشرے کا معمار تصور کرتے ہیں اور اسی بات کا عہد کرتے ہیں کہ انہیں وہ تمام حقوق دیں گے جو عظیم مذہب اسلام نے انہیں عطا کئے ہیں۔ لیکن اس یقین دہانی کا یقین کرنے کو کوئی تیار نہیں ہے اور اس کی کئی معقول وجہیں ہیں۔ ایک وجہ تو یہی ہے کہ انہوں نے طالبان کے اقتدار کے زمانے کی ظالمانہ کارروائیوں کا خود مشاہدہ کیا تھا۔ اسلام نے جو حقوق عطا کئے ہیں ان کا انٹر پریٹیشن بھی طالبان کا اپنا تھا جو اسلام کی اسپرٹ سے ہم آہنگ نہیں تھا ۔ اس وقت افغانستان کے جن علاقوں پر طالبان کا غلبہ ہے وہاں حالیہ دنوں میں عورتوں کے ساتھ بدسلوکی اور زیادتی کے متعدد واقعات سامنے آئے۔ مثلاً گزشتہ ماہ کے اوائل میں ایک شمالی صوبے کے سنچارک ضلع میں ایک 32 سالہ خاتون پر سر عام کوڑے برسائے گئے کیونکہ اس نے اپنا چہرہ نقاب سے نہیں ڈھکا تھا۔ اس کے کچھ ہی دن بعد اسی صوبے میں ایک 25 سالہ حاملہ خاتون کو صرف اس لئے سزا دی گئی کہ اس نے طالبان کی اس طرح کی سرگرمیوں کی مذمت کی تھی ۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ ایکٹیوسٹس جو عورتوں کے حقوق اور اختیارات کی بات کرتے ہیں انہیں طالبان والے کھلم کھلا ڈراتے دھمکاتے ہیں۔
ان حالات کے پیش نظر حالیہ دنوں میں باشعور اور عورتوں کے حقوق کے تعلق سے اچھی جانکاری رکھنے والی خواتین نے سماجی سطح پر ایک مہم سی چھیڑ رکھی ہے۔ ان کا یہ مطالبہ ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے منظر نامے کے لئے جو مذاکرات چل رہے ہیں ان میں عورتوں کے حقوق اور مطالبات کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ ایک افغان صحافی فرح ناز فروتن نے افغان خواتین کو منظم کرنے کے لئے ان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق سے متعلق ایک خط فاصل کھینچیں اور یہ اصرار کریں کہ ان حقوق کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے یہ کہا کہ مثال کے طو رپر میں ایک صحافی ہوں اور میری ریڈ لائن یہ ہے کہ میرے ہاتھ میں قلم ہے اور آزادی اظہار پر میں کوئی قدغن قبول نہیں کرسکتی ۔ ان کی اس ٹوئیٹ کے بعد سیکڑوں افغان خواتین ان کی اس مہم میں شریک ہوگئیں اور ان کا یہ مطالبہ ہے کہ جو مذاکرات چل رہے ہیں ان میں ان کے حقوق کے تحفظ کی بات بھی شامل کی جائے۔ افغان خواتین اور دوسرے حلقوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان 17/18 برسوں کے درمیان جو آزادی حاصل ہوئی ہے انہیں قربان نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا کوئی بھی حکومت برسر اقتدار آئے، اسے بنیادی انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق اور اختیارات نیز آزادیٔ اظہار کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہوگا۔ مختلف شعبوں میں جن خواتین نے حالیہ برسوں میں اپنا ایک مقام حاصل کیا ہے، وہ خوفزدہ بھی نظر آتی ہیں کہ اگر طالبان دوبارہ پورے طور پر اقتدار میں آگئے تو وہ ایک بار پھر اپنا سابقہ رویہ اختیار کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کسی اصول اور ضابطے پر عمل نہیں کرتے۔ وہ اپنے غیر رسمی ضابطوں اور نظام انصاف پر یقین رکھتے ہیں اور اب یہ بات قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ بہت سی خواتین اس عزم کا اظہا رکررہی ہیں کہ اگر طالبان اپنے پرانے طریقۂ کار کے ساتھ واپس آئے تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر مذاکرات کے اختتام پر یہ بات واضح ہوجائے کہ باقاعدہ آئین اور ضابطوں کے تحت افغانستان کا نیا نظام قائم ہوگا اور انسانی حقوق اور آزادی کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق کا بھی تحفظ ہوگا تو کسی حد تک تشویش اور شک و شبہ کے بادل چھٹ سکتے ہیں ورنہ تناؤ اور نئی خانہ جنگی کا اندیشہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
ان حالات کے پیش نظر حالیہ دنوں میں باشعور اور عورتوں کے حقوق کے تعلق سے اچھی جانکاری رکھنے والی خواتین نے سماجی سطح پر ایک مہم سی چھیڑ رکھی ہے۔ ان کا یہ مطالبہ ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے منظر نامے کے لئے جو مذاکرات چل رہے ہیں ان میں عورتوں کے حقوق اور مطالبات کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ ایک افغان صحافی فرح ناز فروتن نے افغان خواتین کو منظم کرنے کے لئے ان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق سے متعلق ایک خط فاصل کھینچیں اور یہ اصرار کریں کہ ان حقوق کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے یہ کہا کہ مثال کے طو رپر میں ایک صحافی ہوں اور میری ریڈ لائن یہ ہے کہ میرے ہاتھ میں قلم ہے اور آزادی اظہار پر میں کوئی قدغن قبول نہیں کرسکتی ۔ ان کی اس ٹوئیٹ کے بعد سیکڑوں افغان خواتین ان کی اس مہم میں شریک ہوگئیں اور ان کا یہ مطالبہ ہے کہ جو مذاکرات چل رہے ہیں ان میں ان کے حقوق کے تحفظ کی بات بھی شامل کی جائے۔ افغان خواتین اور دوسرے حلقوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان 17/18 برسوں کے درمیان جو آزادی حاصل ہوئی ہے انہیں قربان نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا کوئی بھی حکومت برسر اقتدار آئے، اسے بنیادی انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق اور اختیارات نیز آزادیٔ اظہار کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہوگا۔ مختلف شعبوں میں جن خواتین نے حالیہ برسوں میں اپنا ایک مقام حاصل کیا ہے، وہ خوفزدہ بھی نظر آتی ہیں کہ اگر طالبان دوبارہ پورے طور پر اقتدار میں آگئے تو وہ ایک بار پھر اپنا سابقہ رویہ اختیار کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کسی اصول اور ضابطے پر عمل نہیں کرتے۔ وہ اپنے غیر رسمی ضابطوں اور نظام انصاف پر یقین رکھتے ہیں اور اب یہ بات قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ بہت سی خواتین اس عزم کا اظہا رکررہی ہیں کہ اگر طالبان اپنے پرانے طریقۂ کار کے ساتھ واپس آئے تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر مذاکرات کے اختتام پر یہ بات واضح ہوجائے کہ باقاعدہ آئین اور ضابطوں کے تحت افغانستان کا نیا نظام قائم ہوگا اور انسانی حقوق اور آزادی کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق کا بھی تحفظ ہوگا تو کسی حد تک تشویش اور شک و شبہ کے بادل چھٹ سکتے ہیں ورنہ تناؤ اور نئی خانہ جنگی کا اندیشہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
Comments
Post a Comment