Posts

موضوع: ہندوستان کے جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کے ساتھ تعلقات

ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کے تحت وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہند-آسیان وزارتی میٹنگ مشرقی ایشیاءکے وزرائے خارجہ کی نویں میٹنگ، آسیان ملکوں کے 26 ویں علاقائی فورم اور میکانگ گنگا تعاون کی دسویں میٹنگ میں شرکت کرنے کیلئے حال ہی میں تھائی لینڈ کی راجدھانی بینگ کاک کا دورہ کیا۔ ہند- آسیان وزارتی میٹنگ میں وزیراعظم نریندرمودی کے قوانین پر مبنی ایک آزاد اور سب کی شمولیت والے ہند-بحرالکاہل کے ویژن کا اعادہ کرتے ہوئے ہندوستانی وزیر خارجہ نے ہند-بحرالکاہل کے بارےمیں آسیان کے اعلان کردہ نظریہ کا خیر مقدم کیا۔ اس میٹنگ مین ڈاکٹر جے شنکر نے بحری تعاون، کنکٹی ویٹی اور دیرپا ترقی کے مقاصد کے حصول پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہند- بحرالکاہل کے علاقہ میں ہندوستان اور آسیان ملکوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیر موصوف نے آسیان سے اپیل کی کہ وہ انڈین اوشن رم ایسوی سی ایشن اور بے آف بنگال انیشئٹیوفارملٹی سیکٹورل ٹیکنیکل اینڈ اکونامک کو آپریشن سمیت دوسرے علاقائی گروپوں کے ساتھ بھی تعاون کو فروغ دے۔ جناب جے شنکر نے ویتنام کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ فیم بن من ک...

دفعہ370 کا خاتمہ، ریاست جموں و کشمیر دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم

ایک صدارتی آرڈر کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی ہے۔صدر جمہوریہ نے کل دفعہ370 کی شک 1 کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ریاست کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا جس کے بعد اب آئین ہند کا اطلاق پورے طور پر جموں و کشمیر پر بھی ہوگا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے کل ایک بل بھی پیش کیا جس کے تحت اب جموں و کشمیر ایک ریاست نہیں بلکہ مرکز کے زیر انتظام ایک علاقہ ہوگی جس کی ایک اسمبلی بھی ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم بھی کر دیا گیا ہے۔ لداخ ایک الگ مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہوگا جس کی کوئی اسمبلی نہیں ہوگی ۔ ان فیصلوں کی رو سے اب کشمیر کا الگ سے پرچم یا آئین نہیں ہوگا۔ اسمبلی کی مدت اب چھ سال کی بجائے 5 سال ہوگی ،کشمیر میں اب تعزیرات رنبیر کی جگہ تعزیرات ہند کا اطلاق ہوگا۔دوسری ریاست کے لوگ بھی اب کشمیر میں زمین اور املاک خریدنے کے مجاز ہوں گے اور غیر مستقل باشندے اب مستقل طو رپر یہاں سکونت اختیار کر سکتے ہیں اور یہاں کے سرکاری دفاتر اور پرائیویٹ کمپنیوں میں ملازمت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ البتہ جموں و کشمیر کی نئی حیثیت ہو جانے کے بعد ایک تبدیلی یہ نظ...

موضوع:عمران حکومت دعوؤں کی بوچھار کریک ڈاؤن اور سینسر شپ سے عبارت

پاکستان میں عمران حکومت نے ایک سال پورا کرلیا۔ ظاہر ہے تجزیہ کار اور سیاسی مبصرین نے ان کی حکومت کی کارکردگی کاجائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ اگرچہ پریس اور میڈیا پر کچھ اس طور پر قدغن لگائی گئی ہے کہ بیشتر صحافی گھٹن کے ماحول میں سانس لینے پر مجبور ہیں پھر بھی متعدد صحافیوں نے جرأت رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت کچھ کہنے کی کوشش کی ہے۔ صحافیوں اور آزاد اور غیر جانبدار سیاسی سماجی اور اقتصادی امور کے ماہرین کے حلقے میں یہ احساس بڑی بے چینی پیدا کر رہا ہے کہ صحافیوں پر اظہار خیال کی پابندی اس حد تک عائد کر دی گئی ہے کہ براہ راست فوجی حکمرانی کے وقت میں بھی ایسی گھٹن نہیں دیکھی گئی ۔ عام تاثر یہ ہے کہ پاکستانی صحافت دم توڑ چکی ہے اور عہد وسطیٰ کا ماحول نظر آتا ہے۔ بہر حال اس ماحول میں بھی چھن چھن کر جو باتیں آ رہی ہیں ان سے عمران خان کے دور اقتدار کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ جیسی مین اسٹریم اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ گذشتہ سال کا الیکشن پورے طور پر دھاندلی کے ذریعہ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کو برسر اقتدار لانے کے لئے تھا۔ اور بہر حال وہ وزیر...

موضوع: پاکستانی میڈیا پر سنسرشپ کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج

زیادہ دن کی بات نہیں ہے جب عمران خان اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے پاکستان میں احتجاجی مظاہرے کرنے کے لیے مشہورتھے۔ اسلام آباد میں انہوں نے انتخابی دھاندلی کے خلاف جومظاہرے کیے تھے ان میں تو انہوں نے جمہوری طریقوں تک کو بالائے طاق رکھ دیاتھا اور ان کے حامی اور خود انہوں نے بھی لاقانونیت پر مبنی طریقے بھی اختیار کیے تھے۔ جنرل پرویز مشرف کے زوال کے بعد 2008 میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں حکومت بنی تھی تب بھی وہ سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے اور اس کے پانچ سال بعد جب پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت بنی اور وہ اقتدار سے کوسوں دور رہ گئے تھے تب بھی سوائے احتجاج کے انہوں نے اور کچھ نہیں کیا تھا جب کہ وہ سیاسی لیڈر تھے اور ان کی اولین ذمہ داری یہ تھی کہ وہ ان کوششوں میں معاونت کرتے جو جمہوریت کو مستحکم بنانے میں معاون ہوتیں لیکن ان کی سیاسی سرگرمیوں کا طرہ ٔ امتیاز یہ تھا کہ وہ صرف پاکستانی فوج کو ایماندار اور برائی اورلغزش سے پاک ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا کرتے تھے اور اس کے برعکس اپنے سوا تمام سیاست دانوں کو کرپٹ اور بے ایمان بتایا کرتے تھے۔ پاکستان کے لوگ یہ بھی نہیں بھولے ہیں کہ انہوں نے دہشت گ...

