Posts

موضوع:لندن کے دہشت گرد کے پاکستان سے رابطے

گزشتہ ہفتے لندن کے مشہور زمانہ لندن برج پر جس 28 سالہ نوجوان نے دو افراد کو چھرا گھونپ کر مارڈالا اور مزید تین افراد کو شدید طور پر زخمی کیا تھا وہ لندن پولیس کے ہاتھوں خود بھی مارا گیا لیکن ماضی کے اس کے کارنامے بہت چونکانے والے ہیں۔ یوں تو وہ برطانوی شہری تھا لیکن نسلا پاکستانی تھا اور اس کی کمسنی کا کچھ حصہ پاکستان میں گزرا تھا۔ اس کے بارے میں لندن پولیس اور دوسرے ذرائع سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے اس طور پر پروان چڑھایاگیا تھا کہ جہاد اور شہادت جیسے الفاظ رگ جاں کی طرح اس کی سوچ کا حصہ بن گئے تھے۔ اس کی برین واشنگ اس طور پر ہوئی تھی کہ گویا وہ پیدائشی طور پر دہشت گرد تھا۔2012میں اسے لندن کی عدالت سے سزا ہوئی تھی اور کئی سال جیل میں رہا۔ اس کا نام عثمان خان تھا۔ عدالت نے آٹھ سال کی سزا سنائی تھی۔ سزا کی وجہ یہ تھی کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر موجودہ برٹش وزیراعظم بورس جونسن کو، جو اس وقت لندن کے میئر تھے ہلاک کرنے، لندن کے اسٹاک ایکسچینج اور ویسٹ منسٹر میں واقع پارلیمنٹ کمپلیکس کو اڑادینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ان کا ارادہ ٹھیک ویسا ہی حملہ کرنا تھا ...

موضوع:ایران کے احتجاجات خلیج میں امن واستحکام کی صورت حال کیلئےضرررساں

حکومت ایران نے گزشتہ مہینے اعلان کیا کہ وہ پٹرول کی راشن بندی کرنے جارہی ہے تاکہ اس سے حاصل ہونے والے اضافی پیسے سے غریب شہریوں کی مدد کی جاسکے۔ حکومت کے اس اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوگیا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف لوگ احتجاجا سڑکوں پر اتر آئے اور اس احتجاج نے جلد ہی متعدد شہروں کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ان مظاہروں نے دھیرے دھیرے سیاسی انتشار کی صورت اختیار کرلی جس سے حکومت کے استحکام کو خطرہ لاحق ہوگیا۔ ایرانی حکام نے اس انتشار کے لیے ملک کے دشمنوں اور جلا وطن اپوزیشن گروپوں کو مورد الزام ٹھہرایا اور اس سے نپٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے۔ حکومت مخالف مظاہروں کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ کو بھی تقریباً پوری طرح سے بند کردیا گیا۔ پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر کے مطابق ایران کے دشمنوں کا مقصد ان مظاہروں اور احتجاجات کے ذریعہ ملک کے وجود کو خطرے میں ڈالنا تھا۔ اگرچہ ایران نے مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دعوی کیا ہے کہ مظاہروں کے دوران کم سے کم 208 لوگ مارے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ احتجا...

