ناوابستہ تحریک کی 18ویں سربراہ کانفرنس 


آذر بائیجان کے دار الحکومت باکو میں ناوابستہ تحریک کی 18ویں سربراہ کانفرنس دنیا کے تمام مشاہدین کے لئے اس یاد دہانی کے ساتھ ختم ہوگئی کہ یہ تحریک ابھی بھی زندہ وپائندہ ہے۔ ناوابستہ تحریک کا قیام تقریباً 6دہائی قبل عمل میں آیا تھا اور تبھی سے مغرب کے تبصرہ نگار اس کا تعزیت نامہ لکھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی نظر میں یہ تحریک دم توڑ چکی ہے لیکن بار بار وہ غلط ثابت ہوئے ہیں۔ یہ حقیقت کہ تنظیم کی 18ویں سربراہ کانفرنس کی میزبانی آذر بائیجان نے کی جو خود اس تنظیم میں 2011میں شامل ہوا، یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کی اہمیت وافادیت ابھی باقی ہے۔اور آج کے بدلتے حالات میں اس کے رکن ممالک اس کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ دنیا میں ابھی بھی ایسے لوگ ہیں جنہیں اس تنظیم پر کافی بھروسہ ہے اور وہ جانتے ہیں کہ یہ تنظیم وہ پلیٹ فارم ہے جہاں سے تیسری دنیا کے ملک ایک آواز ہو کر بول سکتے ہیں۔آج کی دنیا میں جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق کام کرتی ہیں، ناوابستہ تحریک وہ تنظیم ہے جہاں سے اس کے رکن مماملک عالمی سیاست میں اپنی بات منوا سکتے ہیں۔

ناوابستہ تحریک کے ایک بانی رکن کی حیثیت سے ہندوستان نے اس تنظیم کی توسیع وترقی میں کافی اہم کردار ادا کیا ہے۔ باکو کی سربراہ کانفرنس میں ہندوستانی وفد کی قیادت نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائڈو نے کی۔ کانفرنس سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ تحریک کے اصولوں اور مقاصد کے تئیں ہندوستان کی عہد بستگی سے سبھی بخوبی واقف ہیں اور اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

ادھر پاکستان نے امید کے مطابق کشمیر کے بارے میں اپنا واویلا جاری رکھا۔ اس موضوع پر پاکستانی صدر عارف علوی کے بیان کا جواب دیتے ہوئے جناب وینکیا نائڈو نے پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دیا اور کہا کہ اسلام آباد کو سرحد پار کی دہشت گردی کی پالیسی کو جائز قرار دینے کی غرض سے کشمیر پر بیان بازی کی پالیسی کے استعمال کو بند کردینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان دہشت گردی کی حمایت اور اس کی مالی اعانت بند کردے تو یہ نہ صرف اس کے لئے اچھا ہوگا بلکہ باقی دنیا کے حق میں بھی ہوگا۔ سربراہ کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں ہر طرح کی دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کا عہد کیا گیا اور اس طرح اس نے دہشت گردی کے بارے میں ہندوستانی موقف کی تائید بھی کردی۔سرد جنگ کے زمانے میں دنیا دو نظریاتی کیمپوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک بلاک کی قیادت سابق سوویت یونین کرتا تھا جبکہ دوسرے کی امریکہ۔ لیکن تب سے لے کر اب تک دنیا کافی بدل چکی ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں بدلتی وابستگی کے ساتھ ہی ناوابستہ تحریک کو بھی اپنے رول میں تبدیلی لانی پڑی۔ علاقائی اور عالمی سیاست میں تبدیلی کے باعث ناوابستہ تحریک کے رکن ملکوں کو بھی خود کو تقاضہ کے مطابق ڈھالنا پڑا۔ ان سب کے باوجود اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اقوام متحدہ سے باہر ناوابستہ تحریک دنیا کی واحد سب سے بڑی تنظیم ہے۔ اس کے 120رکن ہیں جو دنیا کی آبادی کے دو تہائی حصہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگرچہ سیاسی اور فوجی طاقت آج کافی حد تک دنیا چلا رہی ہے تاہم ناوابستہ تحریک کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ 

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اپنا الگ ایجنڈہ طے کرنے کی بجائے، سربراہ کانفرنس نے اقوام متحدہ سے وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے کردار کی ترجمانی کی۔ باکو اعلامیہ میں کثیر جہتی کو فروغ دینے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو مستحکم بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ کافی دنوں سے اقوام متحدہ، خاص طور پر جنرل اسمبلی کی اصلاحات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ناوابستہ تحریک دنیا کی آبادی کی اکثریت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اور یہ تحریک عالمی ادارے کی اصلاحات کے لئے برابر دباؤ ڈالتی رہی ہے۔ اب اصلاحات کی ذمہ داری اس عالمی ادارے پر ہے کہ وہ کب اسے عملی جامہ پہناتا ہے۔ 

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اینٹونیو گتریس(Antonio Guterres) نے کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں اعتماد میں بڑھتی کمی ، گلوبلائزیشن (Globalisation)میں لوگوں کا کم ہوتا اعتماد اور دنیا میں بڑھتے تشدد جیسے مسائل کی جانب توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ ان مسائل کے حل کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ جناب گتریس کے اس بیان کے بعد امید ہے کہ ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ اور ناوابستہ تحریک دونوں تنظیمیں مل کر کام کریں گی۔ 

Comments

Popular posts from this blog

موضوع: وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مطالبہ

پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے ذریعے خالصتانی علیحدگی پسندی کے احیاء کی ناپاک کوشش

جج صاحبان اور فوجی افسران پلاٹ کے حقدار نہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے جج کا تبصرہ