موضوع: پاکستان کے لیے امریکی امداد کی بحالی خطے کے حق میں نہیں۔

دہشت گردی کےتعلق سے پاکستان کی فطرت سے پوری دنیا واقف ہے۔ ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ جو ملک دہشت گردوں کی پرورش وپرداخت کرتا ہے اسے سبھی مالی اور تکنیکی وسائل سے محروم کردیا جائے ، لیکن صورت حال بالکل اس کے برعکس ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے پاکستان کے لیے 125 ملین ڈالر کی امداد کو منظوری دی ہےجس کا مقصد امریکہ کے ذریعہ فراہم کردہ F-16 جنگی طیاروں کی مرمت اور ان کی دیکھ ریکھ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جب سے صدر کا عہدہ سنبھالا ہے امریکہ کی خارجہ پالیسی غیر یقینی کے دور سے گزر رہی ہے۔ امریکی صدر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد خود یہ بیان دیا تھا کہ پاکستان نے امریکہ کےذریعہ فراہم کی گئی اربوں ڈالر کی مالی امداد کا غلط استعمال کیا ہے۔ جو رقم دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے استعمال ہونی تھی وہ ان کی مالی اعانت پر صرف ہوئی۔ اس طرح سے پاکستان نے بقول ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو دھوکہ دیا اور اسے بے وقوف بنایا۔ پاکستان کے تعلق سے ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ پالیسی ان کے سابقہ بیان سے میل نہیں کھاتی ہے۔ امریکہ کے موقف میں تبدیلی حیران کن ہے کیوں کہ اس عرصہ میں پاکستان نے ایسا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا ہے جس کا انعام اسے دیا جارہا ہ...

موضوع:اقوام متحدہ کی رپورٹ: خوف کے ماحول میں سانس لیتے افغان عوام

صورتحال کی سنگینی ان رپورٹس سے کچھ اس طرح واضح ہوجاتی ہے کہ کسی وضاحت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی کہ افغان عوام اس وقت خوف ، مایوسی اور ناامیدی کے کس ماحول میں سانس لے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ عام ہونےکے بعد اِدھر صرف چھ ماہ کے عرصہ میں افغان سیکوریٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والی لڑائی میں 3812 افغان سیویلین ہلاک اور زخمی ہوئے، فوراً یہ خبر آئی کہ افغان امن مذاکرات کے لئے امریکہ کے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد طالبان سے اگلے اور انتہائی اہم راؤنڈ کی بات چیت کے لئے دوحہ روانہ ہورہے ہیں۔ لیکن اسی خبر کے ساتھ ساتھ یہ دل دہلا دینے والی خبر بھی موصول ہوئی کہ ہرات اور قندھار صوبوں کی راجدھانیوں کو جوڑنے والی شاہراہ پر واقع آب خورمہ علاقے میں ایک بس پر زبردست دھماکہ ہوا جس میں 35 افراد جاں بحق اور تقریباً 30 افراد شدید طور پر زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کمسن بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ پولیس کے ترجمان محب اللہ محب کا دعویٰ ہے کہ یہ بم طالبان نے نصب کیا تھا تاکہ افغان اور غیرملکی فوجوں کو نشانہ بنایا جاسکے لیکن طالبان نے اس واردات میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ بہرحا...

پاکستان کو دھوکہ دینے کی اپنی روش بدلنے کی ضرورت

کرگل جنگ جہاں ایک طرف ہندوستان کے خلاف پاکستان کی منصوبہ بند سازشوں میں سے ایک سازش تھی وہیں دوسری طرف ہندوستانی افواج کی شجاعت و بہادری کا ایک جیتا جاگتا نمونہ بھی تھی۔ پاکستانی فوج نے جس طرح شب کی تاریکیوں میں دنیا کی بلندو بالا چوٹیوں پر قبضہ کرنے کی ناکام و ناپاک کوشش کی اس کا یہی انجام ہونا تھا۔ ہندوستانی جوانوں نے جس جاں بازی وجاں نثاری کا مظاہرہ کرکے اس منصوبہ بند سازشوں کو ناکام بنایا وہ تاریخ کا ایک روشن باب بن گیا ہے۔ اس جنگ میں ہندوستان کی شاندار کامیابی یہاں کی مسلح افواج کے بے شمار تمغوں میں ایک دیدہ زیب تمغہ ہے۔ یہ جنگ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ پاکستان شروع سے ہی ہندوستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس نے ہمیشہ منہ کی کھائی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کی روش میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ خواہ وہ ممبئی پر ہونے والا خوفناک دہشت گردانہ حملہ ہو جس میں 166 افراد کی جانیں ضائع ہوئی تھیں یا پھر حالیہ برسوں میں پٹھان کوٹ، اڑی اور اب پلوامہ میں دہشت گردانہ اور خود کش حملے ہوں۔ حافظ سعید کو پوری دنیا ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھتی ہے۔ پلوامہ کا خود کش...