موضوع:کرتارپور کوریڈور پاکستان کی بدنیتی کامظہر

گزشتہ ماہ جب سرحد کی دونوں جانب کرتارپور صاحب کوریڈور کا افتتاح ہوا تھا تو ایک اچھی فضا قائم ہوئی تھی کیونکہ ہندوستان کے لوگوں کی بالعموم اور سکھ عقیدتمندوں کی بالخصوص ایک دیرینہ خواہش تھی کہ گرودوارہ کرتارپور صاحب اور بابا ڈیرا نانک گورداس پور کے درمیان کوریڈور کی تعمیر ہو تاکہ عقیدتمندوں کو آنے جانے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ ان دونوں مقدس مقامات کا فاصلہ محض چند کلو میٹر کا ہے لیکن تقسیم کے بعد ان کی دوریاں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ گزشتہ 70سال سے بھی زیادہ عرصہ سے لوگ کرتارپور صاحب کے دیدار سے محروم تھے۔ گزشتہ سال پاکستان کی طرف سے یہ رضامندی ظاہر کی گئی کہ اس راہداری کو تعمیر کیاجائے گا۔ بہرحال یہ خبر قدرتی طور پر باعث مسرت تھی۔ یہ بات بھی اطمینان بخش تھی کہ ایک سال کے عرصے میں دونوں ملکوں نے اپنے اپنے حصہ کی راہداری کا کام مکمل کرلیا تھا اور گزشتہ ماہ کے اوائل میں اس کا افتتاح بھی ہوگیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس کا افتتاح کرتے ہوئے اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا کہ انہوں نے ہندوستان کے لوگوں کی ایک دیرینہ خواہش کا احترام کیا اور لوگوں کے جذبات کو سمجھا۔ نہ صر...

موضوع:مقبوضہ مغربی کنارہ میں اسرائیلی بستیوں کو صدر ٹرمپ کی منظوری

امریکہ نے مقبوضہ مغربی کنارہ میں اسرائیلی بستیوں کو قانونی قرار دیا ہے۔ اس بارے میں وزیر خارجہ مائک پامپیو نے حال ہی میں اعلان کیا تھا۔ امید کے برعکس امریکہ کی جانب سے یہ اعلان نہ صرف مغربی کنارہ کے بارے میں عالمی اتفاق رائے کے خلاف ہے بلکہ دو فریقوں سے تعلق رکھنے والی امریکہ کی اس پالیسی کے خلاف بھی ہے جو1967 کی جنگ کے بعد سے چلی آرہی تھی۔ اس پالیسی کو بے ربط قرار دیتے ہوئے جناب پامپیو نے اعلان کیا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کا قیام بین الاقوامی قانون کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک مغربی کنارے اور اسرائیلی بستیوں کی حیثیت کا تعلق ہے تو اس مسئلہ کو خود اسرائیلی اور فلسطینی بات چیت کے ذریعے حل کرلیں گے۔ 1967 کی جنگ کے دورن اسرائیل نے مشرقی یروشلم ، سنائی جزیرہ نما، گولان کی پہاڑیوں، غزہ پٹی اور مغربی کنارے کے جن حصوں پر قبضہ کیا تھا، وہاں اپنی بستیاں بسالیں۔ بستی بسانے کا عمل جنگ کے خاتمہ کے فوراً بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔ سب سے پہلے اس نے یروشلم کے مشرقی علاقہ کو اپی عملداری میں لیا جس پر جنگ سے پہلے اردن کا کنٹرول تھا۔ اس کے بعد اس نے گولان کی پہاڑیوں پر بستی بسانا شر...

موضوع:صدر ٹرمپ کا اچانک دورۂ کابل، امید کی ایک کرن؟

اچانک امریکی صدر ڈونل ٹرمپ گزشتہ دنوں افغانستان کی راجدھانی کابل پہنچے اور افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں سے ملے اور شکریہ ادا کرنے کی رسم نبھائی۔ یاد رہے کہ صدر بننے کے بعد مسٹر ٹرمپ کا یہ پہلا دورہ افغانستان تھا۔ حالانکہ اپنے دور صدارت کے درمیان انہوں نے افغانستان اور اس حوالے سے جنوبی ایشیا سے متعلق کئی اہم فیصلے بھی کئے لیکن افغانستان ان کا جانا نہیں ہواتھا۔ جو اہم فیصلے انہوں نے کئے تھے ان میں جنوبی ایشیا سے متعلق ایک نئی امریکی حکمت عملی نافذ کرنے کا فیصلہ بھی تھا۔ اس وقت انہوں نے پاکستان کے حوالے سے کافی سخت موقف اختیار کیا تھا جس کے تحت انہوں نے پاکستان کو دی جانے والی فوجی اور اقتصادی امداد کو معطل کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔ اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے یہ تک کہا تھا کہ پاکستان کو امریکہ نے کروڑوں روپئے کی امداد فراہم کی لیکن اس کے جواب میں پاکستان کی طرف سے صرف جھوٹ اور دھوکہ ملا۔ بہرحال لیکن جنوبی ایشیا سے متعلق اس نئی پالیسی کے اعلان کے بعد کچھ دوسرے فیصلے بھی آئے۔ ان میں ایک بات یہ بھی سننے میں آئی کہ دوحہ میں طالبان کے نمائندوں اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا سلس...

موضوع: صدر گوت بایا کے دورے سے ہند-سری لنکا رشتے ہوئے مضبوبط

سری لنکا کے کسی بھی نومنتخب صدر یا وزیراعظم کا سب سے پہلے ہندوستان کا دورہ کرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ صدر گوت بایا نے بھی اپنا عہدہ سنبھالنے کے دس دن بعد سب سے پہلے نئی دہلی کا اپنا سرکاری دورہ کیا۔ ایسا ماضی میں بھی ہوچکا ہے۔ ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں۔ان تعلقات میں ہمیشہ گرمجوشی دیکھنے کو ملی ہے۔ تاہم دونوں ملکوں کے درمیان بعض معاملوں میں کبھی کبھی نظریات کا اختلاف رہا ہے جسے موجودہ حقائق اور حقیقی توقعات کی روشنی میں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ گوت بایا کے صدر کی حیثیت سے انتخاب کے چند ہی دنوں بعد وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ان سے ملاقات کرنے کیلئے کولمبو کا دورہ کیا۔ انہوں نے نئی دہلی کی جانب سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کا ایک خط انہیں سونپا جس میں انہیں ہندوستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس دعوت نامہ کو قبول کرتے ہوئے بالآخر جناب گوت بایا نے سب سے پہلے ہندوستان کا دورہ کیا۔ صدر گوت بایا نے اپنے دورے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کو بھی سری لنکا کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ امید ہے کہ جناب مودی کے کولمبو دورے کی تفصیلات جلد طے ک...

موضوع: باجوہ کے ایکسٹینشن پر سپریم کورٹ کا فیصلہ سویلین قیادت

کے لیے اختیارات استعمال کرنے کا وسیلہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے کے فیصلے پر روک لگاکر دراصل ایک بہت بڑی بحث کے لیے راہ ہموار کردی ہے۔ دراصل آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع میں کلیتاً روک عدالت نے نہیں لگائی ہے بلکہ فوری طور پر تین سال کی بجائے 6 ماہ کے ایکسٹینشن کو عارضی طور پر منظوری دے کر حکومت پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ وہ تکنیکی خامیوں اور ضابطے کی خلاف ورزیوں کو دور کرے اور باقاعدہ آرمی چیف کے ایکسٹینشن یا دوبارہ بحالی کے تعلق سے کوئی قانون بنائے تاکہ کوئی ابہام یا جھول باقی نہ رہے۔ سپریم کورٹ نے گویاپارلیمنٹ کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہی اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے۔ سپریم کورٹ نے فوری طور پر ایک آئینی بحران کو ٹال دیا ہے لیکن پاکستان کے وزیر اعظم اور ان کی حکومت کو زبردست سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پہلا سوال یہی اٹھا جیسا کہ عدالت نے اشارہ بھی کیا کہ وزیر اعظم نے اپنی طرف سے 19 اگست 2019 کو ہی نوٹیفکیشن جاری کردیا کہ جنرل باجوہ کو تین سال کا ایکسٹینشن دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ان کی مدت ملازمت 29 نومبر کو ختم ہونے ...